resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بھائی کو زکوۃ دینے کا حکم(4151-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! میرے سگے بھائی کو کچھ بیماریاں ہیں، جن کی وجہ سے وہ اچھی ملازمت حاصل کرنے کے قابل نہیں ہیں، ان کا کنبہ دو بچوں سمیت چار افراد پر مشتمل ہے، وہ والدین کے گھر میں رہتے ہیں اور ان کے نام پر کوئی جائیداد بھی نہیں ہے، مجھے یقینی طور پر علم نہیں کہ ان کی اہلیہ کے پاس سونا یا ان کے نام کوئی جائیداد ہے یا نہیں اور اس بات کی تصدیق کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہے، لیکن مجھے یقین ہے کہ ان کی مالی حالت نہایت خراب ہے، میں خاموشی سے ان کی مدد کرنا چاہتا ہوں، کیا میں انہیں زکوٰة دے سکتا ہوں یا کسی اور ذریعہ سے ان کی مدد کروں؟

جواب: واضح رہے کہ اگر مستحق بھائی صاحبِ نصاب نہیں ہے، تو اس کو زکوۃ دینا جائز ہے، بشرطیکہ اس بھائی کے کھانے پینے کے اخراجات آپ کے ساتھ مشترک نہ ہوں، اور اگر کھانے پینے کے اخراجات مشترک ہوں تو پھر زکوۃ دینا جائز نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الهندية: (190/1)
وَالْأَفْضَلُ فِي الزَّكَاةِ وَالْفِطْرِ وَالنَّذْرِ الصَّرْفُ أَوَّلًا إلَى الْإِخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ ثُمَّ إلَى أَوْلَادِهِمْ۔

الدر المختار مع رد المحتار: (346/2، ط: دارالفکر)
(ولا) إلى (من بينهما ولاد) ولو مملوكا لفقير
(قوله: وإلى من بينهما ولاد) أي ‌بينه ‌وبين ‌المدفوع ‌إليه؛ لأن منافع الأملاك بينهم متصلة فلا يتحقق التمليك على الكمال هداية والولاد بالكسر مصدر ولدت المرأة ولادة وولادا مغرب أي أصله وإن علا كأبويه وأجداده وجداته من قبلهما وفرعه وإن سفل۔۔۔۔ وكذا كل صدقة واجبة كالفطرة والنذر والكفارات، وأما التطوع فيجوز بل هو أولى كما في البدائع

بدائع الصنائع: (کتاب الزکوۃ، 50/2، ط: سعید)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

bhai ko zakat / zakaat dene / daine ka hukum, Ruling on paying Zakat to a brother

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat