عنوان: شبینہ کا حکم (104189-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! آج کل رواج ہے کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں لوگ شبینہ پڑھتے ہیں، اور اس میں بہت سے تکلفات ہوتے ہیں، کیا اس طرح شبینہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: واضح رہے کہ اگر شبینہ میں تراویح کی نماز پڑھائی جاتی ہو، نہ کہ نفل نماز، اور اس میں فضول خرچی، شور شرابہ، نام و نمود، بلا ضرورت چراغاں، اور ضرورت سے زائد لاؤڈ اسپیکر کا استعمال نہ ہو، فرائض اور واجبات کی طرح پابندی بھی نہ ہو، اور تمام لوگ ذوق وشوق کے ساتھ قرآن کریم سنتے ہوں، نیز قرأت اس طرح کی جاتی ہو کہ حروف اور زیر زبر سمجھ میں آتے ہوں، اور غلطی اور متشابہ کا خیال بھی رکھا جاتا ہو، تو شبینہ جائز ہے، ورنہ جائز نہیں ہے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


قال اللہ تعالیٰ:

{وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلاً}

[مزمل: ۴]

کما فی الحدیث النبوی:

عن عبداللّٰہ بن عمرو أن رسول اللّٰہﷺ قال: لم یفقہ من قرأ القراٰن في أقل من ثلٰث رواہ الترمذی وأبوداؤد والدارمی۔

(ترمذي شریف، أبواب القراء ۃ، قبیل أبواب تفسیر القرآن، النسخۃ الہندیۃ ۲/۱۲۳، دار السلام رقم:۲۹۴۹)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 577
shabeenah / shabeeneh ka hokom / hukum / hukom /hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Taraweeh Prayers

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.