resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: مرحوم کی میراث میں بیٹے کے ہوتے ہوئے مرحوم کی بہن کا حصہ

(41960-No)

سوال: مفتی صاحب! ہمارا ایک گھر جو میری والدہ کے نام تھا، اس کے پیسے والد صاحب نے ہی دیے تھے، اب والد اور والدہ دونوں فوت ہو چکے ہیں، مگر والد صاحب کی ایک چھوٹی بہن ابھی زندہ ہیں۔ کیا اس بہن کا بھی اس گھر میں حصہ بنتا ہے؟ ہمارے والد کے ورثاء میں ہم دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ براہِ کرم جواب عنایت فرما دیں۔ شکریہ

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر گھر بظاہر والدہ کے نام پر ہو، لیکن حقیقت میں اس کی خریداری یا قیمت والد صاحب نے ادا کی ہو اور اپنی زندگی میں اصل مالک بھی وہی ہوں تو شرعاً وہ گھر والد صاحب کی ملکیت شمار ہوگا، اور ان کی وفات کے بعد یہ گھر ان کی میراث میں شامل ہو کر شریعت کے اصولوں کے مطابق ان (والد) کے موجود ورثاء (بیٹے اور بیٹیوں) کے درمیان میراث کے شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم ہوگا، نیز آپ (بیٹوں) کے ہوتے ہوئے آپ کے والد کی بہن کا آپ کے والد کی میراث میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الھندیة: (450/6، ط: دار الفکر)
ويسقط الإخوة والأخوات بالابن وابن الابن وإن سفل وبالأب بالاتفاق.

الدر المختار: (689/5، ط: سعید)
"بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة"

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster