سوال:
میں الحمد للہ ایک بیٹی کا باپ ہوں، جبکہ میرے تین بھائی اور ایک بہن حیات ہیں۔ میں اپنی زندگی میں اپنی کچھ جائیداد اور مال اپنی بیٹی اور بیوی کو ہبہ (تحفہ) کرنا چاہتا ہوں، جبکہ اپنے نام پر بھی کچھ مال و جائیداد رکھوں گا۔ الحمد للہ میں صحت مند ہوں، ذہنی طور پر بھی مکمل طور پر درست ہوں، اور میرے والدین کا بھی کافی عرصہ پہلے انتقال ہوچکا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا اپنی بیوی اور بیٹی کو اپنی جائیداد یا مال ہبہ (Gift) کرنے سے پہلے مجھے اپنے بھائیوں اور بہن سے اجازت لینا ضروری ہے؟
جواب: واضح رہے کہ آپ کو اپنے ذاتی مال اور جائیداد میں تصرّف کرنے کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ آپ اپنی زندگی میں اپنے مال وجائیداد کے بذات خود مالک ہیں، لہذا آپ اپنے مال اور جائیداد میں سے بہن بھائیوں سے اجازت لیے بغیر اپنی بیوی اور بیٹی کو مالکانہ تصرّف اور قبضہ کے ساتھ ہبہ (Gift) کرسکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: (201/3)
"المادة (1192) - (كل يتصرف في ملكه كيفما شاء. لكن إذا تعلق حق الغير به فيمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال. مثلاً: الأبنية التي فوقانيها ملك لأحد وتحتانيها لآخر فبما أن لصاحب الفوقاني حق القرار في التحتاني ولصاحب التحتاني حق السقف في الفوقاني أي حق التستر والتحفظ من الشمس والمطر فليس لأحدهما أن يعمل عملاً مضراً بالآخر بدون إذنه ولا أن يهدم بناء نفسه).
كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لايجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير. انظر المادة (1197).
الھندیة: (الباب الثانی فیما یجوز من الھبة و ما لا یجوز، 378/4، ط: دار الفکر)
"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية".
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی