resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: تقسیم میراث سے قبل اپنا حصہ معاف کرنا

(46213-No)

سوال: میرے بہنوئی کا انتقال 20 اگست 2025 کو ہوا، جبکہ ان کے والد کا انتقال تقریباً چار ماہ بعد 2 دسمبر 2025 کو ہوا۔
تفصیل یہ ہے کہ میرے بہنوئی کی والدہ ایک پلازے کی مالک تھیں۔ ان کا انتقال 2009 میں ہوا۔ والدہ کے انتقال کے بعد تمام ورثاء نے اپنی رضامندی سے اپنا اپنا وراثتی حصہ مرحوم بہنوئی کو بطور ہبہ (Gift) دے دیا، جس کے نتیجے میں پلازہ مکمل طور پر بہنوئی کی ملکیت بن گیا اور ان کے نام منتقل ہو گیا۔
بعد ازاں بہنوئی نے اپنی وفات سے تقریباً تین سال قبل یہ پلازہ تقریباً دو کروڑ روپے میں فروخت کر دیا۔ فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا ایک بڑا حصہ انہوں نے اپنے والد کے ساتھ مشترکہ کاروبار سے متعلق قرضوں کی ادائیگی میں خرچ کیا۔ یہ قرض مشترکہ کاروبار کا تھا جس میں بہنوئی اور ان کے والد دونوں شریک تھے۔ اس کے علاوہ کچھ رقم دیگر گھریلو اور کاروباری اخراجات میں بھی خرچ ہوئی۔ اس وقت اس فروخت شدہ جائیداد کی رقم میں سے تقریباً 90 لاکھ روپے موجود ہیں جبکہ باقی رقم خرچ ہو چکی ہے۔
اب بہنوئی کی بہنیں یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ ان کے بھائی اور والد اپنی زندگی میں ان سے یہ کہا کرتے تھے کہ پلازے یا اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم میں سے انہیں بھی حصہ دیا جائے گا۔ تاہم اس حوالے سے کوئی تحریری معاہدہ، ہبہ نامہ، اقرار نامہ یا وصیت موجود نہیں ہے۔ نہ ہی بہنوئی نے اپنی وفات سے قبل اپنی اہلیہ یا کسی اور شخص کو یہ ذمہ داری سونپی تھی کہ ان کی وفات کے بعد بہنوں کو کوئی مخصوص رقم یا حصہ ادا کیا جائے۔
مزید یہ کہ بہنوئی کا انتقال ان کے والد کی زندگی میں ہو گیا تھا، جبکہ والد کا انتقال بعد میں 2 دسمبر 2025 کو ہوا۔
ان حالات میں درج ذیل امور کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:
1) کیا بہنوئی کی بہنیں اس فروخت شدہ پلازے یا اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم میں شرعاً کسی حصے کی حق دار ہیں، جبکہ وہ پلازہ والدہ کے انتقال کے بعد تمام ورثاء کی رضامندی اور ہبہ کے ذریعے مکمل طور پر بہنوئی کی ملکیت بن چکا تھا؟
2) اگر بہنوئی اور ان کے والد صرف زبانی طور پر یہ کہا کرتے تھے کہ بہنوں کو بھی حصہ دیا جائے گا، لیکن اس پر نہ کوئی باقاعدہ ہبہ ہوا، نہ رقم ان کے قبضے میں دی گئی، نہ کوئی تحریری دستاویز بنائی گئی اور نہ ہی کوئی وصیت کی گئی، تو کیا صرف اس زبانی بات کی بنیاد پر بہنوں کا کوئی شرعی حق ثابت ہوتا ہے؟
3) کیا بہنوئی کی اہلیہ یا دیگر ورثاء پر بہنوئی کی بہنوں کو کوئی رقم ادا کرنا شرعاً لازم ہے؟
4) اگر پلازے کی فروخت سے حاصل شدہ رقم کا بڑا حصہ مشترکہ کاروبار کے قرضوں کی ادائیگی اور دیگر جائز اخراجات میں خرچ ہو چکا ہو، اور اس وقت تقریباً 90 لاکھ روپے باقی ہوں، تو اس صورت میں شرعی حکم کیا ہوگا؟
5) بہنوئی کے انتقال کے بعد ان کے ترکہ کی تقسیم کرتے وقت کیا اس دعوے کی بنیاد پر بہنوں کے لیے کوئی حصہ یا حق متعین کیا جائے گا، جبکہ اس دعوے کے حق میں کوئی وصیت یا تحریری ثبوت موجود نہیں؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کی تفصیلی وضاحت فرما دیں-
تنقیح: جب ورثاء نے اپنا اپنا وراثتی حصہ بہنوئی کو دیا تو اس وقت ترکہ کی تقسیم کس طرح ہوئی ؟
کیا کوئی وارث محض زبانی دست بردار ہوا ہے یا سب سے نے کچھ نہ کچھ حصہ لیا تھا ؟
اگر حصہ مل چکا تھا تو اب بہنیں کیوں مطالبہ کررہی ہیں ؟
جواب تنقیح: بہنوئی کی والدہ کے انتقال کے وقت ان کا والد ان کی والدہ ان کا خاوند ان کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا وارث تھے ترکہ تقسیم نہیں ہوا تھا تمام ورثا نے پلازے کو بیٹے کے نام کروا دیا تھا اور والدہ کا سونا جو کے 70 تولے تھا دو بیٹیوں کی شادی اس وقت نہیں ہوئی تھی تو ان دونوں کو دے دیا گیا تھا شادی کے وقت ۔

جواب: واضح رہے کہ شریعتِ مطہّرہ میں وراثت ایک لازمی حق ہے، جو ترکہ کی تقسیم سے پہلے معاف کرنے یا اپنے حصے سے بلا عوض دستبردار ہونے سے ساقط نہیں ہوتا، لہٰذا تقسیمِ ترکہ سے قبل کسی وارث کا بلا عوض اپنے حصے سے دستبردار ہونا یا اسے معاف کرنا شرعاً معتبر نہیں۔
چنانچہ سوال میں ذکر کی گئی صورت میں وراثت کی تقسیم سے پہلے جو ہبہ کیا گیا ہے، وہ شرعاً معتبر نہیں تھا، لہٰذا ترکہ کی از سرِ نو شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کی جائے گی اور جس وارث نے اپنے شرعی حصے سے زیادہ وصول کیا ہے، اس پر لازم ہے کہ زائد حصہ واپس کرے، اور وہ حصہ ان ورثاء کو دیا جائے جنہیں اپنے مقررہ حصے سے کم ملا ہو یا بالکل نہ ملا ہو، تاکہ ہر وارث کو اس کا شرعی حق مکمل طور پر حاصل ہو جائے۔
البتہ جب تمام ورثاء اپنے اپنے شرعی حصے وصول کرلیں، اس کے بعد اگر کوئی وارث اپنی خوش دلی سے اپنے حصے میں سے کسی دوسرے وارث یا کسی اور شخص کو کچھ یا پورا حصہ ہبہ کرنا چاہے تو شرعاً اس کی اجازت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*سنن ابن ماجہ:(کتاب الوصایا، رقم الحدیث:2703)*
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ زَيْدٍ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ فَرَّ مِنْ مِيرَاثِ وَارِثِهِ، قَطَعَ اللَّهُ مِيرَاثَهُ مِنَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".

*تكملة رد المحتار: (505/7، ط: سعید)*
الإرث جبري لَا يسْقط بالإسقاط.

*الأشباه و النظائر: (ما یقبل الاسقاط من الحقوق، 272/1، ط: دار الكتب العلمية)*
ﻟﻮ ﻗﺎﻝ اﻟﻮاﺭﺙ: ﺗﺮﻛﺖ ﺣﻘﻲ ﻟﻢ ﻳﺒﻄﻞ ﺣﻘﻪ؛ ﺇﺫ اﻟﻤﻠﻚ ﻻ ﻳﺒﻄﻞ ﺑﺎﻟﺘﺮﻙ

*العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (2/ 226)*
المتبرع لايرجع بما تبرع به على غيره كما لو قضى دين غيره بغير أمره.

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster