resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: مرحوم والد اور مرحوم بیٹی کی میراث کی تقسیم، نیز ذہنی معذور وارث کی میراث کس کے حوالہ کی جائے؟

(45175-No)

سوال: وراثت کی تقسیم کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔
میرے والد کا انتقال 1977ء میں ہوا، انہوں نے اپنے پس ماندگان میں درج ذیل ورثاء چھوڑے:
ایک بیوی (یعنی میری والدہ)، دو بیٹے (میں اور میرا بھائی) اور تین بیٹیاں (میری تین بہنیں)، ان تین بہنوں میں سے ایک کا انتقال 2022ء میں ہوگیا۔ براہِ کرم شریعت کے مطابق بتائیں کہ والد کی جائیداد میں ہر وارث کا کتنا حصہ ہوگا؟
نیز میری جو بہن 2022ء میں وفات پا گئی، اس کے حصے کے بارے میں بھی رہنمائی فرمائیں۔ میری مرحومہ بہن کے ورثاء میں ایک بیٹا ہے، جس کی عمر تقریباً 22 سال ہے، لیکن وہ معذور (آٹسٹک) ہے اور اپنے مالی یا دیگر معاملات خود سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس کے والد (یعنی میرے بہنوئی) نے دوسری شادی کر لی ہے اور مالی اعتبار سے خوش حال ہیں، اس صورتِ حال میں شریعت کی روشنی میں میری مرحومہ بہن کے حصے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
مزید یہ بھی خدشہ ہے کہ اگر مرحومہ بہن کا حصہ اس کے بیٹے کے والد کے حوالے کیا جائے تو ممکن ہے وہ حصہ حقیقت میں اس بچے تک نہ پہنچے، ایسی صورت میں شریعت کیا رہنمائی دیتی ہے؟ کیا مرحومہ بہن کا حصہ باقی ورثاء میں تقسیم کیا جا سکتا ہے یا ایسا کرنا شرعاً ناجائز اور ممنوع ہے؟

جواب: 1) مرحوم والد کی تجہیز وتکفین کے جائز اورمتوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو آٹھ (8) حصوں میں تقسیم کی جائے گی، جس میں سے بیوہ کو ایک (1) حصہ، دونوں بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو دو (2) حصے اور تینوں بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو ایک (1) حصہ ملے گا۔
فیصد کے اعتبار سے بیوہ کو %12.5 فیصد حصہ، دونوں بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو %25 فیصد حصہ اور تینوں بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو ایک %12.5 فیصد حصہ ملے گا۔
*نوٹ:* مرحومہ بیٹی کو اپنے والدِ مرحوم کی میراث سے ملنے والا حصہ مرحومہ بیٹی کی وفات کے بعد اس کے شرعی ورثاء میں شریعت کے مقررہ اصولِ میراث کے مطابق تقسیم ہوگا۔ اس کی تفصیل اور شرعی تقسیم جواب کے اگلے حصے میں ملاحظہ فرمائیں۔
2) مرحومہ کی قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد مرحومہ کو اپنے والد مرحوم کی میراث سے ملنے والا %12.5 فیصد حصہ اور مرحومہ کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو بارہ (12) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے شوہر کو تین (3) حصے، بیٹے کو سات (7) حصے اور والدہ کو دو (2) حصے ملیں گے، جبکہ مرحومہ کے بہن بھائیوں کو مرحومہ کی میراث میں سے کچھ نہیں ملے گا۔
فیصد کے اعتبار سے شوہر کو %25 فیصد حصہ، بیٹے کو %58.33 فیصد حصہ اور والدہ کو %16.66 فیصد حصہ ملے گا۔
3) جہاں تک مرحومہ کے معذور (آٹسٹک) بیٹے کا تعلق ہے، اگر وہ شرعاً اپنے مال کی حفاظت اور تصرّف کی صلاحیت نہیں رکھتا تو اس کا حصہ اس کے شرعی ولی (والد) کے سپرد کیا جائے گا، اور اگر یہ اندیشہ ہو کہ اس کا والد اس کا مال صحیح طور پر اس تک نہیں پہنچائے گا یا اس میں خیانت کرے گا تو محض اس اندیشے کی بنیاد پر اس بچے کا حق ساقط نہیں ہوگا اور نہ ہی یہ حصہ دوسرے ورثاء میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، بلکہ اس بچہ کے مال کی حفاظت اور اس کے اندر مفید تصرف کرنے کے درج ذیل اشخاص بالترتیب مجاز ہوں گے: (١) والد (٢) والد کا وصی (جسے والد نے اپنی وفات کے بعد اس کے مال کی حفاظت اور بچوں کی دیکھ بھال کے لیے مقرر کرتے ہوئے وصیت کی ہو)۔ (٣) دادا (جب والد کا وصی نہ ہو)۔ (٤) دادا کا مقرر کردہ وصی، اگر یہ بھی نہ ہو تو قاضی یا قاضی کا مقرر کردہ وصی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*القرآن الکریم: (النساء، الایة: 11)*
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ... وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌۚ...الخ

*وقوله تعالی: (النساء، الایة: 12)*
ولھن الربع مما ترکتم ان لم یکن لکم ولد فان کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم.... الخ.

*الدر المختار مع رد المحتار: (کتاب المأذون، مبحث في تصرف الصبي و من له الولایة، 174/6، ط: سعید)*
"وولیه أبوہ ثم وصي الأب ثم الجد أبو الأب ثم وصیه ثم الوالي أو القاضي أووصي القاضي".

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster