resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ورثاء کے مطالبہ کے باوجود میراث کو بر وقت تقسیم نہ کرنا

(52322-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! میرے والد صاحب کو وفات پائے تقریباً نو سال ہوچکے ہیں، لیکن اب تک میری والدہ نے ان کی وراثت تقسیم نہیں کی۔ والد صاحب کی ایک دکان ہے جس کا کرایہ بھی والدہ خود وصول کر رہی ہیں، اور ایک مکان بھی ہے جسے وہ فروخت کرکے تقسیم کرنا نہیں چاہتیں۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ شریعت کی رو سے اس صورتِ حال میں کیا حکم ہے؟ کیا وراثت کو اتنے عرصے تک تقسیم نہ کرنا درست ہے جبکہ ورثاء مطالبہ بھی کررہے ہوں؟ اور کیا والدہ کے لیے تمام کرایہ خود وصول کرنا جائز ہے، جبکہ دیگر شرعی ورثاء بھی موجود ہیں؟

جواب: مرحوم کی وفات کے ساتھ ہی اس کا ترکہ تمام شرعی ورثاء کی ملکیت بن جاتا ہے،
شریعتِ مطہرہ میں کسی شخص کے مال یا حق کو ناحق روکنے، اس پر قبضہ کرنے یا اسے اس کے جائز حق سے محروم رکھنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ ہر حق دار کو اس کا شرعی حق بروقت ادا کیا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جواب دہی سے بچا جا سکے۔
پوچھی گئی صورت میں آپ کی والدہ کا وراثت کی تقسیم کو مؤخر کرنا درست نہیں، والدہ پر شرعاً لازم ہے کہ مرحوم کا ترکہ شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کرکے ہر وارث کو اس کا مقررہ حصہ ادا کریں، بلا عذرِ شرعی وراثت کی تقسیم میں تاخیر کرنا یا کسی وارث کو اس کے حق سے محروم رکھنا جائز نہیں، اگر وہ بلا عذرِ شرعی ترکہ تقسیم نہیں کرتیں اور ورثاء کے حقوق روک کر رکھتی ہیں تو اس پر وہ گناہ گار ہوں گی۔
لہذا مناسب یہ ہے کہ انہیں حسنِ اخلاق اور حکمت کے ساتھ سمجھایا جائے کہ میراث کی بر وقت تقسیم (خصوصاً جب دیگر ورثاء اس کا مطالبہ کر رہے ہوں) شریعت کا حکم ہے، اور ہر حق دار کو اس کا شرعی حق ادا کرنا لازم ہے۔

اسی طرح اگر آپ کی والدہ تمام ورثاء کی رضامندی کے بغیر دکان کا پورا کرایہ خود وصول کرکے اپنے استعمال میں لا رہی ہیں تو یہ درست نہیں، دکان کے کرائے (Rent) سمیت ترکہ سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی بھی تمام ورثاء کا مشترکہ حق ہے، اسے ہر وارث کے شرعی حصے کے مطابق تقسیم کیا جائے گا یا تمام عاقل بالغ ورثاء کی باہمی رضامندی سے کسی اور طریقے پر عمل کیا جاسکتا ہے۔

تمام ورثاء کو چاہیے کہ باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ جلد از جلد ترکہ تقسیم کرلیں تاکہ کسی کا حق ضائع نہ ہو اور آئندہ اختلافات سے بھی بچا جاسکے۔
*نوٹ:* وراثت کے درست حصص بتانے کے لیے مرحوم کے تمام شرعی ورثاء (مثلاً: والدہ، بیوہ، بیٹے، بیٹیاں، والدین وغیرہ) کی مکمل تفصیل درکار ہوگی۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*القرآن الکریم: (البقرة، الآية: 188)*
وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ... الخ

*القران المجید: (سورہ النسآء، الایة: 7)*
لِلرِّجَالِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا تَرَکَ الۡوَالِدٰنِ وَ الۡاَقۡرَبُوۡنَ ۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا تَرَکَ الۡوَالِدٰنِ وَ الۡاَقۡرَبُوۡنَ مِمَّا قَلَّ مِنۡه اَوۡ کَثُرَ ؕ نَصِیۡبًا مَّفۡرُوۡضًا

*مشکوۃ المصابیح: (باب الغصب و العاریة، 254/1، ط: قدیمی)*
عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين».

*و فیھا ایضاً: (باب الوصایا، الفصل الثالث، 266/1، ط: قدیمی)*
وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه".

*الفقه الإسلامي و أدلته للزحيلي: (4984/7، ط: دار الفكر)*
ليس المرء حرا بالتصرف في ماله بعد وفاته حسبما يشاء كما هو مقرر في النظام الرأسمالي، وإنما هو مقيد بنظام الإرث الذي يعتبر في الإسلام من قواعد النظام الإلهي العام التي لا يجوز للأفراد الاتفاق على خلافها، فالإرث حق جبري.

*الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: (الباب الثالث عشر في المتفرقات، 5/ 231، المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)*
وإذا طلب أحد الشريكين القسمة وأبى الآخر فأمر القاضي قاسمه ليقسم بينهما

*درر الحكام في شرح مجلة الاحكام:(باب في بيان القسمة، المادة 1130، 128/3، ط:دار الجيل)*
"إذا طلب أحد الشريكين القسمة وامتنع الآخر عنها ‌فيقسمه ‌القاضي ‌جبرا أي حكما إذا كان المال المشترك قابلا للقسمة؛ لأن القسمة هي لتكميل المنفعة والتقسيم في المال القابل للقسمة أمر لازم."

*شرح المجلة: (المقالة الثانیة، المادة: 97، 51/1، ط: رشیدیة)*
" لايجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي."

*مجلة الاحکام العدلیه: (الکتاب العاشر، الشرکات، الباب الاول فی بیان شرکة الملک، الفصل الثانی، ص: 206، ط: نور محمد)*
"(المادة 1073) تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم."

*بدائع الصنائع: (کتاب الغصب، فصل في حكم الغصب، 148/7، ط: دار الكتب العلمية)*
"وأما حكم الغصب فله في الأصل حكمان: أحدهما: يرجع إلى الآخرة، والثاني: يرجع إلى الدنيا. أما الذي يرجع إلى الآخرة فهو الإثم واستحقاق المؤاخذة إذا فعله عن علم؛ لأنه معصية، وارتكاب المعصية على سبيل التعمد سبب لاستحقاق المؤاخذة، وقد روي عنه - عليه الصلاة والسلام - أنه قال: «من غصب شبرا من أرض طوقه الله تعالى من سبع أرضين يوم القيامة» ...(أما) الذي يرجع إلى حال قيامه فهو وجوب رد المغصوب على الغاصب۔"

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster