resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: سرکاری ملازمت ملنے کا شرعی وراثتی حصے پر اثر

(60492-No)

سوال: السلام علیکم، میرے والد کا انتقال اس وقت ہوا جب وہ ایک سرکاری ملازمت میں خدمات انجام دے رہے تھے، اس وقت سرکاری قواعد کے مطابق ان کے انتقال کی وجہ سے ان کی اولاد میں سے ایک فرد سرکاری ملازمت حاصل کرنے کا اہل تھا۔
چونکہ میں سب سے بڑا بیٹا تھا، اس لیے میں نے خاندان کے تمام افراد کی رضامندی سے وہ سرکاری ملازمت قبول کرلی، اس وقت میرے دو بہن بھائی نابالغ تھے، جبکہ ایک بالغ تھا، میری والدہ نے بھی میرے ملازمت لینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
اس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ میں مرحوم ملازم کی اولاد کی حیثیت سے یہ سرکاری ملازمت حاصل کر رہا ہوں، اب کئی سال گزر چکے ہیں اور خاندان کی دیگر جائیدادیں اور اثاثے ورثاء میں تقسیم ہوچکے ہیں، اب ایک پلاٹ باقی ہے، جسے بھی ورثاء میں تقسیم کرنا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرے والد کے انتقال کی وجہ سے سرکاری ملازمت حاصل کرنے سے میرے والد کی جائیداد میں میرے شرعی حقِ وراثت پر کوئی اثر پڑے گا؟ چونکہ میں سب سے بڑا بیٹا ہوں اور میں نے اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کی رضامندی سے سرکاری ملازمت حاصل کی تھی تو کیا اب بھی میں باقی ماندہ پلاٹ میں شرعی قانونِ وراثت کے مطابق اپنے مقررہ حصے کا حق دار ہوں؟
براہِ کرم شریعت اور اسلامی قانونِ وراثت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں اور واضح فرمائیں کہ کیا سرکاری ملازمت قبول کرنا میرے حصۂ وراثت کا بدل یا اپنے حصۂ وراثت سے دستبرداری شمار کیا جاسکتا ہے؟ جزاکم اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کی جائیداد اور دیگر اموال میں ہر وارث کا شرعی حصہ مقرر ہوجاتا ہے، لہٰذا ا آپ کے والد کے انتقال کے وقت والد کی جائیداد میں آپ کا شرعی حصہ اسی وقت متعین ہوگیا تھا۔ والد کی جگہ آپ کو جو سرکاری ملازمت ملی، اسے والد کی جائیداد کا حصہ یا آپ کے حصۂ وراثت کا بدل قرار نہیں دیا جائے گا، لہٰذا والد مرحوم کے باقی ملکیتی پلاٹ میں بھی آپ اپنے شرعی حصے کے مطابق حق دار ہوں گے، محض خاندان کی رضامندی سے سرکاری ملازمت قبول کرنے کی وجہ سے آپ اپنے شرعی حصۂ وراثت سے محروم نہیں ہوں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*رد المحتار: (759/6، ط: دار الفكر)*
التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.

*الفقه الإسلامي و أدلته: (7726/10، ط: دار الفكر)*
التركة لغة: ما يتركه الشخص ويبقيه،۔۔۔وهي عند الحنفية: الأموال والحقوق المالية التي كان يملكها الميت. فتشمل الأموال المادية من عقارات ومنقولات وديون على الغير، والحقوق العينية التي ليست مالا، ولكنها تقوم بمال أو تتصل به، كحق الشرب والمسيل والمرور والعلو، والرهن إذ يرث الورثة الدين موثقا برهنه.وخيارات الأعيان، كخيار العيب وخيار التعيين وخيار فوات الوصف المرغوب فيه. ولا تشمل عندهم الخيارات الشخصية، كخيار الشرط وخيار الرؤية وحق الشفعة، فإنها حقوق متعلقة بشخص المتوفى لا بماله.ولاتشمل أيضا المنافع كالإجارة والإعارة، لانتهاء العقد بالموت، ولأن المنافع ليست مالا عند متقدمي الحنفية.ولا تشمل قبول الوصية، فتلزم الوصية بموت الموصى له، أي قبل أن يقبل أو يرد، ويعتبر عدم الرد قبولا.والحنفية يحصرون التركة في المال أوالحق الذي له صلة بالمال فقط.

*الھندیة: (الباب الثانی فی ذوی الفروض، 447/6، ط: دار الفکر)*
و يستحق الإرث بإحدى خصال ثلاث: بالنسب و هو القرابة، و السبب وهو الزوجية، والولاء

*الھندیۃ: (447/6، ط: دار الفکر)*
التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف، كذا في المحيط۔۔۔ثم بالدين۔۔۔ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين۔۔۔ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث

*السراجي في الميراث:(ص: 5، 6، ط: مكتبة البشرى)*
"قال علماؤنا رحمهم الله: تتعلق بتركة الميت حقوق أربعة مرتبتة: الأول: يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غيره تبذير ولاتقتير، ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله، ثم تنفذ وصاياه من ثلث مابقي بعد الدين، ثم يقسم الباقي بين ورثته بالكتاب والسنة وإجماع الأمة."

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster