سوال:
ایک شخص کا انتقال ہو گیا ہے، اس نے ایک بیوہ اور دو نا بالغ بچیاں چھوڑی ہیں، جبکہ مرنے والے کے ماں باپ حیات ہیں،مجھے مرنے والے کی وراثت کی تقسیم بتائیں، نیز یہ بھی بتائیں کہ نا بالغ بچیوں کے مال کی نگہداشت کی ذمہ داری کس کی ہے؟نیز مجھے یہ بھی بتائیے کہ تجہیز و تکفین کے اخراجات اور قرض کی ادائیگی مرنے والے کی وراثت سے ادا کی جائیگی؟مفتی صاحب فیصد کے حساب سے بتائیں تو ہمیں سمجھنے میں زیادہ آسانی ہوگی۔ جزاک اﷲ خیرا
جواب: 1) مرحوم کی تجہیز و تکفین کے جائز اور متوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو ستائیس (27) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے بیوی کو تین (3)، دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو آٹھ (8) والدہ کو چار (4) اور والد کو چار (4) حصے ملیں گے۔
فیصد کے اعتبار سے بیوی کو %11.11 فیصد حصہ، دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو %29.62 فیصد حصہ، والدہ کو %14.81 فیصد حصہ اور والدہ کو %14.81 فیصد حصہ ملے گا۔
2) نابالغ بچیوں کے مال کی نگہداشت والد کے وصی (جسے والد نے اپنی وفات کے بعد اس کے مال کی حفاظت اور بچوں کی دیکھ بھال کے لیے مقرر کرتے ہوئے وصیت کی ہو) کے ذمہ ہوگی اور اگر وہ نہ ہو تو دادا کے ذمہ ہوگی۔
3) میت کے انتقال کے بعد اس کے ترکہ سے سب سے پہلے تجہیز و تکفین کے مناسب اور ضروری اخراجات ادا کیے جائیں گے، اس کے بعد میت کے ذمہ واجب الادا قرض ادا کیا جائے گا، لیکن اگر کسی شخص نے بطورِ تبرّع اور احسان اپنی طرف سے میت کے تجہیز و تکفین کے اخراجات یا قرض ادا کر دیا ہو تو پھر میت کے ترکہ سے یہ رقم نہیں لی جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکریم: (النساء، الایة: 11)*
فَإِن كُنَّ نِسَاء فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌۚ...الخ
*و قوله تعالی: (النساء، الایة: 12)*
ولھن الربع مما ترکتم ان لم یکن لکم ولد فان کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم.... الخ.
*الدر المختار مع رد المحتار: (کتاب المأذون، مبحث في تصرف الصبي و من له الولایة، 174/6، ط: سعید)*
"وولیه أبوہ ثم وصي الأب ثم الجد أبو الأب ثم وصیه ثم الوالي أو القاضي أووصي القاضي".
*السراجي في الميراث:(ص:5، 6، ط:مكتبة البشرى)*
"قال علماؤنا رحمهم الله: تتعلق بتركة الميت حقوق أربعة مرتبتة: الأول: يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غيره تبذير ولاتقتير، ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله، ثم تنفذ وصاياه من ثلث مابقي بعد الدين، ثم يقسم الباقي بين ورثته بالكتاب والسنة وإجماع الأمة."
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی