سوال:
محترم دادا صاحب نے اپنی زندگی میں اپنے بیٹے، بیٹیوں اور ان کی اولاد کی موجودگی میں اپنے ایک بیٹے کے بیٹوں کو کچھ جائیداد دے دی۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا محترم دادا صاحب کی وفات کے بعد پوتوں کو زندگی میں دی گئی یہ جائیداد بھی ترکے میں شامل ہو کر وراثت کے طور پر تقسیم ہوگی یا نہیں؟
جواب: واضح رہے کہ اگر دادا نے اپنی زندگی میں اپنی جائیداد میں سے اپنے پوتوں کو جائیداد ہبہ (تحفہ) کے طور پر دے دی تھی اور اس جائیداد کا قبضہ بھی انہیں دے دیا تھا تو وہ جائیداد دادا کی ملکیت سے نکل کر پوتوں کی ملکیت بن گئی تھی، ایسی صورت میں دادا کی وفات کے بعد وہ جائیداد ترکے میں شامل نہیں ہوگی اور نہ ہی ورثاء میں تقسیم کی جائے گی۔
البتہ اگر دادا نے صرف زبانی طور پر یہ کہا تھا کہ "یہ جائیداد تمہاری ہے" لیکن زندگی میں شرعی طور پر ہبہ مکمل نہیں کیا اور قبضہ بھی نہیں دیا تو ایسی صورت میں جائیداد دادا ہی کی ملکیت شمار ہوگی اور ان کی وفات کے بعد ان کے تمام شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار: (689/5، ط: دار الفکر)
"بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة"
الهندية: (374/4، ط: دار الفکر)
ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب.
التاتارخانیة: (فیما یجوز من الھبة وما لا یجوز، نوع منه، 431/14، ط: رشیدیه)
"و في المنتقى عن أبي يوسف: لايجوز للرجل أن يهب لامرأته و أن تهب لزوجها أو لأجنبي دارًا وهما فيها ساكنان، و كذلك الهبة للولد الكبير؛ لأن يد الواهب ثابتة علي الدار".
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی