سوال:
میرے نکاح کے وقت میرے والد صاحب نے 40 مرلے زمین بطور حق مہر انتقال کر دی، یہ فیصلہ میرے والد صاحب نے میری ساس کے ساتھ مشورہ کرکے کیا تھا، لیکن اس معاملے میں نہ مجھ سے مشورہ کیا گیا۔
یہ 40 مرلے 77 مرلے کے ایک رقبے میں سے منتقل کیے گئے تھے جو خسرہ نمبر 822 میں واقع ہے، اس کے علاوہ بھی میرے والد صاحب کے نام دیگر جائیدادیں موجود تھیں۔
بعد میں جب میرے والد صاحب نے اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان زمین تقسیم کی تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ چونکہ وہ 40 مرلے بطور حق مہر دے چکے ہیں، اس لیے اب میں ان کی باقی جائیداد میں سے ایک مرلہ بھی طلب نہیں کر سکتا، انہوں نے واضح طور پر کہا کہ یہی میرا حصہ بھی سمجھا جائے۔
اب میرے والد صاحب کے انتقال کے بعد میرے بھائی اس معاملے پر اعتراض کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ میرے والد نے ان کے حصے سے زیادہ زمین بطور حق مہر دے دی، جبکہ حق مہر ادا کرنا شوہر کی ذمہ داری ہوتی ہے، والد کی نہیں۔ اس لیے وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ یا تو میں انہیں اس 40 مرلے میں سے زمین واپس دوں یا اس کی قیمت ادا کروں۔
مزید یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر خسرہ نمبر 822 سے زمین واپس دینا ممکن نہیں ہے تو پھر میں اپنے والد کی وفات کے بعد وراثت میں جو دوسری زمین مجھے ملی ہے، اس میں سے انہیں اتنی زمین دے دوں یا اس کی قیمت ادا کروں تاکہ ان کے بقول ان کا حق پورا ہو جائے۔
میری گزارش ہے کہ درج ذیل سوالات کے شرعی جواب مرحمت فرمائیں:
1) کیا میرے والد صاحب کا میری رضامندی اور مشورے کے بغیر اپنی زمین سے میرا حق مہر ادا کرنا شرعاً درست تھا؟
2) جب 40 مرلے کا انتقال حق مہر کے طور پر ہو گیا تو کیا وہ زمین شرعاً مکمل طور پر حق مہر وصول کرنے والے کی ملکیت بن گئی؟
3) کیا میرے والد صاحب کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ حق مہر کے طور پر دی گئی زمین کو میرا حصہ قرار دے کر مجھے اپنی باقی جائیداد کی وراثت سے محروم کر دیں؟
4) کیا میرے والد صاحب کے انتقال کے بعد مجھے ان کی باقی جائیداد میں شرعی وراثت کا حق حاصل ہے؟
5) کیا شرعاً مجھ پر لازم ہے کہ میں اپنے بھائیوں کو وہ 40 مرلے واپس دوں یا اس کی قیمت ادا کروں، یا اپنی وراثت میں ملنے والی دوسری زمین میں سے انہیں حصہ دوں؟
6) کیا میرے بھائیوں کا یہ مطالبہ شرعاً درست ہے کہ چونکہ میرے والد نے میرا حق مہر اپنی زمین سے ادا کیا تھا، اس لیے میں اپنی وراثت میں سے انہیں زمین یا اس کی قیمت دوں؟
7) اگر میرے والد صاحب کا مجھے وراثت سے محروم کرنا شرعاً درست نہیں تھا تو اس صورت میں میرے اور میرے بھائیوں کے حقوق کیا ہوں گے؟
جواب: 1) واضح رہے کہ مہر کی ادائیگی شوہر کے ذمے واجب ہوتی ہے، البتہ اگر کوئی دوسرا شخص، مثلاً: والد، شوہر کی طرف سے مہر ادا کر دے اور بیوی اسے مہر کے طور پر قبول کر لے تو اصولاً مہر ادا ہو جاتا ہے، لہذا سوال میں پوچھی گئی صورت میں آپ کے والد کا آپ کی اجازت اور مشورہ کے بغیر آپ کی طرف سے مہر ادا کرنے سے مہر ادا ہوگیا ہے۔
2) جی ہاں! مہر میں مقرر چالیس (40) مرلے زمین آپ کی بیوی کی ملکیت ہے۔
3/7) والد کا بیٹے کی طرف سے مہر ادا کرنا بیٹے کے حق میں تبرع اور احسان ہے، والد کے انتقال کے بعد بیٹے کی وراثت میں سے اس زمین کے بقدر حصہ کو کم نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس بیٹے کو بھی مرحوم والد کی میراث میں سے دوسرے بھائیوں کے بقدر حصہ ملے گا۔
4) جی ہاں! مرحوم والد کے ترکہ میں آپ کا بھی شرعی حصہ ہے۔
5/6) آپ پر مہر میں دی ہوئی زمین واپس لوٹانا یا اس کی قیمت دینا یا اس کے بجائے وراثت میں ملنے والی دوسری زمین دینا شرعاً لازم نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (مطلب في ضمان الولي المهر، 140/3، ط: الحلبي)
(قوله وصح ضمان الولي مهرها) أي سواء ولي الزوج أو الزوجة صغيرين كانا أو كبيرين، أما ضمان ولي الكبير منهما فظاهر لأنه كالأجنبي. ثم إن كان بأمره رجع وإلا لا.
البحر الرائق: (188/3، ط: دار الكتاب الإسلامي)
وفي البزازية إذا أعطى الأب أرضا في مهر امرأته ثم مات الأب قبل قبض المرأة لا تكون الأرض لها؛ لأنها هبة من الأب لم تتم بالتسليم فإن ضمن المهر وأدى الأرض عنه ثم مات قبل التسليم كانت الأرض للمرأة؛ لأنه بيع فلا يبطل بالموت، وأما ضمان ولي المرأة المهر عن زوجها فلا يخلو إما أن تكون كبيرة أو صغيرة فإن كانت كبيرة فظاهر؛ لأنه كالأجنبي إذا ضمن لها المهر ويثبت لها الخيار إن شاءت طالبته وإن شاءت طالبت زوجها إن كان كبيرا وهي أهل للمطالبة ويرجع الولي بعد الأداء على الزوج إن ضمن بأمره سواء كانت الكبيرة عاقلة أو مجنونة، وأما إذا كانت صغيرة زوجها الأب وضمن مهرها فإنما صح؛ لأنه سفير ومعبر لا ترجع الحقوق إليه»
الفقه الاسلامی و ادلته: (القسم السادس : الأحوال الشخصیة ، الباب الأول : الزواج و آثارہ، 6768/9، ط: دار الفکر)
"المهر: هو كل مال متقوم معلوم مقدور على تسليمه. فيصح كون المهر ذهبا أو فضا، مضروبة أو سبيكة، أي نقدا أو حليا ونحوه، دينا أوعينا، ويصح كونه فلوسا أو أوراقا نقدية، مكيلا أو موزونا، حيوانا أوعقارا، أو عروضا تجارية كالثياب وغيرها."
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی