resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: مکان کی تعمیر کے لیے دی گئی قرض کی رقم اور والدین کی زندگی میں میراث کے مطالبے کا حکم

(63628-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! معلوم یہ کرنا تھا۔کہ میں اپنی والدہ کے گھرمیں رہتا ہوں اور یہ گھر ایک فلیٹ بیچ کر پلاٹ لیا تھا، باقی بنوانے کے لیے سارے پیسے میں نے خود لگائے تھے جو کہ میری والدہ اور تمام بہنوں کے علم میں ہے، اب مسئلہ یہ آرہا ہے کہ میں نے یہ گھر بنوانے کے لیے اچھی خاصی بڑی رقم آفس سے قرض لی تھی، جس کی ماہانہ قست ادا کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے، اس وقت کچھ ماہ سے ادا کر رہا ہوں تو کیا میں والدہ سے اس گھر کو اس وقت بیچنے کا تقاضہ کرسکتا ہوں؟ اور کیا ساتھ ہی ساتھ ساری بہنوں اور جو میرا حصہ بنتا ہے (جو رقم میں نے بنانے میں لگائی ہے اُس کے علاوہ) تو کیا والدہ کی حیاتی میں ایسا تقاضہ کرنا شرعی طور پر دُرست ہے؟ برائے مہربانی اس کا جواب عنایت فرما دیجیے گا۔
*سوال سے متعلق مطلوب وضاحٹ:* محترم اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ آپ نے مکان کی تعمیر میں جو رقم خرچ کی تھی وہ بطور قرض خرچ کی تھی یا بطور شراکت کے خرچ کی تھی یا پھر والدہ کے ساتھ تعاون کی نیت سے تبرعاً خرچ کی تھی؟
*مستفتی کی طرف سے وضاحت:*
جی قرض کے طورپر، یعنی یہ بات باقاعدہ ایک سٹیم پیپر پر لکھاولی تھی میں نے کہ یہ جو اضافی رقم میں گھر بنانے کے لیے لگا رہا ہوں یہ مجھے تقسیم کے وقت الگ سے دی جائے گی جس پر سب رضامند بھی ہیں۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ نے گھر کی تعمیر کے لیے رقم بطورِ قرض دی تھی، اس لیے آپ اپنی والدہ سے قرض کی واپسی کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ اب یہ ان کی صوابدید پر ہے کہ وہ گھر فروخت کرکے آپ کا قرض ادا کریں یا کسی اور جائز طریقے سے قرض کی ادائیگی کریں۔
جہاں تک دوسری صورت کا تعلق ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ شریعت مطہرہ میں وراثت کا حق موت کے بعد لازم ہوتا ہے، والد یا والدہ کی زندگی میں اولاد کو اپنے حصے کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، زندگی میں اگر ماں باپ اپنی اولاد کو کچھ دے دیں تو وہ ہبہ(Gift) ہوگا اور ہبہ (Gift) دینے کے لیے کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (100/2، ط: دار المعرفة)*
والأصل أن من بنى في دار غيره بناء وأنفق في ذلك بأمر صاحبه كان البناء لصاحب الدار وللباني أن يرجع على صاحب الدار بما أنفق اه

*البحر الرائق: (557/8، ط: دار الکتاب الاسلامي)*
قال مشايخ بلخ الإرث يثبت بعد موت المورث.

*الدر المختار: (5/ 157، ط: دار الفکر)*
(ولزم تأجيل كل دين) إن قبل المديون (إلا) في سبع على ما في مدينات الأشباه بدلي صرف وسلم وثمن عند إقالة وبعدها وما أخذ به الشفيع ودين الميت، والسابع (القرض) فلا يلزم تأجيله.

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster