resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: والد کا ضرورت کے وقت تعاون کرنے والے بیٹے کو رقم ہدیہ دینا

(68286-No)

سوال: السلام علیکم، میرے دو بیٹے ہیں، بڑے بیٹے کی شادی 12 سال پہلے ہوئی تھی، اس وقت میرے ذمے نو لاکھ روپے کا قرضہ تھا، میرے بڑے بیٹے نے اس وقت میری غریبی کو دیکھ کر اپنے کمائی ہوئی رقم میں سے چھ لاکھ روپے دی تھی کچھ مہینوں کے بعد واپس مجھے ٹریکٹر لانے کی ضرورت پڑی تو اس وقت اس نے ایک لاکھ روپے ٹریکٹر میں دیے، کچھ مہینوں کے بعد گائے بیھسوں کے لیے طبیلہ بنانے کی ضرورت پڑی تو اس وقت اس نے ڈیڑھ لاکھ روپے دیے، کچھ مہینوں کے بعد گھر میں شادی تھی اس وقت 55 ہزار روپے دیے، واضح رہے کہ یہ سب اس لیے کیا کہ میری غریبی پرستی تھی اور میرے بیٹے نے اپنی کمائی ہوئی رقم میں سے مجھے یہ سب پیسے میری غریبی کو دیکھ کر دیتا رہا، میرا چھوٹا بیٹا اس وقت چھوٹا تھا اب اس کی شادی کو دو سال ہو چکے ہیں، اس نے اپنے عمر کے چھوٹا ہونے کی وجہ سے باپ کی غریب پرستی میں قرض میں ایک روپیہ بھی نہیں دیا کیونکہ وہ چھوٹا تھا ہاں البتہ وہ تین سال سے گھر پر کام کر رہا تھا، ماں باپ کی گھر پر کام کاج کر رہا تھا، ان کی خدمت کر رہا تھا، چونکہ الگ سے اس نے کوئی رقم کمائی نہیں تھی اس لیے اس نے ماں باپ کی قرض میں کوئی مدد کی نہیں تھی۔
اب میرا سوال یہ ہے میں اپنے بڑے بیٹےکو جس نے قرض میں مدد کی دو لاکھ روپے واپس دینا چاہتا ہوں تو کیا میرا اس کے لیے دینا صحیح ہے ؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر بڑے بیٹے نے اپنی خوشی سے والد کی مالی تنگی اور ضرورت کو دیکھتے ہوئے مختلف اوقات میں رقم دی تھی اور یہ رقم قرض یا قابلِ واپسی کے طور پر نہیں دی تھی، بلکہ والد کی مدد اور تعاون کی غرض سے دی تھی تو والد کے ذمے اس رقم کی واپسی لازم نہیں ہے۔
البتہ والد اپنی خوشی سے بڑے بیٹے کو اس کی خدمت کی وجہ سے دو لاکھ روپے بطورِ ہدیہ دینا چاہے تو دے سکتا ہے، شرعاً اس کی اجازت ہے، بشرطیکہ دوسرے بیٹے کو محروم کرنا یا اس کے ساتھ ناانصافی کرنا مقصد نہ ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

بدائع الصنائع: (كتاب الهبة، 127/6، ط: دار الكتب العلمية)
وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في النحلى لقوله سبحانه وتعالى {إن الله يأمر بالعدل والإحسان} [النحل: 9].
(وأما) كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين كذا ذكر القاضي الاختلاف بينهما في شرح مختصر الطحاوي وذكر محمد في الموطإ ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في النحل ولا يفضل بعضهم على بعض.
وظاهر هذا يقتضي أن يكون قوله مع قول أبي يوسف وهو الصحيح لما روي أن بشيرا أبا النعمان أتى بالنعمان إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كل ولدك نحلته مثل هذا فقال لا فقال النبي - عليه الصلاة والسلام - فأرجعه وهذا إشارة إلى العدل بين الأولاد في النحلة وهو التسوية بينهم ولأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا سواء كان المحروم فقيها تقيا أو جاهلا فاسقا على قول المتقدمين من مشايخنا وأما على قول المتأخرين منهم لا بأس أن يعطي المتأدبين والمتفقهين دون الفسقة الفجرة.

عمدة القاري: (کتاب الھبة، 146/13، ط: دار إحياء التراث العربي)
يجوز التَّفَاضُل إِن كَانَ لَهُ سَبَب، كاحتياح الْوَلَد لزمانته أَو دينه أَو نَحْو ذَلِك. وَقَالَ أَبُو يُوسُف: تجب التَّسْوِيَة إِن قصد بالتفضيل الْإِضْرَار، وَذهب الْجُمْهُور إِلَى أَن التَّسْوِيَة مُسْتَحبَّة، فَإِن فضل بَعْضًا صَحَّ وَكره، وحملوا الْأَمر على النّدب وَالنَّهْي على التَّنْزِيه.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster