resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: والد کی وراثت میں بیٹی کے شرعی حق اور والدہ کی ناراضی کے باوجود اس کے مطالبے کا حکم

(68272-No)

سوال: 1) میرے والد کا تقریباً سات سال پہلے انتقال ہو گیا تھا۔ ان کے ورثاء میں ان کی بیوہ، دو بیٹے اور چھ بیٹیاں شامل ہیں۔ ان کی زرعی زمینیں اب بھی ان کے نام پر رجسٹرڈ ہیں اور ان کے انتقال کے بعد سے میرا بھائی ان جائیدادوں کا انتظام سنبھال رہا ہے۔ میرے علم کے مطابق، میری والدہ، بھائی اور بہنیں ان زمینوں سے حاصل ہونے والی آمدنی پر مالی طور پر انحصار کرتے رہے ہیں، جو لاکھوں روپے بنتی ہے۔
تاہم گزشتہ سات سالوں کے دوران مجھے اپنے خاندان کی طرف سے اس آمدنی میں سے کوئی حصہ، مالی مدد یا حتیٰ کہ کوئی تحفہ بھی نہیں ملا۔ شادی شدہ بیٹی ہونے کے باوجود اب میں اسلامی شریعت کے مطابق اپنے مکمل وراثتی حصے کا مطالبہ کر رہی ہوں، کیا میرا مطالبہ کرنا درست ہے؟
2) میرے خاندان نے مجھے میرا شرعی حق دینے سے انکار کر دیا ہے اور صرف ایک غیر آباد زمین کا ٹکڑا دینے کی پیشکش کی ہے، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ میں خود اس میں کاشت کاری کروں۔ جب میں نے اپنے جائز حصے کا مطالبہ جاری رکھا تو میری والدہ اور بھائی ناراض ہو گئے اور انہوں نے مجھ سے رابطہ منقطع کر لیا۔ میری والدہ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ میرے لیے وہ ایسے ہیں جیسے میں ان کے لیے مر چکی ہوں، کیونکہ میں اپنی وراثت کا مطالبہ کر رہی ہوں۔

3) سب سے اہم بات یہ ہے کہ میں شرعی رہنمائی چاہتی ہوں کہ اگر میری والدہ میرے وراثتی حق کا مطالبہ کرنے پر مجھ سے ناراض ہیں تو کیا میں اپنا جائز حق مانگ کر گناہ گار ہو رہی ہوں؟ کیا والدہ کی ناراضی میری دینی ذمہ داریوں پر اثر انداز ہوتی ہے یا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مجھے گناہ گار بناتی ہے؟ اور میں اپنی والدہ کے احترام اور ان کے حقوق و فرائض ادا کرتے ہوئے اپنے شرعی حقوق کی حفاظت کیسے کر سکتی ہوں؟
میری مؤدبانہ درخواست ہے کہ قرآن و سنت کے دلائل اور متعلقہ شرعی رہنمائی کی روشنی میں اس معاملے پر تفصیلی تحریری فتویٰ عطا فرمایا جائے، جس میں اس مسئلے کو منصفانہ طریقے سے حل کرنے کے لیے عملی رہنمائی بھی شامل ہو۔

جواب: واضح رہے کہ والد کے انتقال کے بعد ان کے ترکے میں تمام شرعی ورثاء اپنے اپنے مقررہ حصوں کے حق دار ہوتے ہیں، کسی وارث کو محض اس وجہ سے وراثت سے محروم کرنا جائز نہیں کہ وہ شادی شدہ بیٹی ہے۔
اسی طرح کسی وارث کا اپنے شرعی حق کا مطالبہ کرنا بذاتِ خود گناہ نہیں اور محض اس مطالبے کی وجہ سے والدہ کا ناراض ہونا بھی جائز نہیں ہے، البتہ اپنے حق کے مطالبے کے دوران والدہ کے ساتھ ادب و احترام، حسنِ سلوک اور جائز امور میں ان کی اطاعت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
اس تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
1) اگر زرعی زمینیں والد کی ملکیت تھیں اور انہوں نے اپنی زندگی میں کسی وارث کو شرعی طور پر ہبہ کرکے مکمل قبضہ نہیں دیا تھا تو والد کے انتقال کے بعد وہ زمینیں تمام ورثاء کی مشترکہ ملکیت بن گئی تھیں، ہر وارث اپنے مقررہ شرعی حصے کے تناسب سے ان میں حق دار ہے۔ چنانچہ والد کے انتقال کے بعد ان زمینوں سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی اصولاً تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے تناسب سے تقسیم ہوگی، لہٰذا اگر آپ کو گزشتہ سات سالوں کے دوران آپ کے حصے کی آمدنی نہیں دی گئی تو آپ اپنے شرعی حصے کا مطالبہ کر سکتی ہیں۔
2) خاندان والوں کا آپ کی رضامندی کے بغیر آپ کو آپ کے وراثتی حصے کے بدلے غیر آباد کم مالیت کی زمین کا ایک ٹکڑا یا غیر موزوں زمین دے کر آپ کے باقی حق سے محروم کرنا درست نہیں ہے، البتہ اگر آپ اپنی رضامندی سے مناسب مالیت کی زمین اپنے وراثتی حصے کے بدلے قبول کر لیں اور شرعی طور پر تقسیم مکمل ہو جائے تو ایسا کرنا جائز ہوگا۔
3) والدہ کے ساتھ حسنِ سلوک، ان کا احترام اور ان کے جائز حقوق کی ادائیگی اولاد پر لازم ہے، البتہ والدہ کی رضا کے نام پر کسی وارث کا شرعی حق ختم نہیں ہو جاتا، لہذا آپ کا اپنے والد کی چھوڑی ہوئی جائیداد میں سے شرعی حصہ کے مطالبہ کرنے کی وجہ سے والدہ کے ناراض ہونے پر آپ گناہ گار نہیں ہوں گی، لہذا مناسب یہ ہے کہ انہیں حسنِ اخلاق اور حکمت کے ساتھ سمجھایا جائے کہ میراث کی بر وقت تقسیم (خصوصاً جب دیگر ورثاء اس کا مطالبہ کر رہے ہوں) شریعت کا حکم ہے اور ہر حق دار کو اس کا شرعی حق ادا کرنا لازم ہے۔
تاہم آپ کو چاہیے کہ والدہ سے بات کرتے وقت نرم لہجہ اختیار کریں، ان کی دل آزاری سے بچیں، ان کی خدمت کریں، اور اگر وہ آپ کے وراثتی حق کے مطالبے پر ناراض ہوں تو بھی ان کے ساتھ بدسلوکی یا قطع تعلقی کو اختیار نہ کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (النساء، الایة: 11)
يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِىٓ أَوْلَٰدِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۚ ... الخ

و قوله تعالی: (البقرة، الآية: 188)
وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ... الخ

و قوله تعالی: (النساء، الایة: 7)
لِلرِّجَالِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا تَرَکَ الۡوَالِدٰنِ وَ الۡاَقۡرَبُوۡنَ ۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا تَرَکَ الۡوَالِدٰنِ وَ الۡاَقۡرَبُوۡنَ مِمَّا قَلَّ مِنۡه اَوۡ کَثُرَ ؕ نَصِیۡبًا مَّفۡرُوۡضًا o

مشکوۃ المصابیح: (باب الغصب و العاریة، 254/1، ط: قدیمی)
عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين».

و فیه ایضاً: (باب الوصایا، الفصل الثالث، 266/1، ط: قدیمی)
وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه".

الفقه الإسلامي و أدلته للزحيلي: (4984/7، ط: دار الفكر)
ليس المرء حرا بالتصرف في ماله بعد وفاته حسبما يشاء كما هو مقرر في النظام الرأسمالي، وإنما هو مقيد بنظام الإرث الذي يعتبر في الإسلام من قواعد النظام الإلهي العام التي لا يجوز للأفراد الاتفاق على خلافها، فالإرث حق جبري.

الفتاوى الهندية: (الباب الثالث عشر في المتفرقات، 231/5، ط: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)
وإذا طلب أحد الشريكين القسمة وأبى الآخر فأمر القاضي قاسمه ليقسم بينهما

درر الحكام في شرح مجلة الاحكام: (باب في بيان القسمة، المادة: 1130، 128/3، ط: دار الجيل)
إذا طلب أحد الشريكين القسمة وامتنع الآخر عنها ‌فيقسمه ‌القاضي ‌جبرا أي حكما إذا كان المال المشترك قابلا للقسمة؛ لأن القسمة هي لتكميل المنفعة والتقسيم في المال القابل للقسمة أمر لازم.

شرح المجلة: (المقالة الثانیة، المادة: 97، 51/1، ط: رشیدیة)
لايجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي.

مجلة الاحکام العدلیه: (الکتاب العاشر، الشرکات، الباب الاول فی بیان شرکة الملک، الفصل الثانی، ص: 206، ط: نور محمد)
المادة: 1073 تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم.

بدائع الصنائع: (کتاب الغصب، فصل في حكم الغصب، 148/7، ط: دار الكتب العلمية)
"وأما حكم الغصب فله في الأصل حكمان: أحدهما: يرجع إلى الآخرة، والثاني: يرجع إلى الدنيا. أما الذي يرجع إلى الآخرة فهو الإثم واستحقاق المؤاخذة إذا فعله عن علم؛ لأنه معصية، وارتكاب المعصية على سبيل التعمد سبب لاستحقاق المؤاخذة، وقد روي عنه - عليه الصلاة والسلام - أنه قال: «من غصب شبرا من أرض طوقه الله تعالى من سبع أرضين يوم القيامة» ...(أما) الذي يرجع إلى حال قيامه فهو وجوب رد المغصوب على الغاصب۔"

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster