سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میری والدہ مرحومہ کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے ورثاء میں دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں زندہ ہیں، جبکہ ایک بیٹا والدہ کی زندگی میں وفات پا گیا تھا، جس کی اولاد (پوتے پوتیاں) موجود ہے۔ دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ والدہ کی جائیداد شرعاً کس طرح تقسیم ہوگی؟ نیز کیا مرحوم بیٹے کی اولاد کو دادی کی وراثت میں سے کوئی حصہ ملے گا؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب: مرحومہ کی قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل جائیداد کو نو (9) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں دونوں زندہ لڑکوں میں سے ہر ایک کو دو (2) حصے اور پانچوں لڑکیوں میں سے ہر ایک لڑکی کو ایک (1) حصہ ملے گا، جبکہ والدہ کی زندگی میں جس بیٹے کا انتقال ہو گیا تھا، اس کو اور اس کے بچوں کو والدہ (دادی) کے ترکہ میں سے کچھ نہیں ملے گا۔
فیصد کے اعتبار سے دونوں زندہ لڑکوں میں سے ہر ایک کو %22.22 فیصد حصہ اور پانچوں لڑکیوں میں سے ہر ایک لڑکی کو %11.11 فیصد حصہ ملے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکریم: (النساء، الایة: 11)*
يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِىٓ أَوْلَٰدِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۚ
*رد المحتار: (758/6، ط: دار الفکر)*
وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقةً أو حكمًا كمفقود أو تقديرًا كجنين فيه غرة، ووجود وارثه عند موته حيًّا حقيقةً أو تقديرًا كالحمل، والعلم بجهل إرثه.
واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی