سوال:
اختر علی کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی، اس لیے اس نے اپنی بھانجی کو گود لے کر اس کی کفالت اور پرورش کی، اس موقع پر اس نے ایک تحریری اقرار نامہ بھی لکھا، جس میں بچی کے نان و نفقہ، تعلیم، شادی کے اخراجات کی ذمہ داری لینے کے ساتھ یہ بھی درج کیا کہ وہ اختر علی کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد میں وارث ہوگی۔
اب اختر علی کے انتقال کے بعد سوال یہ ہے کہ کیا مذکورہ تحریر کی بنیاد پر گود لی ہوئی بھانجی کو جائیداد میں کوئی حق حاصل ہوگا؟ کیا یہ تحریر وصیت کے حکم میں ہوگی؟ اگر وصیت ہو تو اس کی شرعی حد کیا ہے اور کیا دیگر شرعی ورثاء کی رضامندی سے ایک تہائی سے زائد جائیداد بھی اسے دی جاسکتی ہے؟ نیز اگر زندگی میں جائیداد ہبہ نہیں کی گئی تھی تو وفات کے بعد اس تحریر کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟
جواب: واضح رہے کہ محض کسی بچے کو گود لے کر اس کی پرورش اور کفالت کرنے سے شرعاً وہ گود لینے والے کی حقیقی اولاد یا وارث نہیں بن جاتا، لہٰذا مذکورہ صورت میں لے پالک بھانجی گود لیے جانے اور پرورش پانے کی وجہ سے اختر علی کی شرعی وارث نہیں بنے گی۔
البتہ اگر اختر علی نے اپنی زندگی میں مذکورہ بچی کو جائیداد ہبہ کردی تھی اور باقاعدہ اسے قبضہ بھی دے دیا تھا تو وہ جائیداد اس کی ملکیت ہوگی، لیکن اگر زندگی میں ہبہ اور قبضہ نہیں ہوا اور صرف یہ تحریر لکھی کہ یہ بچی اس کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی وارث ہوگی، تب بھی وہ اس تحریر سے شرعی وارث نہیں بنے گی، کیونکہ اس تحریر میں لکھے گئے الفاظ "اختر علی کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد میں وارث ہوگی" وصیت کے الفاظ نہیں ہیں۔
ہاں! اگر ماموں اپنی تحریر میں اس طرح کے الفاظ لکھتے کہ "میں اپنے مرنے کے بعد اپنی جائیداد میں سے اپنی لے پالک بھانجی کو دینے کی وصیت کرتا ہوں" یا ''میری جائیداد میری لے پالک بھانجی کو دے دینا" تو اس قسم کے الفاظ سے وصیت نافذ ہو جاتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکریم: (الأحزاب، الآیۃ: 4- 5)*
وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَo ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا اٰبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًاo
*تفسير ابن كثير: (6/ 155، ط: ابن الجوزي)*
وقوله تعالى: {وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ} هذا هو المقصود بالنفي، فإنها نزلت في شأن زيد بن حارثة رضي الله عنه مولى النبي صلى الله عليه وسلم، كان النبي صلى الله عليه وسلم قد تبناه قبل النبوة، فكان يقال له: زيد بن محمد، فأراد الله تعالى أن يقطع هذا الإلحاق وهذه النسبة بقوله تعالى: {وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ} كما قال تعالى في أثناء السورة {مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (40)} [الأحزاب] وقال ههنا: {ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ} يعني: تبنيكم لهم قول لا يقتضي أن يكون ابنًا حقيقيًا، فإِنه مخلوق من صلب رجل آخر، فما يمكن أن يكون أبوان كما لا يمكن أن يكون للبشر الواحد قلبان.
*التفسير المظهري: (7/ 284)*
فلا يثبت بالتبني شيء من أحكام النبوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك.
*التفسير المظهري: (7/ 284)*
فلا يثبت بالتبني شيء من أحكام النبوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك.
*الهندية: (6/ 90، ط: دار الفكر)*
الإيصاء في الشرع تمليك مضاف إلى ما بعد الموت يعني بطريق التبرع سواء كان عينا أو منفعة.
*کفایت المفتی:(300/13، ط:ادارہ الفاروق)*
*امداد الاحکام: (575/4، کتاب الوصیة، مکتبہ دارالعلوم کراچی)*
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی