سوال:
السلام علیکم! ہماری والدہ کے نام پر ایک مکان اور ایک فلیٹ تھا، جنہیں فروخت کرکے 2002ء میں ایک نیا مکان خریدا گیا، اس وقت ہمارے والد صاحب کوئی کام نہیں کرتے تھے، اس لیے مکان کی خریداری میں ہماری والدہ اور ہم چار بھائیوں کی رقم شامل تھی، ہماری کوئی بہن نہیں ہے اور والد صاحب کا بھی انتقال ہوچکا ہے۔ 2002ء میں مذکورہ مکان 18,50,261 روپے میں خریدا گیا، جس میں درج ذیل افراد کی رقم شامل تھی:
والدہ: 11,60,451 روپے، رشید: 1,84,013 روپے، رفیق: 1,84,013 روپے، شاہد: 1,84,013 روپے جبکہ سلیم کی کوئی رقم شامل نہیں کی، مکان والدہ کے بیٹے رشید غلام نبی کے نام پر خریدا گیا تھا، والدہ نے اس وقت کہا تھا کہ اس مکان میں جس شخص نے جتنی رقم لگائی ہے، مکان فروخت ہونے کے وقت موجودہ قیمت کے حساب سے اس کی رقم نکال لی جائے گی۔
بعد ازاں 2005ء میں جب گھر کی مرمت کا موقع آیا تو اس وقت ایک بھائی رشید نے والدہ اور دوسرے شرکاء کی اجازت سے 367771 رقم لگائی تھی، پھر جب کچھ عرصے بعد والدہ کی کمیٹی کھلی اور پیسے آئے تو اس وقت والدہ نے اس بھائی (رشید) کو 230000 واپس کیے، یہ اسی مرمت کی مد میں جو پیسے لگائے تھے وہ واپس کیے، پھر جب رشید نے مرمت کی مد میں لگائی ہوئی رقم میں سے بقایا رقم 1,37,771 کا مطالبہ کیا تو اس وقت والدہ نے کہا کہ ابھی رہنے دیں، جب گھر بکے گا اس وقت وہ لے لینا۔
ہمارا سوال یہ ہے کہ مکان فروخت ہونے کے بعد رقم کس طرح شرعی اصول کے مطابق تقسیم کی جائے؟ کیا یہ طریقہ درست ہوگا کہ مکان کی موجودہ فروخت شدہ قیمت میں سے پہلے ان افراد کی رقم نکالی جائے جنہوں نے مکان خریدنے اور تعمیر کرنے میں رقم لگائی تھی، اور ان کی لگائی ہوئی رقم کو آج کے وقت مکان کی موجودہ مالیت کے تناسب سے شمار کیا جائے؟ّ نیز والدہ کے ذمے رشید کی جو 1,37,771 روپے کی بقایا رقم ہے، کیا وہ بھی پہلے ادا کی جائے گی؟ براہِ کرم مذکورہ صورتِ حال میں شرعی اصول کے مطابق مکان کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کی تقسیم کا طریقہ واضح فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر واقعتاً 2002ء میں مکان خریدتے وقت والدہ اور تین بیٹوں کے درمیان اپنی رقم لگاتے ہوئے باقاعدہ شراکت طے ہوئی تھی تو ہر شخص اپنی لگائی ہوئی رقم کے تناسب سے مکان یا اس کی موجودہ قیمت کا مالک ہوگا، لہذا مکان فروخت ہونے پر اسی شراکتی تناسب سے شرکاء کے درمیان رقم تقسیم کی جائے گی۔
اسی طرح 2005ء میں تعمیر کے لیے رشید نے سب شرکاء کی اجازت سے جو 3,67,771 روپے اپنی طرف سے خرچ کیے اور والدہ نے بعد میں 2,30,000 روپے دیے، اور بقیہ رقم کے بارے میں والدہ نے واضح طور پر یہ تسلیم کیا تھا کہ 1,37,771 روپے رشید کے ہمارے ذمہ بطور قرض/قابلِ واپسی رقم باقی ہیں، مکان فروخت ہونے پر یہ رقم واپس کی جائے گی، لہذا مکان فروخت ہونے پر یہ رقم پہلے رشید کو ادا کی جائے گی، البتہ اسے موجودہ قیمت کے حساب سے بڑھا کر دینا لازم نہیں ہوگا، جتنی رقم واجب الادا تھی، اتنی ہی ادا کی جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
درر الحکام: (26/3، ط: دار الجیل)
(المادة 1073) (تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح) تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما، انظر المادة (1308) وحاصلاتها أيضا يجب أن تكون على هذه النسبة؛ لأن الغنم بالغرم بموجب المادة (88).
الحاصلات: هي اللبن والنتاج والصوف وأثمار الكروم والجنائن وثمن المبيع وبدل الإيجار والربح وما أشبه ذلك."
تنقیح الحامدیه: (157/2)
( سئل ) فيما إذا بنى زيد قصرا بماله لنفسه في دار مشتركة بينه وبين إخوته بدون إذنهم فهل يكون البناء ملكا له ( الجواب ) : نعم وإذا بنى في الأرض المشتركة بغير إذن الشريك له أن ينقض بناءه ذكره في التتارخانية من متفرقات القسمة . ( سئل ) في دار مشتركة بين جماعة بنى فيها بعضهم بناء لأنفسهم بآلات هي لهم بدون إذن الباقين ويريد بقية الشركاء قسمة نصيبهم من الدار المذكورة وهي قابلة للقسمة فهل لهم ذلك وما حكم البناء ؟ ( الجواب ) : حيث كانت قابلة للقسمة وينتفع كل بنصيبه بعد القسمة فلبقية الشركاء ذلك ثم البناء حيث كان بدون إذنهم إن وقع في نصيب البانين بعد قسمة الدار فبها ونعمت والا هدم البناء
الدر المختار مع رد المحتار: (268/6، ط: سعید)
( بنى أحدهما ) أي أحد الشريكين ( بغير إذن الآخر ) في عقار مشترك بينهما ( فطلب شريكه رفع بنائه قسم ) العقار ( فإن وقع ) البناء ( في نصيب الباني فيها ) ونعمت ( وإلا هدم ) البناء وحكم الغرس كذلك قوله ( وإلا هدم البناء ) أو أرضاه بدفع قيمته
درر الحكام: (314/3، ط: دار الجيل)
إذا عمر أحد الشريكين الملك المشترك ففي ذلك احتمالات أربعة: ...
الاحتمال الثاني - إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك للشركة بدون إذن الشريك كان متبرعا...
الاحتمال الرابع - إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بدون إذن شريكه على أن يكون ما عمره لنفسه فتكون التعميرات المذكورة ملكا له وللشريك الذي بنى وأنشأ أن يرفع ما عمره من المرمة الغير المستهلكة. انظر شرح المادة (529) ما لم يكن رفعها مضرا بالأرض ففي هذا الحال يمنع من رفعها.
رد المحتار: (333/4، ط: الحلبي)
والحمام إذا احتاج إلى مرمة وأنفق أحد الشريكين من ماله، أجاب: لا يكون متبرعا ويرجع بقيمة البناء بقدر حصته كما حققه في جامع الفصولين، وجعل الفتوى عليه في الولوالجية
و فیه ایضا: (335/4)
ولو بنى فالصحيح أنه يرجع لما مر أنه مضطر، ثم في كل موضع لم يكن الباني متبرعا كان له منع صاحبه من الانتفاع إلى أن يرد عليه ما أنفق أو قيمة البناء
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی