سوال:
عرض ہے کہ ہماری دادی نے اپنی بہو یعنی میری والدہ کو شادی کے موقع پر دو تولہ سونے کی چوڑیاں تحفے میں دی تھیں۔ بعد ازاں گھر کو فروخت ہونے یا ضائع ہونے سے بچانے کے لیے دادی نے میری والدہ سے وہ چوڑیاں واپس مانگیں۔ امی نے دادی کو چوڑیاں واپس دے دیں، کیونکہ دادی کو گھر بچانے کے لیے ان کی ضرورت تھی۔ دادی نے چوڑیاں واپس لیتے وقت سونا بعد میں واپس کرنے کی بات بھی کی تھی، لیکن سونا واپس کرنے سے پہلے ہی دادی کا انتقال ہوگیا۔
اب سوال یہ ہے کہ واپس لی گئی چوڑیاں دادی کے ذمے قرض شمار ہوں گی؟ اگر قرض شمار ہوں تو کیا ترکے سے اصل دو تولہ سونا واپس کرنا لازم ہوگا یا اس کی موجودہ قیمت ادا کی جائے گی؟ نیز دادی کے بینک اکاؤنٹ اور دیگر ترکے سے اس قرض کی ادائیگی کا کیا طریقہ ہوگا؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر ساس نے شادی کے موقع پر دو تولہ سونے کی چوڑیاں بہو (آپ کی والدہ) کو تحفے میں دے دی تھیں اوربہو نے انہیں وصول بھی کرلیا تھا تو وہ چوڑیاں بہو کی ملکیت ہوگئی تھیں۔
بعد ازاں اگر آپ کی والدہ نے ساس کو یہ چوڑیاں اس شرط یا وعدے پر واپس دی تھیں کہ ساس بعد میں سونا واپس کریں گی تو یہ معاملہ قرض کے حکم میں ہوگا، لہٰذا ساس کے ذمے آپ کی والدہ کا دو تولہ سونا واجب الادا قرض ہے، ساس کے انتقال کے بعد ان کے ترکے سے اس کی ادائیگی لازم ہوگی۔
چونکہ قرض سونے کی صورت میں لیا گیا تھا، اس لیے اصولاً دو تولہ سونا ہی واپس کرنا لازم ہوگا، البتہ اگر والدہ اور ورثاء باہمی رضامندی سے اس کی قیمت ادا کرنے پر اتفاق کرلیں تو موجودہ قیمت کے مطابق ادائیگی کی جاسکتی ہے۔
ساس کے بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم اور ان کی دیگر مملوکہ چیزیں بھی ان کے ترکے میں شامل ہوں گی، وراثت تقسیم کرنے سے پہلے مذکورہ قرض ادا کیا جائے گا، اس کے بعد جو ترکہ باقی بچے گا، وہ شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (کتاب الأیمان، 789/3، ط: دار الفکر)
مطلب في قولهم الديون تقضى بأمثالها
قلت: والجواب الواضح أن يقال قد قالوا إن الديون تقضى بأمثالها
الدر المختار: (161/5، ط: دار الفکر)
القرض ونحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله) خرج نحو وديعة وهبة.
(وصح) القرض (في مثلي) هو كل ما يضمن بالمثل عند الاستهلاك (لا في غيره) من القيميات كحيوان وحطب وعقار وكل متفاوت لتعذر رد المثل... (فيصح استقراض الدراهم والدنانير وكذا) كل (ما يكال أو يوزن أو يعد متقاربا ... الخ )
فتح القدير للكمال ابن الهمام: (110/8، ط: دار الفكر)
(لأن الديون تقضى بأمثالها) لا بأعيانها (إذ قبض الدين نفسه) أي قبض نفس الدين (لا يتصور) لأنه وصف ثابت في ذمة من عليه (إلا أنه جعل استيفاء العين حقه من وجه) استثناء من قوله لأن الديون تقضى بأمثالها: يعني أن الديون وإن كانت تقضى بأمثالها لا بأعيانها لما ذكرنا آنفا، إلا أن قبض المثل جعل استيفاء لعين حق الدائن من وجه ولهذا يجبر المديون على الأداء، ولو كان تملكا محضا لما أجبر عليه، وكذا إذا ظفر الدائن بجنس حقه حل له الأخذ.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی