سوال:
مفتی صاحب! ایک صاحب کی 1980 میں شادی ہوئی، ان کا مہر 5000 رکھا گیا، اب انتقال کے بعد ترکہ میں سے مہر نکالنا ہے تو کیا ابھی بھی صرف 5000 ہی نکالیں گے یا آج کی ویلیو کے برابر رقم نکالیں؟ رہنمائی فرمائیے گا۔ جزاکم اللّٰہ خیرا کثیرا
جواب: واضح رہے کہ اگر نکاح کے وقت پانچ ہزار روپے مہر مقرر کیا گیا تھا اور شوہر نے زندگی میں یہ مہر ادا نہیں کیا تھا تو یہ رقم شوہر کے ذمے قرض ہے، شوہر کے انتقال کے بعد اس کے ترکہ میں سے بیوہ کو پانچ ہزار روپے ہی ادا کیے جائیں گے، موجودہ زمانے کی مہنگائی یا ویلیو کے اعتبار سے اس کی مالیت کا حساب لگا کر اضافی رقم نہیں دی جائے گی۔
لہٰذا مذکورہ صورت میں ترکہ تقسیم کرنے سے پہلے بیوہ کا پانچ ہزار روپے مہر ادا کیا جائے گا، اس کے بعد باقی ترکہ شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار: (840/3، ط: سعيد)
الديون تقضى بأمثالها.