resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: بیٹے کے ہوتے ہوئے نواسہ اور نواسی کا حصہ

(68265-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! مجھے وراثت کے ایک مسئلے میں قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی رہنمائی چاہیے۔
میرے دادا کی کل دو اولادیں تھیں: ایک بیٹا اور ایک بیٹی (میری پھوپھو)۔ میری پھوپھو کا انتقال میرے دادا سے پہلے ہو گیا تھا، پھوپھو کے انتقال کے وقت میری دادی زندہ تھیں، لیکن دادی کا انتقال بھی میرے دادا سے پہلے ہو گیا تھا، میری پھوپھو کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں، میرے دادا کے انتقال کے وقت ان کا صرف ایک بیٹا زندہ تھا، میرے دادا کی کوئی اور اولاد نہیں تھی۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا میری مرحومہ پھوپھو کے بچوں کو اپنے دادا کی وراثت میں شرعی حصہ ملے گا یا دادا کے زندہ بیٹے کی وجہ سے وہ وراثت سے محروم ہوں گے؟ براہِ کرم قرآن و صحیح حدیث کے دلائل کے ساتھ رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً۔

جواب: واضح رہے کہ جس وارث کا مورث کی زندگی میں انتقال ہوجائے، اس کا اور اس کی اولاد کا مورث کی میراث میں حصہ نہیں ہوتا ہے، نیز مرحوم کے بیٹے کے ہوتے ہوئے نواسہ نواسی کو نانا کی میراث میں سے کچھ نہیں ملتا ہے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ کی مرحومہ پھوپھو کے بچوں کا اپنے نانا کی میراث میں حصہ نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

رد المحتار: (758/6، ط: دار الفکر)
وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقةً أو حكمًا كمفقود أو تقديرًا كجنين فيه غرة، ووجود وارثه عند موته حيًّا حقيقةً أو تقديرًا كالحمل، والعلم بجهل إرثه.

السراجی: (ص: 36، ط: مکتبة البشرى)
يرجحون بقرب الدرجة، أعني أولاهم بالميراث جزء الميت أي البنون ثم بنوهم وإن سفلوا، ثم أصله أي الأب ثم الجد أي أب الأب وإن علا، ثم جزء أبيه أي الإخوة۔۔۔الخ

ألفقه الإسلامي وأدلّته للزّحیلي: (الفصل الاوّل: تعريف علم الميراث، 7697/10، ط: دار الفکر)
اﻹﺭﺙ ﻟﻐﺔ: ﺑﻘﺎء ﺷﺨﺺ ﺑﻌﺪ ﻣﻮﺕ ﺁﺧﺮ ﺑﺤﻴﺚ ﻳﺄﺧﺬ اﻟﺒﺎﻗﻲ ﻣﺎ ﻳﺨﻠﻔﻪ اﻟﻤﻴﺖ. ﻭﻓﻘﻬﺎ: ﻣﺎ ﺧﻠﻔﻪ اﻟﻤﻴﺖ ﻣﻦ اﻷﻣﻮاﻝ ﻭاﻟﺤﻘﻮﻕ اﻟﺘﻲ ﻳﺴﺘﺤﻘﻬﺎ ﺑﻤﻮﺗﻪ اﻟﻮاﺭﺙ اﻟﺸﺮﻋﻲ.

واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster