resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس سے حاصل ہونے والی سودی رقم میں میراث کی تقسیم

(66236-No)

سوال: السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، مفتی صاحب، ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے۔ میری والدہ بیوہ تھیں، انہوں نے وراثت میں ملے 15 لاکھ روپے بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس میں لگائے اور ہر سال کا منافع بھی انہی میں دوبارہ لگاتی رہیں۔ میں ان کی زندگی میں بارہا انہیں اس سے منع کرتی رہی اور کہتی رہی کہ رقم نکلوا کر میزان اسلامک بینک میں رکھ لیں، مگر وہ نہیں مانیں۔ مجھے یقینی طور پر معلوم ہے کہ اصل رقم 15 لاکھ تھی اور باقی تقریباً 13 لاکھ صرف سود (منافع) اور اس کی دوبارہ سرمایہ کاری سے بنے ہیں۔ اب سرٹیفکیٹس کی کل مالیت تقریباً 28 لاکھ ہے۔
ورثاء میں اکلوتی بیٹی ہوں اور والدہ کے 2 سگے بھائی اور 3 سگی بہنیں حیات ہیں، والدین حیات نہیں۔
سوالات:
1) ہر وارث کا شرعی حصہ کتنا ہے؟
2) کیا 13 لاکھ سودی منافع وراثت میں شامل ہوگا یا اسے الگ کر کے صدقہ کرنا ہوگا؟ جزاک اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس میں رقم جمع کروا کر اس پر سود حاصل کرنا شرعاً ناجائز ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں آپ کی والدہ نے جو پندرہ لاکھ (1500000) روپے اصل رقم جمع کروائی تھی، وہ ان کا ترکہ شمار ہوگی اور ان کے شرعی ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کی جائے گی، اس کے علاوہ جو تقریباً تیرہ لاکھ (1300000) روپے سود ہیں، وہ شرعاً حلال نہیں ہیں، لہٰذا ورثاء کے لیے ان کا استعمال کرنا جائز نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ یہ رقم ثواب کی نیت کے بغیر غرباء و مساکین کو دے دی جائے۔
*نوٹ* اگر بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس (نیشنل سیونگ) مستند علماء کی زیر نگرانی قرض کی بجائے کسی شرعی اصول (Islamic Mode of finance) کے مطابق نفع دے رہا ہو تو اس صورت میں اس سے نفع حاصل کرنے کی گنجائش ہوگی اور وہ نفع شرعی ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔
مرحومہ کی قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد اصل رقم پندرہ لاکھ (1500000) روپوں کو چودہ (14) حصوں می تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے بیٹی کو سات (7) حصے، دونوں بھائیوں میں سے ہر ایک بھائی کو دو (2) حصے اور تینوں بہنوں میں سے ہر ایک بہن کو ایک (1) حصہ ملے گا۔
اس تقسیم کی رو سے ہندرہ لاکھ (1500000) روپوں میں سے بیٹی کو سات لاکھ پچاس ہزار (750000) روپے، دونوں بھائیوں میں سے ہر ایک بھائی کو دو لاکھ چودہ ہزار دو سو پچاسی روپے اور اکہتر پیسے (214285.71) اور تینوں بہنوں میں سے ہر ایک بہن کو ایک لاکھ سات ہزار ایک سو چودہ روپے اور پچاسی پیسے (107142.85) ملیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*القرآن الکریم: (النساء، الایة: 11)*
فَإِن كُنَّ نِسَاء فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ... الخ

*القرآن الکریم: (النساء، الایة: 176)*
وَإِن كَانُواْ إِخْوَةً رِّجَالاً وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ... الخ

*الدر المختار مع رد المحتار: (385/6۔ 386، ط: دار الفکر)*
وعلى هذا لو مات مسلم وترك ثمن خمر باعه مسلم لا يحل لورثته كما بسطه الزيلعي وفي الأشباه الحرمة تنتقل مع العلم إلا للوارث إلا إذا علم ربه.
قلت: ومر في البيع الفاسد لكن في المجتبى مات وكسبه حرام فالميراث حلال ثم رمز وقال لا نأخذ بهذه الرواية *وهو حرام مطلقا على الورثة فتنبه* .
(قوله إلا إذا علم ربه) أي رب المال فيجب على الوارث رده على صاحبه *(قوله وهو حرام مطلقا على الورثة) أي سواء علموا أربابه أو لا فإن علموا أربابه ردوه عليهم، وإلا تصدقوا به كما قدمناه آنفا عن الزيلعي.*

*رد المحتار: (99/5، ط: دار الفکر)*
مطلب فيمن ورث مالا حراما
(قوله إلا في حق الوارث إلخ) أي فإنه إذا علم أن كسب مورثه حرام يحل له، لكن إذا علم المالك بعينه فلا شك في حرمته ووجوب رده عليه، وهذا معنى قوله وقيده في الظهيرية إلخ، *وفي منية المفتي: مات رجل ويعلم الوارث أن أباه كان يكسب من حيث لا يحل ولكن لا يعلم الطلب بعينه ليرد عليه حل له الإرث والأفضل أن يتورع ويتصدق بنية خصماء أبيه.* اه
وكذا لا يحل إذا علم عين الغصب مثلا وإن لم يعلم مالكه، لما في البزازية أخذه مورثه رشوة أو ظلما، إن علم ذلك بعينه لا يحل له أخذه، وإلا فله أخذه حكما أما في الديانة فيتصدق به بنية إرضاء الخصماء اه. *والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه،* وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما، والأحسن ديانة التنزه عنه ففي الذخيرة: سئل الفقيه أبو جعفر عمن اكتسب ماله من أمراء السلطان ومن الغرامات المحرمات وغير ذلك هل يحل لمن عرف ذلك أن يأكل من طعامه؟ قال أحب إلي في دينه أن لا يأكل ويسعه حكما إن لم يكن ذلك الطعام غصبا أو رشوة وفي الخانية: امرأة زوجها في أرض الجور، وإن أكلت من طعامه ولم يكن عين ذلك الطعام غصبا فهي في سعة من أكله وكذا لو اشترى طعاما أو كسوة من مال أصله ليس بطيب فهي في سعة من تناوله والإثم على الزوج. اه (قوله وسنحققه ثمة) أي في كتاب الحظر والإباحة. *قال هناك بعد ذكره ما هنا لكن في المجتبى: مات وكسبه حرام فالميراث حلال، ثم رمز وقال: لا نأخذ بهذه الرواية، وهو حرام مطلقا على الورثة فتنبه.* اه. ح، ومفاده الحرمة وإن لم يعلم أربابه وينبغي تقييده بما إذا كان عين الحرام ليوافق ما نقلناه، إذ لو اختلط بحيث لا يتميز يملكه ملكا خبيثا، لكن لا يحل له التصرف فيه ما لم يؤد بدله كما حققناه قبيل باب زكاة المال فتأمل.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster