سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میرا سوال یہ ہے کہ میرے نانا نے اپنی زندگی میں اپنے سگے بھائی سے دس مرلے جگہ خریدی تھی، جس کا اسٹامپ پیپر بھی موجود ہے۔ مسئلہ یہ ہوا کہ نانا اور ان کے بھائیوں کے درمیان تنازعات پیدا ہوگئے، جس کی وجہ سے اس دس مرلے جگہ کا مقدمہ عدالت میں چلتا رہا اور تقریباً 30 سال تک کیس چلتا رہا۔ یہ معاملہ تقریباً 1990ء تا 2000ء کے عرصے کا ہے۔
2004ء میں میرے نانا کا انتقال ہوگیا، نانا کے انتقال کے وقت مذکورہ جگہ ان کے نام پر نہیں تھی اور اس وقت بھی عدالت میں کیس چل رہا تھا۔ نانا کی وفات کے بعد میرے ایک ماموں نے یہ کیس تقریباً مزید دس سال تک چلایا اور عدالت میں اس پر اخراجات بھی کرتے رہے، ماموں کے بقول انہوں نے کیس پر تقریباً 10 سے 15 لاکھ روپے خرچ کیے۔
2016ء میں نانا کے وہ بھائی بھی فوت ہوگئے جن کے نام پر یہ دس مرلے زمین تھی، ان کی وفات کے بعد یہ جگہ ان کی اولاد کے نام پر منتقل ہوگئی، اس وقت نانا کے بھائی کی اولاد نے حق کا خیال رکھتے ہوئے یہ جگہ نانا کی اولاد یعنی میرے ماموں کو دیتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کی چیز ہے، آپ اسے لے لیں۔ چنانچہ میرے ماموں نے وہ جگہ اپنے نام پر منتقل کروا لی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اس دس مرلے جگہ میں میرے نانا کے دیگر شرعی ورثاء کا بھی حصہ ہے یا یہ جگہ صرف اسی ماموں کی ملکیت ہے جس نے عدالت میں کیس لڑا اور بعد میں اپنے نام پر منتقل کروائی؟ نانا کی اولاد میں تین بیٹے اور چھ بیٹیاں ہیں۔
جس ماموں نے نانا کی وفات کے بعد کیس لڑا، ان کا کہنا ہے کہ یہ جگہ صرف میری ہے، کیونکہ میں نے عدالت کے کیس وغیرہ کے تمام اخراجات خود برداشت کیے ہیں۔ مذکورہ دس مرلے زمین کی موجودہ مالیت تقریباً ایک کروڑ روپے ہے۔ براہِ کرم اس معاملے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔ جگہ کی خریداری کا معاہدہ اور اسٹامپ پیپر آج بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: سوال میں پوچھی گئی صورت میں اگر واقعتاً نانا نے اپنی زندگی میں خرید وفروخت کی شرعی شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے یہ زمین خرید لی تھی، اگرچہ انتظامی معاملہ کی وجہ سے زمین ان کے نام نہیں ہوئی تھی تاہم وہ اس کے مالک بن گئے تھے، لہذا نانا کے انتقال کے بعد ان کا ایک بیٹا عدالت میں مقدمہ لڑنے اور اپنی جیب سے مقدمے کے اخراجات برداشت کرنے کی وجہ سے پوری زمین کا مالک نہیں بنے گا، بلکہ یہ زمین نانا کے تمام شرعی ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔
البتہ اگر مذکورہ بیٹے نے یہ اخراجات تمام ورثاء کی اجازت سے ان کی طرف سے مقدمہ لڑتے ہوئے برداشت کیے تھے تو اسے یہ اخراجات ترکہ سے یا دیگر ورثاء کے حصوں سے وصول کرنے کا حق ہوگا، لیکن اگر اس نے ورثاء کی اجازت کے بغیر اپنی طرف سے یہ اخراجات کیے تھے تو یہ اس کی طرف سے تبرع اور احسان شمار ہوں گے، اور وہ یہ اخراجات ترکہ یا دیگر ورثاء سے وصول کرنے کا حق دار نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: (المادة: 57، 57/1، ط: دار الجیل)*
التبرع فالتبرع هو إعطاء الشيء غير الواجب، إعطاؤه إحسانا من المعطي.
*وایضاً: (26/3، ط: دار الجیل)*
"(المادة 1073) (تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح) تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما، انظر المادة (1308) وحاصلاتها أيضا يجب أن تكون على هذه النسبة؛ لأن الغنم بالغرم بموجب المادة (88).
الحاصلات: هي اللبن والنتاج والصوف وأثمار الكروم والجنائن وثمن المبيع وبدل الإيجار والربح وما أشبه ذلك."
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی