resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: چار بطن مناسخہ

(67256-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! ایک شخص کا انتقال 2014ء میں ہوا، اس کے ورثاء میں ایک بیوہ، چھ بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں،
اس کے بعد درج ذیل ورثاء کا انتقال ہوا:
1) 2016ء میں ایک شادی شدہ بیٹی کا انتقال ہوا، اس کی کوئی اولاد نہیں تھی، البتہ اس کے شوہر نے بعد میں دوسری شادی کر لی۔ مرحومہ کے انتقال کے وقت شوہر، والدہ، چھ حقیقی بھائی اور ایک حقیقی بہن وارث تھے۔
2) 2022ء میں ایک غیر شادی شدہ بیٹے کا انتقال ہوا، اس کے ورثاء میں والدہ، پانچ حقیقی بھائی اور ایک حقیقی بہن تھی۔
3) 2025ء میں ایک اور شادی شدہ بیٹے کا انتقال ہوا، اس کے ورثاء میں ایک بیوہ، ایک شادی شدہ بیٹی اور دو بیٹے، والدہ، چار حقیقی بھائی اور
ایک حقیقی بہن ہیں۔
مرحوم کے ترکے میں رہائشی کوٹھی شامل تھی، جو 2026ء تک فروخت نہیں ہو سکی، بالآخر یہ کوٹھی 2026ء میں فروخت ہوئی، مرحوم کی بیوہ (یعنی تمام مذکورہ اولاد کی والدہ) الحمدللہ حیات ہیں۔
مفتی صاحب! براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ شریعتِ اسلامیہ کے مطابق اس کوٹھی کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم تمام شرعی ورثاء میں کس تناسب سے تقسیم ہوگی؟ خصوصاً یہ بھی واضح فرما دیں کہ جن بیٹے اور بیٹی کا انتقال اپنے والد کے بعد لیکن کوٹھی کی فروخت سے پہلے ہوا، ان کے حصے ان کے اپنے ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوں گے؟ جزاکم اللہ خیراً

جواب: مرحومین کی تجہیز وتکفین کے جائز اور متوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل جائیداد منقولہ اور غیرمنقولہ کو ایک لاکھ تیئیس ہزار پانچ سو باون (123552) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے والد کی بیوی (یعنی آپ کی والدہ) کو بائیس ہزار چار سو گیارہ (22411) حصے، چاروں زندہ بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو اٹھارہ ہزار دو سو چالیس (18240) حصے، بیٹی کو نو ہزار ایک سو بیس(9120) حصے، مرحومہ بیٹی کے شوہر کو تین ہزار آٹھ سو اکسٹھ (3861) حصے، مرحوم بیٹے کی بیوی کو دو ہزار دو سو اسی(2280) حصے، اس کے دونوں بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو پانچ ہزار ایک سو اڑسٹھ (5168) حصے اور اس کی بیٹی کو دو ہزار پانچ سو چوراسی (2584) حصے ملیں گے۔
فیصد کے اعتبار سے والد کی بیوی کو %18.13 فیصد حصہ، چاروں بیٹوں میں سے ہر ایک کو %14.76 فیصد حصہ، بیٹی کو %7.38 فیصد حصہ، مرحومہ بیٹی کے شوہر کو %3.125 فیصد حصہ، مرحوم بیٹے کی بیوی کو %1.84 فیصد حصہ، دونوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو %4.18 فیصد حصہ اور بیٹی کو %2.09 فیصد حصہ ملے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (النساء، الایة: 11، 12)
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ..... وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌۚ
فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ...الخ

القرآن الکریم: (النساء، الایة: 176)
وَإِن كَانُواْ إِخْوَةً رِّجَالاً وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ... الخ

الھندیة: (450/6، ط: دار الفکر)
ويسقط الإخوة والأخوات بالابن وابن الابن وإن سفل وبالأب بالاتفاق.

الھندیة: (451/6، ط: دار الفکر)
(الباب الثالث في العصبات) وهم كل من ليس له سهم مقدر ويأخذ ما بقي من سهام ذوي الفروض وإذا انفرد أخذ جميع المال، كذا في الاختيار شرح المختار.
فالعصبة نوعان: نسبية وسببية، فالنسبية ثلاثة أنواع: عصبة بنفسه وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى وهم أربعة أصناف: جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده، كذا في التبيين فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل ثم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا، ثم الأخ لأب وأم ، ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم، ثم ابن الأخ لأب ثم العم لأب وأم ثم العم لأب ثم ابن العم لأب وأم، ثم ابن العم لأب ثم عم الأب لأب وأم ثم عم الأب لأب ثم ابن عم الأب لأب وأم، ثم ابن عم الأب لأب ثم عم الجد، هكذا في المبسوط.

الدر المختار: (کتاب الفرائض، 81/6، ط: دار الفکر)
فصل في المناسخة (مات بعض الورثة قبل القسمة للتركة صححت المسألة الأولى) وأعطيت سهام كل وارث (ثم الثانية) ... الخ

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster