resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: والد کے یہ کہنے "یہ گھر صرف بیٹوں کا ہے بیٹوں کا اس میں حصہ نہیں" کا حکم، نیز والدہ کا یہ کہنا کہ یہ گھر میری زندگی میں تقسیم نہیں ہوگا

(63612-No)

سوال: ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس کے ورثہ میں ایک بیوہ، تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، لیکن وراثت کے گھر میں سب سے بڑا بھائی رہائش پذیر ہے اور جب بھی اس سے وراثت کی تقسیم کی بات کی جائے تو ان کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہی کہہ دیا تھا کہ یہ گھر صرف بھائیوں کا ہے بہنوں کا اس میں حصہ نہیں تو آیا بڑے بھائی کا اس طرح دعویٰ کرنا اور دیگر ورثہ کو محروم رکھنا درست ہے؟
اور والدہ ( یعنی متوفی کی بیوی) وہ بھی اس دعوے کی تائید کرتی ہے اور یہ کہتی ہیں کہ اگر گھر تقسیم کی کرنا ہے تو میری زندگی میں نہیں ہوگا، میرے بعد ہوگا، تو آیا اگر وراثت تقسیم کی جاتی ہے تو اس میں والدہ کی نافرمانی تو نہیں ہوگی؟

جواب: 1) واضح رہے کہ اگر مذکورہ مکان مرحوم والد کی ملکیت تھا اور انہوں نے اپنی زندگی میں شرعی طور پر بیٹوں کو ہبہ کرکے قبضہ نہیں دیا تھا تو ان کی وفات کے بعد اس مکان میں تمام شرعی ورثاء (مرحوم کی بیوہ، تینوں بیٹے اور تینوں بیٹیاں) اپنے شرعی حصوں کے تناسب سے حق دار ہیں، محض مرحوم والد کے یہ کہنے ’’یہ گھر صرف بیٹوں کا ہے، بیٹیوں کا اس میں حصہ نہیں‘‘ سے شرعاً بیٹیوں کا حقِ وراثت ختم نہیں ہوا ہے، لہٰذا بڑے بھائی کا اس بنیاد پر بہنوں اور دیگر ورثاء کو ان کے شرعی حصوں سے محروم رکھنا درست نہیں، لہٰذ ابڑے بھائی کو چاہیے کہ باہمی رضامندی سے مکان کی شرعی تقسیم کرے یا اس کی قیمت متعین کرکے ہر وارث کو اس کا شرعی حصہ دے دے۔
2) جہاں تک والدہ کی رضامندی یا ناراضی کا تعلق ہے، والدہ خود بھی مرحوم شوہر کی شرعی وارث ہیں اور ان کا بھی مرحوم شوہر کی میراث میں حصہ ہے، وہ اپنے حق کے بارے میں اپنی مرضی سے تصرف کرسکتی ہیں، لیکن وہ دوسرے ورثاء کے شرعی حصے ختم کرنے یا انہیں میراث سے محروم کرنے کی مجاز نہیں ہیں۔
لہٰذا اگر دیگر ورثاء اپنے شرعی حصے کا مطالبہ کریں تو محض والدہ کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ’’میری زندگی میں گھر تقسیم نہیں ہوگا‘‘، ان کا شرعی حق ساقط نہیں ہوگا، نیز ورثاء کا اپنے حق کا مطالبہ کرنا والدہ کی نافرمانی شمار نہیں ہوگا، البتہ ممکن ہو تو باہمی رضامندی سے والدہ کے ساتھ ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہیے جس میں ادب و احترام بھی برقرار رہے اور ان کی رہائش اور ضروریات بھی متاثر نہ ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*القرآن الکریم: (النساء، الایة: 11)*
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ ... الخ

*القرآن الکریم: (البقرة، الآية: 188)*
وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ... الخ

*و قوله تعالی: (النسآء، الایة: 7)*
لِلرِّجَالِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا تَرَکَ الۡوَالِدٰنِ وَ الۡاَقۡرَبُوۡنَ ۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا تَرَکَ الۡوَالِدٰنِ وَ الۡاَقۡرَبُوۡنَ مِمَّا قَلَّ مِنۡه اَوۡ کَثُرَ ؕ نَصِیۡبًا مَّفۡرُوۡضًا o

*مشکوۃ المصابیح: (باب الغصب و العاریة، 254/1، ط: قدیمی)*
عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين».

*و فیه ایضاً: (باب الوصایا، الفصل الثالث، 266/1، ط: قدیمی)*
وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه".

*الفقه الإسلامي و أدلته للزحيلي: (4984/7، ط: دار الفكر)*
ليس المرء حرا بالتصرف في ماله بعد وفاته حسبما يشاء كما هو مقرر في النظام الرأسمالي، وإنما هو مقيد بنظام الإرث الذي يعتبر في الإسلام من قواعد النظام الإلهي العام التي لا يجوز للأفراد الاتفاق على خلافها، فالإرث حق جبري.

*الفتاوى الهندية: (الباب الثالث عشر في المتفرقات، 231/5، ط: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)*
وإذا طلب أحد الشريكين القسمة وأبى الآخر فأمر القاضي قاسمه ليقسم بينهما

*الفتاوى التاتارخانیة: (فیما یجوز من الھبة و ما لا یجوز، نوع منه، 431/14، ط: رشیدیه کوئته)*
"و في المنتقى عن أبي يوسف: لايجوز للرجل أن يهب لامرأته و أن تهب لزوجها أو لأجنبي دارًا وهما فيها ساكنان، و كذلك الهبة للولد الكبير؛ لأن يد الواهب ثابتة علي الدار".

*الدر المختار: (689/5، ط: سعید)*
"بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة"

*الھندیة: (378/4، ط: دار الفکر)*
لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار،هكذا في الفصول العمادية.

*شرح المجلة للأتاسي: (المادۃ: 1073، 14/4، ط: رشیدیة)*
الأموال المشترکة شرکة الملک تقسم حاصلاتها بین أصحابها علی قدر حصصهم.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster