سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! زید کی اولاد میں چار بیٹے (مسعود، خاور، خالد اور بابر) اور تین بیٹیاں (مسعودہ، سلمیٰ اور سعیدہ) پیدا ہوئیں۔
زید کا ایک بیٹا خالد، جو غیر شادی شدہ تھا، زید کی حیات میں ہی وفات پا گیا، اس کے بعد زید خود بھی خالقِ حقیقی سے جا ملے، زید نے وفات کے وقت اپنے ورثاء میں تین بیٹے، تین بیٹیاں اور اپنی ایک بیوہ بیوی چھوڑی۔
زید کی وفات کے بعد اس کا ایک اور بیٹا مسعود بھی وفات پا گیا، مسعود نے اپنے ورثاء میں اپنی ایک بیوہ بیوی اور ایک بیٹی چھوڑی۔
زید نے وفات کے وقت کل 1350 مربع فٹ جگہ چھوڑی، اس کے ساتھ 829 مربع فٹ منسلک جگہ زید کی بیوہ کی ذاتی ملکیت ہے، یہ دونوں رقبے ایک ہی گھر میں ہیں اور ان دونوں پر ایک ہی مکان تعمیر ہوا تھا۔
زید کی بیوہ ابھی حیات ہیں، لیکن شدید علیل ہیں، فالج کی وجہ سے اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتیں، نہ ہی کوئی بات کرسکتی ہیں، ان کی یادداشت بھی بالکل ختم ہوچکی ہے اور زبان سے کوئی لفظ ادا نہیں کرسکتیں۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ تمام بچے زید کی وراثت تقسیم کرنے پر متفق ہیں، والدہ کی جگہ بھی چونکہ مرحوم والد کی جگہ کے ساتھ منسلک ہے، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ والدہ کی زندگی میں ہی ان کی جگہ کو بھی مرحوم والد کی وراثت کے ساتھ تقسیم کرلیا جائے۔
برائے کرم اس تقسیم کا خاکہ بنا دیں کہ مرحوم والد کی جائیداد (1350 مربع فٹ) کی تقسیم کس طرح کی جائے گی؟ مرحوم کی وراثت میں مرحوم کی بیوہ کا کتنا حصہ ہوگا، اور مرحوم کے بیٹے مسعود کی بیوہ اور بیٹی کے لیے کتنا حصہ ہوگا؟
زید مرحوم کی بیوہ کی اپنی 829 مربع فٹ جگہ، جو زید کی جگہ کے ساتھ منسلک ہے، اس کی تقسیم کا بھی خاکہ بنا دیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: مرحومین کی تجہیز وتکفین کے جائز اورمتوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ کو آٹھ سو چونسٹھ (864) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے زید کی بیوی کو ایک سو چھتیس (136)، خاور کو ایک سو اٹھتر (178)، بابر کو ایک سو اٹھتر (178)، مسعودہ کو نواسی (89)، سلمیٰ کو نواسی (89)، سعیدہ کو نواسی (89)، مسعود کی بیوی کو اکیس (21) اور مسعود کی بیٹی کو چوراسی (84) حصے ملیں گے۔
اس تقسیم کے اعتبار سے زید کی بیوی کو %15.74 فیصد، خاور کو %20.60 فیصد، بابر کو %20.60 فیصد، مسعودہ کو %10.30 فیصد، سلمیٰ کو %10.30 فیصد، سعیدہ کو %10.30 فیصد، مسعود کی بیوی کو %2.43 فیصد اور مسعود کی بیٹی کو %9.72 فیصد حصہ ملے گا۔
نوٹ: زید کی بیوہ زندہ ہیں، اس لیے ابھی ان کی میراث کے بارے میں نہیں بتایا جاسکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الدر المختار: (کتاب الفرائض، 81/6، ط: دار الفکر)*
فصل في المناسخة (مات بعض الورثة قبل القسمة للتركة صححت المسألة الأولى) وأعطيت سهام كل وارث (ثم الثانية) ... الخ
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی