سوال:
اگر کوئی بیٹا بیرونِ ملک رہتا ہو اور اپنی رقم سے خاندانی گھر کا 3/4 حصہ خریدے، جبکہ باقی 1/4 حصہ اسے اپنے والد کی وراثت میں ملا ہو ، اس کے دیگر بہن بھائی بھی ہوں تو اس صورت میں مذکورہ جائیداد مشترکہ ملکیت ہوگی یا اس بیٹے کی اپنی ملکیت ہوگی؟
چونکہ وہ بیرونِ ملک تھا، اس لیے اس نے اپنی سہولت کے لیے پوری جائیداد اپنی والدہ کے نام بطور امانت رکھ دی، اب والدہ اس جائیداد کو تمام اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہتی ہیں اور اس جائیداد سے حاصل ہونے والا کرایہ بھی خود رکھ رہی ہیں، نیز وہ یہ جائیداد واپس کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا والدہ شرعاً اس جائیداد کے اس 3/4 حصے کو جو بیٹے نے اپنی رقم سے خریدا تھا، تمام اولاد میں تقسیم کرسکتی ہیں؟ کیا والدہ کا اس جائیداد سے حاصل ہونے والا کرایہ اپنے پاس رکھنا جائز ہے؟ اور کیا بیٹا اپنی ملکیت اور امانت کے طور پر والدہ کے پاس رکھی ہوئی جائیداد واپس لینے کا حق رکھتا ہے؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر واقعتاً جائیداد کا تین چوتہائی (3/4) حصہ بیٹے نے اپنی ذاتی رقم سے خریدا تھا اور باقی ایک چوتہائی (1/4) حصہ اسے والد کی وراثت میں ملا تھا تو جائیداد کا مکمل حصہ اسی بیٹے کی ملکیت شمار ہوگا، اس کے دیگر بہن بھائی اس میں شریک نہیں ہوں گے۔
نیز اگر بیٹے نے بیرونِ ملک رہنے کی وجہ سے اپنی سہولت کے لیے جائیداد اپنی والدہ کے نام صرف بطورِ امانت رکھی تھی اور حقیقت میں ملکیت منتقل کرنے یا والدہ کو ہبہ کرنے کا ارادہ نہیں تھا تو محض کاغذات میں والدہ کا نام درج ہونے سے وہ جائیداد ان کی ملکیت نہیں بنے گی، بلکہ وہ بیٹے ہی کی ملکیت رہے گی، لہٰذا والدہ کے لیے شرعاً یہ جائز نہیں کہ وہ بیٹے کی اجازت کے بغیر اس کے ذاتی ملکیتی حصے کو دیگر اولاد میں تقسیم کریں یا اسے اپنی ملکیت قرار دیں۔ اسی طرح اس جائیداد سے حاصل ہونے والا کرایہ بھی اصل مالک یعنی بیٹے کا حق ہے، والدہ کے لیے اسے استعمال کرنا یا اپنے پاس رکھنا جائز نہیں، الا یہ کہ بیٹا اپنی خوشی سے انہیں اس کی اجازت دے۔
لہٰذا بیٹا اپنی ملکیت کی جائیداد والدہ سے واپس لینے کا شرعاً حق رکھتا ہے اور والدہ پر لازم ہے کہ امانت کی حفاظت کرتے ہوئے جائیداد اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی اپنے اس بیٹے کو واپس کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکریم: (البقرة، الایة: 188﴾*
وَلَا تَأْكُلُوٓا أَمْوَٰلَكُم بَيْنَكُم بِٱلْبَٰطِلِ ... الخ
*صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 1610)*
حدثنا يحيى بن أيوب وقتيبة بن سعيد وعلي بن حجر قالوا حدثنا إسمعيل وهو ابن جعفر عن العلاء بن عبد الرحمن عن عباس بن سهل بن سعد الساعدي عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من اقتطع شبرا من الأرض ظلما طوقه الله إياه يوم القيامة من سبع أرضين".
*مشكاة المصابيح: (رقم الحديث: 2946، 889/2، ط: المكتبة الإسلامي)*
وَعَن أبي حرَّة الرقاشِي عَن عَمه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «أَلا تَظْلِمُوا أَلَا لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان وَالدَّارَقُطْنِيّ فِي الْمُجْتَبى.
*الدر المختار: (689/5، ط: سعید)*
"بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة"۔
*شرح المجلة: (رقم المادۃ: 837)*
تنعقد الهبة بالإیجاب والقبول، وتتم بالقبض الکامل؛ لأنها من التبرعات، والتبرع لا یتم إلا بالقبض".
*الھندیة: (378/4، ط: رشیدیه)*
"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية".
*بدائع الصنائع: (57/7، ط: دار الکتب العلمیة)*
لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال «- عليه الصلاة والسلام - من ترك مالا أو حقا فهو لورثته» ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث ولا يجري فيه التداخل
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی