resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: نابالغ بچیوں کا نفقہ اور اخراجات وراثتی مال سے پورا کرنا، نیز نابالغ بچیوں کے وراثتی مال کی نگہداشت اور ولایت کا حکم

(62542-No)

سوال: محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، ایک شخص کا انتقال ہو گیا ہے، اس کے پیچھے ایک بیوہ اور دو نابالغ بیٹیاں ہیں، ایک بیٹی کی عمر 12 سال ہے جبکہ دوسری بیٹی کی عمر 6 ماہ ہے، مرحوم کے والد (بچیوں کے دادا) حیات ہیں اور ان کی عمر تقریباً 75 سال ہے، لیکن وہ کوئی کام نہیں کرتے اور ان کی کوئی آمدنی نہیں ہے، مرحوم کی والدہ (دادی) بھی حیات ہیں، مرحوم کے بھائی اور بہنیں بھی زندہ ہیں، مرحوم کی بیوہ اپنی عدت اپنے شوہر کے گھر کے بجائے اپنی والدہ کے گھر گزار رہی ہے اور دونوں نابالغ بچیاں بھی اپنی والدہ کے ساتھ نانا کے گھر رہ رہی ہیں، مرحوم نے تقریباً 25 لاکھ روپے کا ترکہ چھوڑا ہے۔
سوالات:
1) دونوں نابالغ بچیوں کے کھانے، لباس، علاج، تعلیم اور دیگر ضروری اخراجات شرعاً کس کے ذمہ ہیں؟
2) چونکہ بچیوں کی والدہ اور دادا دونوں کوئی آمدنی نہیں رکھتے، تو ایسی صورت میں بچیوں کا خرچہ کون اٹھائے گا؟
3) کیا بچیوں کے اپنے وراثتی حصے سے ان کی ضروریات کا خرچہ کیا جا سکتا ہے؟ اگر ہاں، تو کس کی اجازت اور کس طریقے سے؟
4) کیا بیوہ کا اپنی عدت ماں کے گھر گزارنا بچیوں کے نفقے کے حکم پر کوئی اثر ڈالتا ہے؟
5) نابالغ بچیوں کے وراثتی مال کی نگرانی اور حفاظت کس کی شرعی ذمہ داری ہے؟
6) مرحوم کے 25 لاکھ روپے کے ترکے میں بیوہ، دونوں بیٹیوں، دادا اور دادی کے حصے کتنے ہوں گے؟ اور کیا مرحوم کے بھائی بہنوں کو بھی کوئی حصہ ملے گا؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں مکمل شرعی رہنمائی اور فتویٰ عنایت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: 3-1) دونوں نابالغ بچیاں اپنے والد کی وفات کے بعد اپنے باپ کے ترکے میں شرعی حصے کی مالک ہوگئی ہیں، ان کے کھانے، لباس، علاج، تعلیم اور دیگر ضروری اخراجات بنیادی طور پر ان کے اپنے مال سے بقدرِ ضرورت اور معروف طریقے کے مطابق پورے کیے جائیں گے۔

4) بیوہ کا اپنی عدت اپنے شوہر کے گھر کے بجائے اپنی والدہ کے گھر گزارنے سے بچیوں کے نفقے کے حکم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، بچیوں کا مال اور ان کے اخراجات کا حکم مستقل ہے۔
5) نابالغ بچیوں کے مال کی حفاظت ان کے شرعی ولی کی ذمہ داری ہے، مذکورہ صورت میں مرحوم کا والد یعنی بچیوں کا دادا حیات ہے، اس لیے وہ ان کے مال کی نگرانی اور حفاظت کا شرعی ولی ہوگا، بشرطیکہ وہ اس ذمہ داری کی اہلیت رکھتا ہو، البتہ بچیوں کے مال میں ان کے مفاد کے خلاف تصرف کرنا یا اسے ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں، ان کے مال سے صرف ان کی ضروریات اور ان کے مفاد میں جائز طریقے سے خرچ کیا جائے گا۔
6) مرحوم کی تجہیز و تکفین کے جائز اور متوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل ترکہ ستائیس (27) حصوں می تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے بیوہ کو تین (3)، دونوں بیٹیوں میں ہر بیٹی کو آٹھ (8)، والدہ کو چار (4) اور والد کو چار (4) حصے ملیں گے، جبکہ والد کی موجودگی میں مرحوم کے بہن بھائیوں کو بھائی کی میراث میں سے کچھ نہیں ملے گا۔
اس تقسیم کی رو سے 25 لاکھ روپے میں سے بیوہ کو دو لاکھ ستتر ہزار سات سو ستتر روپے اور ستتر (2,77,777.77) پیسے، دونوں بیٹیوں میں ہر بیٹی کو سات لاکھ چالیس ہزار سات سو چالیس روپے اور چھہتر (7,40,740.74) پیسے، والدہ کو تین لاکھ ستر ہزار تین سو ستر روپے اور سینتیس (3,70,370.37) پیسے اور والد کو تین لاکھ ستر ہزار تین سو ستر روپے اور سینتیس(3,70,370.37) پیسے ملیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*القرآن الکریم: (النساء، الایة: 11)*
يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِىٓ أَوْلَٰدِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ ٱثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَٰحِدَةً فَلَهَا ٱلنِّصْفُ ۚ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَٰحِدٍۢ مِّنْهُمَا ٱلسُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُۥ وَلَدٌ ۚ... الخ

*و قوله تعالیٰ: (النساء، الایة: 12)*
وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ... الخ

*الفتاوی الھندیة: (450/6، ط: دار الفکر)*
ويسقط الإخوة والأخوات بالابن وابن الابن وإن سفل وبالأب بالاتفاق.

*الهداية: (488/2، ط: دار الکتب العلمیة)*
إنما تجب النفقة على الأب إذا لم يكن للصغير مال أما إذا كان فالأصل أن نفقة الإنسان في مال نفسه صغيرا كان أو کبیرا.

*الدر المختار مع رد المحتار: (کتاب المأذون، مبحث في تصرف الصبي و من له الولایة، 174/6، ط: سعید)*
"وولیه أبوہ ثم وصي الأب ثم الجد أبو الأب ثم وصیه ثم الوالي أو القاضي أووصي القاضي".

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster