سوال:
محترم مفتی صاحب! ہمارا گھر 69,00,000 روپے میں فروخت ہوا ہے، اس گھر کی اونرشپ اور کلر وغیرہ کروانے کے لیے میرے ایک بھائی نے 2,80,000 روپے دیے تھے اور کہا تھا کہ جب گھر فروخت ہو تو یہ رقم مجھے واپس دے دینا۔
2,80,000 روپے نکالنے کے بعد 66,20,000 روپے باقی رہتے ہیں۔ اس گھر کے ورثاء میں دوبیٹے، تین بیٹیاں اور ایک بیوہ ہیں، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ ہر ایک کا کتنا شرعی حصہ بنتا ہے؟ جزاکم اللہ خیراً
جواب: واضح رہے کہ اگر مذکورہ دو لاکھ اسی ہزار (2,80,000) روپے بیٹے نے گھر کی ملکیت کے کاغذات (اونرشپ) اور رنگ وغیرہ کے اخراجات کے لیے اس شرط پر دیے تھے کہ گھر فروخت ہونے کے بعد یہ رقم اسے واپس کردی جائے گی تو یہ رقم اس کی طرف سے قرض شمار ہوگی، لہٰذا گھر فروخت ہونے کے بعد سب سے پہلے اس کے 2,80,000 روپے واپس کیے جائیں گے، اس کے بعد باقی رقم 66,20,000 روپے ترکہ شمار ہوگی، جسے تمام شرعی ورثاء میں ان کے مقررہ حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
مرحوم کی تجہیز و تکفین کے جائز اور متوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل رقم کو آٹھ (8) حصوں میں تقسم کیا جائے گا، جس میں سے بیوہ کو ایک (1)، دونوں بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو دو (2) اور تینوں بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو ایک (1) حصہ ملے گا۔
اس تقسیم کی رو سے چھیاسٹھ لاکھ بیس ہزار (6620000) روپے میں سے بیوہ کو آٹھ لاکھ ستائیس ہزار پانچ سو روپے (827500) روپے، دونوں بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو سولہ لاکھ پچپن ہزار (1655000) روپے اور تینوں بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو آٹھ لاکھ ستائیس ہزار پانچ سو (827500) روپے ملیں گے۔ق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکریم: (النساء، الایة: 11)*
يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِىٓ أَوْلَٰدِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۚ
*و قوله تعالیٰ: (النساء، الایة: 12)*
وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ... الخ
*السراجي في الميراث:(ص:5، 6، ط:مكتبة البشرى)*
"قال علماؤنا رحمهم الله: تتعلق بتركة الميت حقوق أربعة مرتبتة: الأول: يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غيره تبذير ولاتقتير، ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله، ثم تنفذ وصاياه من ثلث مابقي بعد الدين، ثم يقسم الباقي بين ورثته بالكتاب والسنة وإجماع الأمة."
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی