resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بیوی کے انتقال کے بعد غیر ادا شدہ مہر اور مرحومہ کے ترکہ (جہیز، زیورات اور کیش وغیرہ) کی شرعی تقسیم

(59400-No)

سوال: السلام علیکم، میری بیوی کا انتقال ہوگیا ہے اور ہماری کوئی اولاد بھی نہیں ہے۔ ہماری شادی کو تقریباً نو ماہ ہوئے تھے۔ میں نے ابھی تک حقِ مہر ادا نہیں کیا تھا۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
1) میری مرحومہ بیوی کا حقِ مہر اب کس کو ادا کرنا ہوگا؟
2) اس کے علاوہ مرحومہ کا جو سامان اور دیگر مال و اسباب موجود ہے، اس کا شرعی وارث کون ہوگا اور اسے کس طرح تقسیم کیا جائے؟ براہِ کرم اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔

جواب: 1) واضح رہے کہ اگر نکاح کے بعد بیوی کا مہر ادا نہ کیا گیا ہو اور اسی دوران بیوی کا انتقال ہوجائے تو غیر ادا شدہ مہر مرحومہ کے ترکہ کا حصہ بن جاتا ہے، جسے اس کے شرعی ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کیا جائے گا،۔لہٰذا اگر مرحومہ کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کے کل ترکے کا آدھا (1/2) حصہ شوہر کو ملے گا، جبکہ باقی ترکہ دیگر شرعی ورثاء میں ان کے مقررہ حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔
2) مرحومہ کی تمام ملکیتی اشیاء، مثلاً: جہیز، زیورات، نقد رقم، جائیداد اور دیگر اموال بھی ان کے انتقال کے بعد ترکہ شمار ہوں گے اور ان کی تقسیم شریعت کے مقرر کردہ قانونِ میراث کے مطابق ان کے شرعی ورثاء کے درمیان ہوگی، البتہ اگر کسی چیز کی ملکیت شوہر یا کسی دوسرے شخص کی ثابت ہو تو وہ مرحومہ کے ترکہ میں شامل نہیں ہوگی۔
نوٹ: مرحومہ کے ترکہ کی حتمی شرعی تقسیم ان کے تمام زندہ شرعی ورثاء کی مکمل تفصیل معلوم ہونے کے بعد ہی بتائی جاسکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (النساء، الایة: 12)
وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ....الخ

السنن الکبریٰ للبیهقي: (کتاب الصداق، رقم الحدیث: 14850، 51/11، ط: دار الفکر)
"محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان عن النبي صلی اﷲ علیه وسلم مرسلاً: من کشف خمار امرأة ونظر إلیها، فقد وجب الصداق دخل بها، أولم یدخل".

رد المحتار: (157/3، ط: دار الفکر)
قال الشيخ الإمام الأجل الشهيد: المختار للفتوى أن يحكم بكون الجهاز ملكا لا عارية لأن الظاهر الغالب إلا في بلدة جرت العادة بدفع الكل عارية فالقول للأب. وأما إذا جرت في البعض يكون الجهاز تركة يتعلق بها حق الورثة هو الصحيح. اه.

و فیه ایضاً: (باب المهر، 100/3، ط: دار الفکر)
ثم عرف المهر في العناية بأنه اسم للمال الذي يجب في عقد النكاح على الزوج في مقابلة البضع إما بالتسمية أو بالعقد، واعترض بعدم شموله للواجب بالوطء بشبهة ومن ثم عرفه بعضهم بأنه اسم لما تستحقه المرأة بعقد النكاح أو الوطء وأجاب في النهر بأن المعروف مهر هو حكم النكاح بالعقد تأمل.

رد المحتار: (758/6، ط: دار الفکر)
وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقةً أو حكمًا كمفقود أو تقديرًا كجنين فيه غرة، ووجود وارثه عند موته حيًّا حقيقةً أو تقديرًا كالحمل، والعلم بجهل إرثه.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster