resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: مناسخہ میں 18 کروڑ روپے کی ورثاء کے درمیان تقسیم

(63605-No)

سوال: ایک شخص کا 1997ء میں انتقال ہوا، پسماندگان میں 4 شادی شدہ بیٹے، 4 شادی شدہ بیٹیاں اور ایک بیوہ شامل تھیں، مرحوم کی وراثت میں ایک مکان تھا، جس کی موجودہ مالیت 18 کروڑ پاکستانی روپے ہے۔
بعد ازاں 2011ء میں مرحوم کی ایک شادی شدہ بیٹی کا انتقال ہوگیا، اس کے پسماندگان میں 3 بیٹے، 1 بیٹی اور ایک شوہر شامل تھے، جبکہ اس کے نام کوئی قابلِ ذکر مال یا جائیداد نہیں تھی۔
پھر 2020ء میں مرحوم کی بیوہ کا بھی انتقال ہوگیا، اب 2026ء میں خاندان نے مذکورہ مکان جس کی موجودہ مالیت 18 کروڑ روپے ہے، فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ حنفی شریعت کے مطابق مذکورہ مکان کی رقم میں 4 بیٹوں، 3 زندہ بیٹیوں اور 1997ء میں فوت ہونے والے شخص کی اس بیٹی، جو 2011ء میں فوت ہوگئی تھی، کے بچوں اور شوہر کا کتنا حصہ ہوگا؟

جواب: مرحومین کی تجہیز وتکفین کے جائز اورمتوسط اخراجات،قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل رقم 18 کروڑ (180,000,000) کو بارہ ہزار چھ سو بہتّر (12672) حصوں پر تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے مرحوم کے چاروں زندہ بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو دوہزار ایک سو چونسٹھ (2164) حصے، تینوں بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو ایک ہزار بیاسی (1082) حصے،مرحومہ بیٹی کے شوہر کو دو سو اکتّیس (231) حصے، مرحومہ بیٹی کے تینوں بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو ایک سو چوّن (154) حصے، جبکہ مرحومہ بیٹی کی بیٹی کو ستتّر (77) حصے ملیں گے۔
اس تقسیم کی رو سے کل رقم 18 کروڑ (180,000,000) میں سے مرحوم کے چاروں بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو تین کروڑ سات لاکھ اڑتیس ہزار چھ سو چھتیس (30,738,636) روپے، تینوں بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو ایک کروڑ ترپن لاکھ انہتر ہزار تین سو اٹھارہ (15,369,318) روپے،مرحومہ بیٹی کے شوہر کو بتیس لاکھ اکیاسی ہزار دو سو پچاس (3,281,250) روپے، مرحومہ بیٹی کے تینوں بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو اکیس لاکھ ستاسی ہزار پانچ سو (2,187,500) روپے، جبکہ مرحومہ بیٹی کی بیٹی کو دس لاکھ ترانوے ہزار سات سو پچاس (1,093,750) روپے ملیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*القرآن الکریم: (النساء، الایة: 11، 12)*
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ..... وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌۚ
فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ...الخ

*القرآن الکریم: (النساء، الایة: 176)*
وَإِن كَانُواْ إِخْوَةً رِّجَالاً وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ... الخ

*الھندیة: (450/6، ط: دار الفکر)*
ويسقط الإخوة والأخوات بالابن وابن الابن وإن سفل وبالأب بالاتفاق.

*الدر المختار: (کتاب الفرائض، 81/6، ط: دار الفکر)*
فصل في المناسخة (مات بعض الورثة قبل القسمة للتركة صححت المسألة الأولى) وأعطيت سهام كل وارث (ثم الثانية) ... الخ

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster