resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: مرحومہ کی امانت میں رکھا ہوا سونا، وارث کے لیے وصیت اور ترکہ میں اس کی شرعی حیثیت

(59402-No)

سوال: ہمارے پاس امانت پڑی ہوئی ہے، ہماری نانو نے میری والدہ کے پاس کچھ چیزیں امانت رکھوائی تھی ، اپنے بھائی کے لیے کہ جب تھوڑے سے اس کے حالات اس طرح ہوئے تو تم نے اس کو وہ امانت لوٹا دینی ہے، اس کی گولڈیہ تمہارے پاس امانت ہے ، میری نانو کو فوت ہوئے چار سال ہو گئے ہیں اور چار سالوں سے اس سونے کی زکوة بھی نہیں دی گئی اور ابھی تک وہ ہمارے پاس ہی پڑا ہوا ہے اور اب باقی جو بہن بھائی ہیں وہ کہہ رہے ہیں کہ ابھی بھی ان کو وہ گولڈ مت دیں کیونکہ اگر آپ دیں گے تو وہ کھا پی بیٹھیں گے، ختم کر دیں گے، ضائع کر دیں گے، پیسے کسی کو دے دیں گے، اس صورت میں کیا کیا جائے؟
اور یہ جو زکوة چار سالوں سے بن رہی ہے، مزید اگر ابھی ہم نہ دیں تو اس کا کیا طریقہ کار ہے؟ اور ہمیں وہ امانت ان کو دے دینی چاہیے یا نہیں دینی چاہیے؟ اس ڈر سے نہیں دے رہے کہ وہ کسی کو دے دیں گے یا ضائع کر دیں گے۔ ہاں، وہ ہیں اس طرح کے کہ پیسے ان کے ہاتھ میں آتے ہیں تو وہ خرچ کر دیتے ہیں، ضائع کر دیتے ہیں، لیکن دوسری طرف زندگی موت کا انسان کا نہیں پتہ ہوتا، اگر میری والدہ کے پاس امانت ہے تو اس کا پھر کیا کیا جائے؟ مجھے ذرا اسلام کی روح کے مطابق اس کا پراپر جواب دیں اور اگر کوئی فتویٰ سامنے ہے وہ بھی میرے ساتھ شیئر کریں۔
کیا یہ مال وراثت میں شمار نہیں ہوگا اور کیا مرنے والی کی وصیت اس کے ایک وارث کے حق قابل عمل ہوگی باقی ورثاء محروم کر دیئے جائیں گے؟ کیونکہ مرنے والی نے اپنی زندگی میں اپنا مال اپنے اس بیٹے کے حوالے نہیں کیا ہے۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں مرحومہ نانو نے اپنی زندگی میں مذکورہ سونا اپنے بیٹے کے حوالے کرکے اس کی ملکیت نہیں بنایا تھا، بلکہ وہ سونا آپ کی والدہ کے پاس امانت کے طور پر رکھا تھا اور یہ کہا تھا کہ مناسب وقت پر اسے ان کے بھائی کو دے دینا۔ تو آپ کی والدہ صرف وکیل تھیں، اور وکالت موت سے ختم ہوگئی ہے۔ لہٰذا محض یہ کہہ دینا کہ ’’یہ سونا میرے بیٹے کو دے دینا‘‘، اس سے ملکیت ثابت نہیں ہوئی، اور مرحومہ کے انتقال کے وقت سونا بدستور انہی کی ملکیت میں تھا۔ اس لیے یہ سونا ان کے ترکہ میں شامل ہوگیا اور ان کے انتقال کے ساتھ ان کے تمام شرعی ورثاء اپنے اپنے حصوں کے حق دار ہوگئے۔
اگر مرحومہ کا مقصود یہ تھا کہ ان کے انتقال کے بعد یہ سونا ان کے ایک وارث، مثلاً بیٹے کو دے دیا جائے، تو یہ وصیت للوارث کے حکم میں ہوگا، اور فقہِ حنفی کے مطابق دوسرے بالغ اور عاقل ورثاء کی رضامندی کے بغیر ایسی وصیت نافذ نہیں ہوتی۔ حدیث میں ہے: «لا وصية لوارث» (سنن ابن ماجه، 2/906، دار إحياء الكتب العربية)، یعنی ’’وارث کے لیے وصیت نہیں۔‘‘ لہٰذا باقی ورثاء کو محروم کرکے صرف اس ایک بیٹے کو پورا سونا دے دینا شرعاً لازم نہیں، بلکہ اگر تمام شرعی ورثاء بالغ، عاقل اور اپنی خوشی سے اس وصیت کو منظور کریں تو وہ سونا اسی بیٹے کو دیا جاسکتا ہے، اور اگر بعض ورثاء اجازت دیں اور بعض نہ دیں تو صرف اجازت دینے والوں کے حصوں کی حد تک اس وصیت کو نافذ کیا جاسکتا ہے۔
نیز فقہی فتاویٰ میں بھی صراحت ہے کہ اگر کسی چیز کے ہبہ کے متعلق محض قول ہو اور موہوب لہ کو زندگی میں قبضہ نہ دیا گیا ہو تو ہبہ مکمل نہیں ہوتا اور وہ چیز مالک کے انتقال کے بعد اس کے ترکہ میں شامل ہوتی ہے۔ لہٰذا موجودہ صورت میں سونا آپ کی والدہ کے پاس امانت ہے، اسے محض اس خوف کی وجہ سے کہ متعلقہ بیٹا اسے ضائع کردے گا، ہمیشہ کے لیے روکنا درست نہیں؛ بلکہ پہلے مرحومہ کے تمام شرعی ورثاء متعین کرکے ان کے حصے معلوم کیے جائیں، پھر اگر وہ سب باہمی رضامندی سے مذکورہ بیٹے کو اس کا حصہ یا وصیت کے مطابق اپنے اپنے حصے سے زائد دینے پر راضی ہوں تو دے سکتے ہیں، ورنہ ہر وارث کو اس کا شرعی حق دیا جائے۔ البتہ اگر متعلقہ شخص مالی تصرف میں کمزور ہے تو اس کے اپنے شرعی حصے کو محفوظ طریقے سے، اس کی اجازت اور رضامندی کے ساتھ، خرچ کرنے یا محفوظ رکھنے کا انتظام کیا جاسکتا ہے، مگر محض اندیشے کی بنیاد پر اس کے شرعی حق کو روکنا جائز نہیں۔
باقی جہاں تک اس سونے پر گزشتہ چار سالوں کی زکوٰۃ کا تعلق ہے تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ مالِ میراث تقسیم سے پہلے اگرچہ ورثاء کی ملکیت میں ہوتا ہے، لیکن جب تک باقاعدہ تقسیم نہ ہو، ہر وارث کا حصہ دینِ ضعیف کے حکم میں ہوتا ہے۔ اور دینِ ضعیف پر قبضہ سے پہلے زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔ اس لیے ترکہ پر اس وقت تک زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی جب تک اسے شرعی ورثاء کے درمیان ان کے حصص کے مطابق تقسیم نہ کردیا جائے، کیونکہ زکوٰۃ کے واجب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ مال پر ملکیت کے ساتھ اس پر قبضہ بھی ہو۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں تقسیم سے پہلے گزشتہ چار سال کی زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی، البتہ تقسیم کے بعد جو وارث پہلے سے صاحبِ نصاب ہو، وہ اپنے دیگر اموال کے ساتھ اس مال کی بھی زکوٰۃ ادا کرے گا۔ جو وارث پہلے سے صاحبِ نصاب نہ ہو، تقسیم کے بعد اگر وہ صاحبِ نصاب ہوجائے اور اس پر مکمل سال بھی گزر جائے تو اس صورت میں اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔
خلاصہ: چونکہ نانو نے اپنی زندگی میں سونا اپنے بیٹے کو مالک بناکر اس کے قبضے میں نہیں دیا تھا، اس لیے وہ سونا ان کی وفات کے بعد ترکہ ہے، اور محض ان کی خواہش یا وصیت کی وجہ سے باقی شرعی ورثاء کے حقوق ختم نہیں ہوسکتے۔ زکوٰۃ تقسیم سے قبل گزشتہ سالوں کی واجب نہیں ہوگی، اور جس وارث کی ملکیت میں جو حصہ آئے گا، اس کے حساب سے اس پر سابقہ سال یا نئے سال کے حساب سے زکوٰۃ واجب ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

سنن ابن ماجه: (906/2، ط: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي)
عن أنس بن مالك قال: إني لتحت ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم يسيل علي لعابها فسمعته يقول: «إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه، ألا لا وصية لوارث»

البحرالرائق: (286/7، ط: دار الكتاب الإسلامي)
قد ذكرنا أن الهبة لا تتم إلا بالقبض، والقبض نوعان حقيقي وأنه ظاهر وحكمي وذلك بالتخلية..."

الدر المختار: (692/5، ط: دار الفكر)
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل... فإن قسمه وسلمه صح لزوال المانع."

الدر المختار: (656/6، ط: دار الفكر)
"(ولا لوارثه وقاتله مباشرة) لا تسبيبا كما مر (إلا بإجازة ورثته) لقوله عليه الصلاة والسلام: «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث وسنحققه (وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون وإجازة المريض كابتداء وصية ولو أجاز البعض ورد البعض جاز على المجيز بقدر حصته..."

بدائع الصنائع: (337/7، ط: دار الكتب العلمية)
(ومنها) أن لا يكون وارث الموصي وقت موت الموصي، فإن كان لا تصح الوصية لما روي عن أبي قلابة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «إن الله تبارك وتعالى أعطى كل ذي حق حقه، فلا وصية لوارث»..."

الدر المختار: (758/6، ط: دار الفكر)
"والثالث إما اختياري وهو الوصية أو اضطراري وهو الميراث وسمي فرائض لأن الله تعالى قسمه بنفسه... قواعد وضوابط تعرف ... حق كل واحد من الورثة: أي قدر ما يستحقه من التركة..."

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: (55/3، ط: دار الكتب العلمية)
"كما أن أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين الورثة على حسب حصصهم، كذلك يكون الدين الذي له في ذمة شخص مشتركا بينهم على قدر حصصهم."

الفتاوى الهندية: (172/1، ط: دار الفكر)
أما الشرائط التي ترجع إلى المال فمنها: الملك .........الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة كذا في السراج الوهاج.

بدائع الصنائع: (9/2، ط: دار الكتب العلمية)
ومنها الملك المطلق وهو أن يكون مملوكا له رقبة ويدا وهذا قول أصحابنا الثلاثة.

بدائع الصنائع: (10/2، ط: دار الكتب العلمية)
جملة الكلام في الديون أنها على ثلاث مراتب في قول أبي حنيفة: دين قوي، ودين ضعيف، ودين وسط كذا قال عامة مشايخنا أما القوي فهو الذي وجب بدلا عن مال التجارة كثمن عرض التجارة من ثياب التجارة، وعبيد التجارة، أو غلة مال التجارة ولا خلاف في وجوب الزكاة فيه إلا أنه لا يخاطب بأداء شيء من زكاة ما مضى ما لم يقبض أربعين درهما، فكلما قبض أربعين درهما أدى درهما واحدا.وعند أبي يوسف ومحمد كلما قبض شيئا يؤدي زكاته قل المقبوض أو كثر.
وأما الدين الضعيف فهو الذي وجب له بدلا عن شيء سواء وجب له بغير صنعه كالميراث، أو بصنعه كما لوصية، أو وجب بدلا عما ليس بمال كالمهر، وبدل الخلع، والصلح عن القصاص، وبدل الكتابة ولا زكاة فيه ما لم يقبض كله ويحول عليه الحول بعد القبض.

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster