resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: والد کی وفات کے بعد زرعی زمین، پلاٹ اور مکان میں بہنوں کے شرعی حق اور ترکہ کی آمدنی کی تقسیم کا حکم

(60501-No)

سوال: السلام علیکم، ہم چھ بہنیں اور تین بھائی ہیں، ہمارے والد صاحب کا چھ سال پہلے انتقال ہو گیا تھا، والد صاحب اپنی وراثت میں کچھ زرعی زمین، ایک پلاٹ اور ایک گھر چھوڑ گئے ہیں جس میں والدہ اور بھائی مقیم ہیں، شرعاً تو والد کے انتقال کے فوراً بعد جائیداد کی تقسیم ہو جانی چاہیے تھی، بھائی نے زمینوں کا بٹوارہ کر کے تمام بہن بھائیوں کے نام چڑھا دی ہیں لیکن ہمیں بہنوں کو نہیں پتہ کہ وہ زمینیں کہاں ہیں؟ تمام زمینوں کے معاملات ہمارا منجھلا بھائی دیکھتا ہے، وہ کہتا ہے زمینیں ہاتھ بٹائی پر دی ہوئی ہیں جس سے وہ ہر بہن کو تھوڑا تھوڑا کر کے سالانہ 150000 دیتا ہے، جو پلاٹ ہے وہ بھی ایسے ہی پڑا ہے، جب ہم اسے بیچنے کا کہتے ہیں تو بڑا بھائی کہتا ہے میں نے فروخت کا بولا ہوا ہے لیکن کس کو اور کتنے میں، یہ ہمیں نہیں معلوم، اس کے علاوہ جس گھر میں والدہ اور بھائی مقیم ہیں اس میں ہم سب کا حصہ ہے، ہم سب بہنیں کسی نہ کسی ضرورت میں پھنسی ہوئی ہیں اور ہم والدہ اور بھائیوں کی ناراضگی مول نہیں لینا چاہتیں، اس لیے ہم چاہتی ہیں کہ اس پر شریعت کیا کہتی ہے، اس پر ایک فتویٰ چاہیے تاکہ آخرتکے معاملات کو دیکھ کر ہی ہمارے گھر والے کوئی فیصلہ لیں۔ والسلام

جواب: والد کے انتقال کے بعد ان کی زرعی زمین، پلاٹ اور مکان سمیت تمام ترکہ شرعی ورثاء کی ملکیت میں منتقل ہوگیا تھا، لہٰذا کسی ایک بھائی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ تمام جائیداد کا انتظام اپنی مرضی سے کرے اور دوسرے ورثاء کو جائیداد کی مکمل تفصیل، آمدنی اور معاملات سے بے خبر رکھے۔
اگر زرعی زمین تمام ورثاء کے نام منتقل ہوچکی ہے تو ہر وارث اپنے شرعی حصے کا مالک ہے، زمین کو بٹائی پر دینا، اس کی آمدنی وصول کرنا اور اس آمدنی کو تقسیم کرنا تمام ورثاء کی رضامندی اور باہمی طے شدہ طریقے کے مطابق ہونا چاہیے۔ ہر بہن کو سالانہ 150,000 روپے دینا اسی وقت درست ہوگا جب یہ رقم اس کے شرعی حصے کے مطابق اس کی مکمل آمدنی ہو، محض اپنی طرف سے کوئی رقم مقرر کرکے دینا کافی نہیں۔
اسی طرح پلاٹ بھی تمام شرعی ورثاء کی مشترکہ ملکیت ہے، اسے فروخت کرنے یا اس کے متعلق کوئی فیصلہ کرنے کے لیے تمام بالغ ورثاء کی رضامندی ضروری ہے، کسی ایک بھائی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ دوسرے ورثاء کی اجازت کے بغیر اسے اپنے پاس رکھے۔
رہا وہ گھر جس میں والدہ اور بھائی رہتے ہیں تو اگر وہ مکان مرحوم والد کی ملکیت تھا تو وہ بھی تمام شرعی ورثاء کا مشترکہ ترکہ ہے، والدہ اور بھائیوں کا اس میں رہنا بہنوں کے شرعی حصے کو ختم نہیں کرتا، البتہ اگر سب ورثاء باہمی رضامندی سے کسی کو رہنے کی اجازت دیں تو اس کی گنجائش ہے۔
لہٰذا بہنوں کا اپنے شرعی حصے کا مطالبہ کرنا قطع رحمی یا والدہ اور بھائیوں کی نافرمانی نہیں ہے، ہر وارث کو اپنے حقِ وراثت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور اپنے حصے کا مطالبہ کرنے کا شرعی حق حاصل ہے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں بھائیوں اور والدہ پر شرعاً لازم ہے کہ مرحوم کا ترکہ شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کرکے ہر وارث کو اس کا مقررہ حصہ ادا کریں، بلا عذرِ شرعی وراثت کی تقسیم میں تاخیر کرنا یا کسی وارث کو اس کے حق سے محروم رکھنا جائز نہیں، جبکہ ورثاء کو اس کی ضرورت بھی ہے، اگر بھائی اور والدہ بلا عذرِ شرعی ترکہ تقسیم نہیں کرتے اور ورثاء کے حقوق روک کر رکھتے ہیں تو اس پر وہ گناہ گار ہوں گے۔
لہذا مناسب یہ ہے کہ انہیں حسنِ اخلاق اور حکمت کے ساتھ سمجھایا جائے کہ میراث کی بر وقت تقسیم (خصوصاً جب دیگر ورثاء اس کا مطالبہ کر رہے ہوں) شریعت کا حکم ہے، اور ہر حق دار کو اس کا شرعی حق ادا کرنا لازم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*القرآن الکریم: (البقرة، الآية: 188)*
وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ... الخ

*و قوله تعالی: (النسآء، الایة: 7)*
لِلرِّجَالِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا تَرَکَ الۡوَالِدٰنِ وَ الۡاَقۡرَبُوۡنَ ۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا تَرَکَ الۡوَالِدٰنِ وَ الۡاَقۡرَبُوۡنَ مِمَّا قَلَّ مِنۡه اَوۡ کَثُرَ ؕ نَصِیۡبًا مَّفۡرُوۡضًا o

*مشکوۃ المصابیح: (باب الغصب و العاریة، 254/1، ط: قدیمی)*
عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين».

*و فیه ایضاً: (باب الوصایا، الفصل الثالث، 266/1، ط: قدیمی)*
وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه".

*الفقه الإسلامي و أدلته للزحيلي: (4984/7، ط: دار الفكر)*
ليس المرء حرا بالتصرف في ماله بعد وفاته حسبما يشاء كما هو مقرر في النظام الرأسمالي، وإنما هو مقيد بنظام الإرث الذي يعتبر في الإسلام من قواعد النظام الإلهي العام التي لا يجوز للأفراد الاتفاق على خلافها، فالإرث حق جبري.

*الفتاوى الهندية: (الباب الثالث عشر في المتفرقات، 231/5، ط: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)*
وإذا طلب أحد الشريكين القسمة وأبى الآخر فأمر القاضي قاسمه ليقسم بينهما

*درر الحكام في شرح مجلة الاحكام:(باب في بيان القسمة، المادة: 1130، 128/3، ط: دار الجيل)*
إذا طلب أحد الشريكين القسمة وامتنع الآخر عنها ‌فيقسمه ‌القاضي ‌جبرا أي حكما إذا كان المال المشترك قابلا للقسمة؛ لأن القسمة هي لتكميل المنفعة والتقسيم في المال القابل للقسمة أمر لازم.

*شرح المجلة: (المقالة الثانیة، المادة: 97، 51/1، ط: رشیدیة)*
لايجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي.

*مجلة الاحکام العدلیه: (الکتاب العاشر، الشرکات، الباب الاول فی بیان شرکة الملک، الفصل الثانی، ص: 206، ط: نور محمد)*
المادة: 1073 تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم.

*بدائع الصنائع: (کتاب الغصب، فصل في حكم الغصب، 148/7، ط: دار الكتب العلمية)*
"وأما حكم الغصب فله في الأصل حكمان: أحدهما: يرجع إلى الآخرة، والثاني: يرجع إلى الدنيا. أما الذي يرجع إلى الآخرة فهو الإثم واستحقاق المؤاخذة إذا فعله عن علم؛ لأنه معصية، وارتكاب المعصية على سبيل التعمد سبب لاستحقاق المؤاخذة، وقد روي عنه - عليه الصلاة والسلام - أنه قال: «من غصب شبرا من أرض طوقه الله تعالى من سبع أرضين يوم القيامة» ...(أما) الذي يرجع إلى حال قيامه فهو وجوب رد المغصوب على الغاصب۔"

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster