سوال:
محترم مفتی صاحب! میں ایک غیر مسلم خاندان میں پیدا ہوا تھا, بعد میں اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کی توفیق عطا فرمائی اور میں نے مالکی فقہ کی پیروی اختیار کی۔ اس کے بعد کچھ عرصہ میں اثنا عشری (شیعہ) مسلک اور فقہ جعفری کی پیروی کرتا رہا، پھر میں اسلام سے خارج ہوگیا اور تقریباً دس سال تک اسلام سے باہر رہا، اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں اخلاص کے ساتھ دوبارہ اہلِ سنت والجماعت کے اسلام کی طرف رجوع کرنا، سچی توبہ کرنا اور صحیح طریقے سے دین پر عمل شروع کرنا چاہتا ہوں۔ اس سلسلے میں درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔
1) غیر مسلم والدہ کی پوری جائیداد بطور وصیت حاصل کرنے کا حکم
میری والدہ غیر مسلم ہیں، چند کزنز کے علاوہ ان کا کوئی قریبی رشتہ دار نہیں ہے، میرے والد بھی غیر مسلم ہیں اور حیات ہیں، لیکن میری والدہ اور والد نے نہ شرعی نکاح کیا تھا اور نہ ہی سول (قانونی) شادی۔
میں ان کا اکلوتا بیٹا ہوں اور میری والدہ چاہتی ہیں کہ اپنی وفات کے بعد اپنی تمام جائیداد قانونی طور پر میرے نام کر جائیں، اس جائیداد کی مالیت ان کے کل ترکے کے ایک تہائی سے کہیں زیادہ ہے، اس سلسلے میں درج ذیل سوالات ہیں:
1) اگر میں دوبارہ اسلام قبول کرلوں تو کیا میرے لیے میری غیر مسلم والدہ کی پوری جائیداد، جو وہ وصیت کے ذریعے میرے نام کرنا چاہتی ہیں، قبول کرنا شرعاً جائز ہوگا؟
2) کیا اس معاملے کا کوئی ایسا شرعی اور قانونی طریقہ موجود ہے جس کے ذریعے میری والدہ اپنی پوری جائیداد مجھے منتقل کرسکیں، اور انہیں یہ تاثر بھی نہ ملے کہ اسلام اپنی اکلوتی اولاد کو ایک تہائی سے زیادہ جائیداد دینے سے روکتا ہے؟
3) براہِ کرم درج ذیل دونوں صورتوں کا الگ الگ حکم بیان فرمائیں:
اگر ہم کسی اسلامی ملک میں رہ رہے ہوں۔ اگر ہم کسی غیر مسلم ملک میں رہ رہے ہوں، کیونکہ مستقبل میں ہمارا قیام کسی بھی قسم کے ملک میں ہوسکتا ہے۔
4) نیز یہ بھی واضح فرمائیں کہ کیا میری والدہ اپنی زندگی ہی میں مجھے اپنی جائیداد ہبہ (Gift) کرسکتی ہیں؟ قانونی طور پر اس کی ملکیت میرے نام منتقل کرسکتی ہیں؟ یا کوئی اور ایسا شرعی و قانونی طریقہ اختیار کرسکتی ہیں جس سے ان کی یہ خواہش پوری ہوسکے؟
2#) اسلام سے خارج رہنے کے دوران فوت ہونے والی نمازوں اور روزوں کا حکم
تقریباً دس سال تک اسلام سے خارج رہنے کے دوران مجھ سے تمام فرض نمازیں اور رمضان کے روزے ترک ہوگئے، اب اگر میں دوبارہ اسلام قبول کروں تو کیا مجھ پر اس پورے عرصے کی تمام نمازوں اور روزوں کی قضا لازم ہوگی یا سچی توبہ اور اسلام کی طرف رجوع کرنے سے اس مدت کی عبادات کی قضا ساقط ہوجائے گی؟
3) فقہ جعفری کی پیروی کے دوران ادا کی گئی عبادات کا حکم
جب میں فقہ جعفری کی پیروی کرتا تھا، اس دوران میں نے فرض نمازیں اور رمضان کے روزے ادا کیے تھے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اہلِ سنت کے نقطۂ نظر سے وہ نمازیں اور روزے معتبر اور کافی شمار ہوں گے؟اگر ان میں سے بعض یا تمام عبادات شرعاً معتبر نہ ہوں تو کیا دوبارہ اسلام کی طرف رجوع کرنے کے بعد ان کی قضا کرنا ضروری ہوگی؟
4) مالکی فقہ کی پابندی اور ضرورت کے وقت دوسرے فقہی مذہب کی رائے اختیار کرنا
چونکہ میں اسلامی علوم کا ماہر نہیں ہوں، اس لیے اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے مالکی فقہ کی پیروی اختیار کی تھی، اب سوال یہ ہے کہ کیا مجھ پر ہر مسئلے میں ہمیشہ مالکی فقہ ہی کی پابندی لازم ہے؟ اگر کسی مسئلے میں حقیقی دشواری پیش آئے، مثلاً وصیت یا میراث کے معاملے میں تو کیا کسی مستند سنی فقہی مذہب کی معتبر رائے کسی قابلِ اعتماد عالم کی رہنمائی میں اختیار کرنا جائز ہوگا؟
اور کیا ایسا کرنا مختلف مذاہب کے احکام کو ناجائز طور پر جمع کرنے (تلفیق) میں شمار ہوگا یا صرف آسان رخصتیں تلاش کرنے اور خواہشِ نفس کی پیروی کے زمرے میں آئے گا؟
5۔ مکمل طور پر کسی دوسرے سنی فقہی مذہب کو اختیار کرنا
کیا میرے لیے مالکی فقہ کو چھوڑ کر مکمل طور پر کسی دوسرے معتبر سنی فقہی مذہب کو اختیار کرنا جائز ہے، اور پھر مستقل اسی کی پابندی کرنا درست ہوگا؟ اگر فقہ تبدیل کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہو کہ میری والدہ کی جائیداد کے معاملے میں اس فقہ میں کوئی شرعی طور پر جائز حل موجود ہے، تو کیا یہ درست ہوگا؟ اس کے ساتھ ایک اور وجہ بھی ہے، اور وہ یہ کہ اب میں ایسے علاقے یا ملک میں رہتا ہوں جہاں مالکی فقہ کے علماء یا پیروکار نہ ہونے کے برابر ہیں، یا بالکل موجود نہیں ہیں۔
اگر فقہ تبدیل کرنے کا بنیادی مقصد مذکورہ جائیداد کے مسئلے میں اس فقہ کی رائے سے فائدہ اٹھانا ہو، تو کیا یہ خواہشِ نفس کی پیروی شمار ہوگا یا شرعی احکام سے بچنے کے لیے حیلہ اختیار کرنا کہلائے گا یا پھر کیا کسی مستند عالم کی نگرانی میں مکمل طور پر دوسرے سنی فقہی مذہب کو اختیار کرکے آئندہ مستقل اسی پر عمل کرنا شرعاً جائز ہوگا؟
میں ہرگز شریعت سے فرار، دین میں حیلہ سازی یا ناجائز طریقے سے مال حاصل کرنا نہیں چاہتا، بلکہ میری خواہش صرف یہ ہے کہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ایسا جائز اور کم مشقت والا راستہ اختیار کروں جس پر میرا ضمیر بھی مطمئن ہو۔
چونکہ یہ تمام سوالات ایک دوسرے سے متعلق معلوم ہوتے ہیں، اس لیے انہیں ایک ہی استفتاء میں جمع کردیا ہے۔ اگر مناسب ہو کہ ہر سوال الگ استفتاء کی صورت میں بھیجا جائے تو براہِ کرم اس کی بھی رہنمائی فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا احسانِ عظیم ہے کہ اس نے آپ کو کفر و گمراہی کی تاریکیوں سے نکال کر دوبارہ اسلام کی توفیق عطا فرمائی۔ آپ کی توبہ اور ندامت اس بات کی امید دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے۔ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ لہٰذا گزشتہ امور پر پریشان ہونے کے بجائے آئندہ زندگی کو دینِ اسلام کے مطابق گزارنے کی کوشش فرمائیں،اللہ تعالی آپ کو استقامت عطاء فرمائے، آپ کے پانچوں سوالات کے جوابات ترتیب واردرج ذیل ہیں:
(1) *غیر مسلم والدہ کی پوری جائیداد بطورِ وصیت حاصل کرنے کا حکم:*
شرعاً غیر مسلم والدین اور اولاد کے درمیان اسلامی احکام کے لحاظ سے وراثت تو جاری نہیں ہوتی (کیونکہ حدیث میں ہے: "لا يرث المسلم الكافر ولا الكافر المسلم" سنن نسائي الكبرى، حدیث نمبر: 6371)، لہٰذا آپ کے اسلام لانے کے بعد اگر آپ کی والدہ فوت ہوتی ہیں تو بطورِ میراث آپ ان سے کچھ نہیں پاسکیں گے، البتہ بطورِ ہبہ (Gift) ان کی زندگی میں پوری جائیداد حاصل کرسکتے ہیں، بشرطیکہ وہ اپنی زندگی میں ہبہ کرکے آپ کو باقاعدہ اس پر قبضہ بھی دے دیں۔
وصیت کا جہاں تک تعلق ہے، تو اس بارے میں شریعتِ مطہرہ کا اصول ہے کہ اگر غیر مسلم مورث کا کوئی وارث نہ ہو تو وہ مسلم وارث کے لیے کل مال کی وصیت کرسکتی ہے، لیکن اگر کوئی وارث، جیسے آپ کے مسئلے میں آپ کے سسرال والے ہیں تو ایسی صورت میں کل جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ تک وصیت کرنے کی مجاز ہوتی ہے۔ ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت غیر مؤثر ہوتی ہے، البتہ اگر سب ورثاء بالغ ہوں اور وہ اپنی خوشی سے اس کی اجازت دیں تو اس صورت میں ایک تہائی سے زیادہ، حتیٰ کہ کل تک وصیت نافذ ہوجاتی ہے۔
(2) دو حل تو گزشتہ جواب میں عرض کردیئے ہیں کہ زندگی میں کل مال ہبہ کرکے قبضہ بھی کرادے یا ورثہ نہ ہونے کی صورت میں کل جائیداد کی وصیت کردے، یا ورثہ ہونے کی صورت میں اگر کل مال کی وصیت کی گئی اور انہوں نے اس کی اجازت دی تو بھی کل مال میں وصیت نافذ ہوجائے گی۔ ہاں! ورثہ ہوں اور وہ اجازت نہ دیں تو پھر ثلث سے زائد کی وصیت نافذ نہ ہوگی۔
اسلام نے یہ حد اس لیے مقرر کی ہے تاکہ مال تمام رشتہ داروں میں منصفانہ طریقے سے تقسیم ہو اور حقوق العباد تلف نہ ہوں، لہٰذا شریعت کے احکام انتہائی منصفانہ ہیں، لہٰذا یہ تاثر لینے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ اسلام اپنی اکلوتی اولاد کو ایک تہائی سے زیادہ جائیداد دینے سے روکتا ہے۔ شرعی حل ہم نے بتا دیا ہے اور قانونی حل کے لیے آپ کسی وکیل سے رابطہ کرسکتے ہیں۔
سب سے بہترین اور شرعاً جائز ترین راستہ ہبہ کا ہے کہ صحت و ہوش و حواس میں آپ کی والدہ اپنی جائیداد کا جتنا حصہ چاہیں، آپ کو بطورِ ہبہ (گفٹ) دے سکتی ہیں، اور اسے قانونی طور پر منتقل بھی کرسکتی ہیں، ہبہ میں "ایک تہائی" کی قید بھی نہیں ہوتی۔
(3) *اسلام سے خارج رہنے کے دوران فوت ہونے والی نمازوں اور روزوں کا حکم*
توبہ کا حکم: مرتد ہونے (اسلام سے خارج رہنے) کے بعد جب کوئی شخص دوبارہ توبہ کرکے دائرۂ اسلام میں داخل ہوتا ہے تو جمہور فقہاء (حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی) کا متفقہ فیصلہ یہ ہے کہ کفر یا ارتداد کے زمانے میں جو نمازیں اور روزے قضا ہوئے ہیں، ان کی قضا لازم نہیں ہے۔
توبہ اپنے ما قبل کے تمام گناہوں اور احکام کی کوتاہیوں کو ختم کردیتی ہے، لہٰذا ان دس برسوں کی چھوٹی ہوئی نمازوں اور روزوں کی قضا آپ کے ذمے لازم نہیں ہے؛ آپ پر صرف سچی اور پکی توبہ لازم ہے، اور آئندہ کی زندگی کو پابندِ صوم و صلوٰۃ بنانا فرض ہے۔
(4) *فقہِ جعفری کی پیروی کے دوران ادا کی گئی عبادات کا حکم*
فقہِ جعفری (اثنا عشری) کے اصولوں کے مطابق ادا کی گئی عبادات (اگرچہ ان کے طریقے اہلِ سنت سے مختلف تھے) کے بارے میں اصول یہ ہے کہ چونکہ آپ اس وقت ایک ایسے مسلک کے فکری اثرات میں تھے جسے آپ حق سمجھتے تھے تو ان عبادات کی دوبارہ قضا کا حکم اہلِ سنت کے فقہاء عام طور پر نہیں دیتے۔
تاہم جن عبادات میں بنیادی ارکان ہی چھوٹ گئے ہوں تو ان کے بارے میں احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی قضا کی جائے، جیسے نماز، اگر بنیادی شرائط، جیسے طہارت، مفقود تھی تو قضا کی نیت سے کچھ نمازیں دہرائی جائیں، لیکن مجموعی طور پر پچھلی عبادات کی دوبارہ کلی قضا آپ پر لازم نہیں ہے۔ اسلام کی طرف آپ کا تازہ رجوع سابقہ تمام نقائص کو معاف کردیتا ہے۔
(5) *مالکی فقہ کی پابندی اور ضرورت کے وقت دوسرے فقہی مذہب کی رائے اختیار کرنا*
آپ چونکہ مجتہد نہیں ہیں، اس لیے کسی ایک مستند فقیہ یا مذہب کی تقلید کرنا آپ کے لیے درست اور محفوظ راستہ ہے۔ آپ نے مالکی فقہ کو اختیار کیا، جو کہ ایک برحق اور معتبر سنی فقہی مذہب ہے۔
جہاں تک ضرورت کے وقت دوسرے مذہب کی طرف عدول کا تعلق ہے تو اگر کسی خاص معاملے میں مالکی فقہ کے اندر تنگی یا حرج واقع ہورہا ہو، اور آپ کو کسی مستند، پرہیزگار سنی عالمِ دین کی رہنمائی حاصل ہو تو کسی دوسرے مستند سنی فقہی مذہب (مثلاً فقہِ حنفی یا شافعی) کی معتبر رائے کو اختیار کرنا جائز ہے۔
تاہم محض ہوائے نفس کی پیروی کے لیے مختلف مذاہب کے آسان حصوں کو اس طرح جمع کیا جائے جس سے شریعت کے کسی مسلمہ قاعدے کی دھجیاں اڑتی ہوں تو یہ ناجائز ہے۔ یہ "تلفیق" کہلاتی ہے، لیکن اگر کسی حقیقی ضرورت، مجبوری یا کسی معتبر فقیہ کی رہنمائی میں پورے مسئلے کو کسی دوسرے معتبر مذہب کے اصولوں کے مطابق حل کیا جائے تو یہ شرعاً جائز ہوگا۔
(6) *مکمل طور پر کسی دوسرے سنی فقہی مذہب کو اختیار کرنا*
آپ چونکہ فقیہ اور مجتہد نہیں ہیں، اس لیے آپ خود تو مذہب تبدیل نہیں کرسکتے، البتہ ضرورت کے وقت اگر کوئی فقیہ اور بڑے عالم کے سامنے آپ اپنی صورتِ حال رکھیں اور وہ آپ کو مشورہ دے، تو پھر آپ مذہب تبدیل کرسکتے ہیں۔ کیونکہ کسی ایک سنی فقہی مذہب کو چھوڑ کر دوسرے مستند سنی فقہی مذہب (مثلاً حنفی یا شافعی) کو مستقل طور پر اختیار کرنا اور آئندہ اسی پر عمل کرنا ضرورت کے وقت جائز ہے، کیونکہ تمام سنی فقہی مذاہب حق پر ہیں اور کتاب و سنت ہی کی تشریح ہیں۔
آپ نے جو یہ وجہ بیان کی ہے کہ آپ جس علاقے یا معاشرے میں رہتے ہیں وہاں مالکی فقہ کے جاننے والے یا پیروکار ناپید ہیں، جبکہ حنفی یا شافعی مسلک کے علماء اور ماحول موجود ہے، یہ فقہ تبدیل کرنے کے لیے ایک انتہائی معقول اور مضبوط شرعی وجہ ہے۔ ایک عام آدمی کے لیے عملی زندگی میں اسی مذہب کی پیروی آسان ہوتی ہے جس کے فقہاء اور احکام اس کے ماحول میں دستیاب ہوں۔ تاہم یہ کام آپ خود نہیں کرسکتے، کسی فقیہ یا بڑے عالم کے مشورے سے کرسکتے ہیں۔
جہاں تک والدہ کی جائیداد کے مسئلے کا تعلق ہے تو اس کا حل آپ کی فقہ میں مل جائے گا، لہٰذا صرف اس مسئلے کے لیے تبدیلِ مذہب کی کوئی ضرورت نہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ والدہ کی جائیداد کے معاملے میں وصیت کی بجائے زندگی میں ہبہ (Gift) کرنے کا راستہ اختیار کریں، یہ سب سے محفوظ، شرعی اور قانونی طریقہ ہے۔ کفر کے زمانے کی نمازوں اور روزوں کی کوئی قضا لازم نہیں۔ فقہِ جعفری کے دور کی عبادات، اگر بنیادی شرائط پوری تھیں تو ان کے دہرانے کی ضرورت نہیں، بس نئے سرے سے اسلام لانا کافی ہے۔ آپ ماحول اور حالات کی مجبوری کی بنیاد پر مالکی فقہ سے حنفی یا کسی دوسرے مستند سنی مذہب کی طرف منتقل ہوسکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ آپ کے اس نئے سفر کو دینِ حق پر استقامت کا ذریعہ بنائے اور آپ کے والدین کو بھی ہدایتِ کاملہ نصیب فرمائے۔ آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحیح البخاري، کتاب الفرائض ۲؍۱۰۰۱ رقم الحدیث: ۶۷۶۴ دار الفکر بیروت:
عن أسامۃ بن زید رضي اللّٰہ عنہ أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: لا یرث المسلم الکافر ولا الکافر المسلم.
(الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲۰؍۳۹۵ زکریا):
ثم لا خلاف أن الکافر لا یرث المسلمین بحال، وکذٰلک المسلم لا یرث الکافر في قول أکثر الصحابۃ رضي اللّٰہ عنہم، وہو مذہب الفقہاء۔
الفتاویٰ الہندیۃ( ۶؍۱۳۲):
الحربي المستأمن إذا أوصی للمسلم أو الذمي یصح في الجملۃ غیر أنہ إن کان دخل وارثہ معہ في دار الإسلام فأوصی بأکثر من الثلث وقف ما زاد علی الثلث علی إجازۃ وارثہ وإن لم یکن لہ وارث أصلاً تصح من جمیع المال۔
المسند المستخرج على صحيح الإمام مسلم (1/ 190 دار الكتب العلمية - بيروت)
الإسلام يهدم ما كان قبله.
حاشیة رد المحتار علی الدر المختار (1/563 دار الفكر-بيروت):
وأما الاقتداء بالمخالف في الفروع كالشافعي فيجوز ما لم يعلم منه ما يفسد الصلاة على اعتقاد المقتدي عليه الإجماع
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 564 دار الفكر-بيروت)
والذي يميل إليه القلب عدم كراهة الاقتداء بالمخالف ما لم يكن غير مراع في الفرائض، لأن كثيرا من الصحابة والتابعين كانوا أئمة مجتهدين وهم يصلون خلف إمام واحد مع تباين مذاهبهم.
بدائع الصنائع، - (1 / 157، دارالكتب العلمية)
قال بعض مشايخنا: إن الصلاة خلف المبتدع لا تجوز، وذكر في المنتقى رواية عن أبي حنيفة أنه كان لا يرى الصلاة خلف المبتدع، والصحيح أنه إن كان هوى يكفره لا تجوز، وإن كان لا يكفره تجوز مع الكراهة
رد المحتار على الدر المختار میں ہے كتاب الحدود، باب التعزير، ٤ / ٨٠، ط: دار الفكر)
"مطلب فيما إذا ارتحل إلى غير مذهبه
(قوله: ارتحل إلى مذهب الشافعي يعزر) أي إذا كان ارتحاله لا لغرض محمود شرعًا، لما في التتارخانية: حكي أن رجلا من أصحاب أبي حنيفة خطب إلى رجل من أصحاب الحديث ابنته في عهد أبي بكر الجوزجاني فأبى إلا أن يترك مذهبه فيقرأ خلف الإمام، ويرفع يديه عند الانحطاط ونحو ذلك فأجابه فزوجه، فقال الشيخ بعدما سئل عن هذه وأطرق رأسه: النكاح جائز ولكن أخاف عليه أن يذهب إيمانه وقت النزع؛ لأنه استخف بمذهبه الذي هو حق عنده وتركه لأجل جيفة منتنة، ولو أن رجلا برئ من مذهبه باجتهاد وضح له كان محمودا مأجورًا.
أما انتقال غيره من غير دليل بل لما يرغب من عرض الدنيا وشهوتها فهو المذموم الآثم المستوجب للتأديب والتعزير لارتكابه المنكر في الدين واستخفافه بدينه ومذهبه اه ملخصًا.
وفيها عن الفتاوى النسفية: الثبات على مذهب أبي حنيفة خير وأولى، قال: وهذه الكلمة أقرب إلى الألفة اه: وفي آخر التحرير للمحقق ابن الهمام: مسألة لا يرجع فيما قلد فيه أي عمل به اتفاقا، وهل يقلد غيره في غيره؟ المختار نعم للقطع بأنهم كانوا يستفتون مرة واحدا ومرة غيره غير ملتزمين مفتيا واحدا فلو التزم مذهبا معينا كأبي حنيفة والشافعي، فقيل يلزم، وقيل لا، وقيل مثل من لم يلتزم، وهو الغالب على الظن لعدم ما يوجبه شرعا اه ملخصًا قال شارحه المحقق ابن أمير الحاج: بل الدليل الشرعي اقتضى العمل بقول المجتهد وتقليده فيه فيما احتاج إليه وهو - {فاسألوا أهل الذكر} [النحل: 43]- والسؤال إنما يتحقق عند طلب حكم الحادثة المعينة، فإذا ثبت عنده قول المجتهد وجب عمله به وأما التزامه فلم يثبت من السمع اعتباره ملزما إنما ذلك في النذر، ولا فرق في ذلك بين أن يلتزمه بلفظه أو بقلبه على أن قول القائل مثلا قلدت فلانا فيما أفتى به تعليق التقليد والوعد به ذكره المصنف. اه.
مطلب العامي لا مذهب له قلت: وأيضا قالوا العامي لا مذهب له، بل مذهبه مذهب مفتيه، وعلله في شرح التحرير بأن المذهب إنما يكون لمن له نوع نظر واستدلال وبصر بالمذهب على حسبه، أو لمن قرأ كتابا في فروع ذلك المذهب وعرف فتاوى إمامه وأقواله.
وأما غيره ممن قال أنا حنفي أو شافعي لم يصر كذلك بمجرد القول كقوله أنا فقيه أو نحوي اه وتقدم تمام ذلك في المقدمة أول هذا الشرح، وإنما أطلنا في ذلك لئلا يغتر بعض الجهلة بما يقع في الكتب من إطلاق بعض العبارات الموهمة خلاف المراد فيحملهم على تنقيص الأئمة المجتهدين، فإن العلماء حاشاهم الله تعالى أن يريدوا الازدراء بمذهب الشافعي أو غيره، بل يطلقون تلك العبارات بالمنع من الانتقال خوفا من التلاعب بمذاهب المجتهدين، نفعنا الله تعالى بهم، وأماتنا على حبهم آمين.
يدل لذلك ما في القنية رامزا لبعض كتب المذهب: ليس للعامي أن يتحول من مذهب إلى مذهب، ويستوي فيه الحنفي والشافعي اه. وسيأتي إن شاء الله تعالى تمام ذلك في فصل القبول من الشهادات."
حاشية ابن عابدين = رد المحتار (2/ 72، ط الحلبي):
إذَا كَانَ عَلَى الْمُرْتَدِّ قَضَاءُ صَلَوَاتٍ وَصِيَامَاتٍ تَرَكَهَا فِي الْإِسْلَامِ ثُمَّ أَسْلَمَ، قَالَ شَمْسُ الْأَئِمَّةِ الْحَلْوَانِيُّ: عَلَيْهِ قَضَاءُ مَا تَرَكَ فِي الْإِسْلَامِ لِأَنَّ تَرْكَ الصِّيَامِ وَالصَّلَاةِ مَعْصِيَةٌ، وَالْمَعْصِيَةُ تَبْقَى بَعْدَ الرِّدَّةِ
درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 301، ط العلمية):
وَيَقْضِي عِبَادَاتٍ تَرَكَهَا فِي الْإِسْلَامِ ... لِأَنَّ تَرْكَ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ مَعْصِيَةٌ وَالْمَعْصِيَةُ تَبْقَى بَعْدَ الرِّدَّةِ.
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 147، ط دار إحياء التراث العربي):
وَلَا يَلْزَمُ قَضَاءُ مَا فَاتَهُ زَمَانَ الرِّدَّةِ يَعْنِي إذَا مَضَتْ الْمُدَّةُ عَلَى رِدَّتِهِ ثُمَّ أَسْلَمَ لَا يَجِبُ عَلَيْهِ قَضَاءُ مَا فَاتَهُ فِيهَا مِنْ الْفَرَائِضِ عِنْدَنَا
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی