سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! براہِ کرم صرف AI/ChatGPT سے چیک کرکے جواب نہ دیں، میں پہلے ہی وہاں سے جواب حاصل کرنے کی کوشش کرچکا ہوں، لیکن مجھے وہاں سے ملنے والے جوابات سمجھ نہیں آتے۔
1) میں نے ایک حدیث میں سنا ہے کہ جب کسی مسئلے میں انسان الجھن کا شکار ہو تو اسے دیکھنا چاہیے کہ علماء، امت اور اجماع کس موقف پر ہیں اور اسی کی پیروی کرنی چاہیے۔ نیز اگر کسی شرعی مسئلے میں زیادہ تر اہلِ علم ایک رائے پر متفق ہوں تو کیا وہ رائے خود بخود درست تصور کی جائے گی؟
2) جب سورۂ ہود (11:106–108) اور حدیث "میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے" (صحیح مسلم: 2751، صحیح البخاری: 7422) کو دیکھا جائے تو بعض علماء نے کہا ہے کہ ممکن ہے جہنم بالآخر ختم ہوجائے؛ یعنی کافر بھی بہت طویل عرصے کے بعد عذاب سے نجات پا جائیں یا ان کا وجود ہی ختم ہوجائے۔ قرآنِ کریم میں کچھ دوسری آیات بھی ہیں جو بظاہر اس طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اس بارے میں آپ صحیح وضاحت فرمادیں کہ کیا جہنم واقعی ختم ہوجائے گی؟
3) ایک اور بات جو میں نے محسوس کی ہے وہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ اسلام کو اس لیے قبول نہیں کرتے کہ وہ کسی دوسرے مذہب میں پیدا ہوئے اور اسی ماحول میں ان کی پرورش ہوئی، مثلاً یہودی، عیسائی، ملحد وغیرہ۔ وہ بچپن سے جو کچھ سیکھتے آئے ہیں، اسی پر قائم رہتے ہیں۔ جب وہ بالغ ہوجاتے ہیں تو ہم ان سے یہ توقع کیسے کرسکتے ہیں کہ وہ اپنے آبائی مذہب کو چھوڑ دیں؟ بہت سے لوگ شاید ایسا کبھی نہ کر سکیں حتیٰ کہ خواتین کے لیے بھی اپنے خاندان، مذہب اور پورے ماحول کو چھوڑنا انتہائی مشکل ہوسکتا ہے۔
لہٰذا جب میں ایسے لوگوں کے لیے ہمیشہ رہنے والی جہنم کے بارے میں سوچتا ہوں، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب ان پر حق واضح ہوچکا ہو تو یہ بات مجھے درست محسوس نہیں ہوتی۔ میری عقلِ عام کہتی ہے کہ اگر اسلام واقعی حق ہے، تب بھی ایک ایسا شخص جو کسی سخت مذہبی یہودی یا عیسائی ماحول میں پیدا ہوا ہو، فطری طور پر اسی عقیدے پر قائم رہ سکتا ہے جس پر اس کی پرورش ہوئی ہے۔ اگر میں بھی بالکل اسی صورتِ حال میں ہوتا تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ شاید میں بھی ایسا ہی کرتا، میں اس بات کی وجہ سے بہت پریشان ہوں۔ اس بارے میں شریعت کیا رہنمائی کرتی ہے؟
میرا اصل سوال — نکتہ نمبر 1
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اس دنیا میں امتحان کے لیے پیدا ہی کیوں کیا، جبکہ وہ پہلے سے جانتے تھے کہ لاکھوں لوگ اس امتحان میں ناکام ہوں گے اور ہمیشہ کے لیے جہنم میں عذاب پائیں گے؟
براہِ کرم صرف یہ جواب نہ دیں:"اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ وہ جہنم میں جائیں گے، لیکن اللہ نے انہیں مجبور نہیں کیا؛ انہوں نے خود اپنے لیے یہ راستہ اختیار کیا۔"
میں اس بات کو سمجھتا ہوں، میرا سوال یہ نہیں ہے، بلکہ میرا سوال یہ ہے:
ابتداءً اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا ہی کیوں کیا، جبکہ وہ پہلے سے جانتے تھے کہ بہت سے انسان بالآخر ناکام ہوں گے اور ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائیں گے؟ ایسے انسان کو پیدا کرنے میں کیا حکمت یا مصلحت ہے جس کا آخری انجام اللہ تعالیٰ پہلے ہی جانتے ہیں کہ ہمیشہ کا عذاب ہوگا؟
یہی وہ مقام ہے جہاں میرا ایمان بہت کمزور ہوجاتا ہے، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اسلام کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے۔
میرا اصل سوال — نکتہ نمبر 2
میری سمجھ کے مطابق علماء کا اجماع اس بات پر ہے کہ کافر ہمیشہ جہنم میں رہے گا، لیکن بعض علماء یا گروہ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ جہنم یا بعض لوگوں کا عذاب بالآخر ختم ہوسکتا ہے۔
اگر اسلام کا واضح اور صحیح موقف یہی ہے کہ کافر ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور وہ اقلیتی علماء جو اس کے خلاف کہتے ہیں غلط ہیں تو میں یہ سمجھنا چاہتا ہوں کہ ان کی تشریح یقینی طور پر غلط کیوں ہے؟ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ امت گمراہی یا غلطی پر متفق نہیں ہوگی، اس لیے یہ مسئلہ میرے لیے مزید سنگین ہوجاتا ہے۔
میں تقریباً 8 سال سے اس سوال میں الجھا ہوا ہوں، میں حقیقتاً اسلام پر ایمان لانا چاہتا ہوں اور میرا یقین ہے کہ اسلام سچا ہے، لیکن یہ سوال بار بار مجھے اس مقام تک لے جاتا ہے کہ مجھے محسوس ہونے لگتا ہے کہ میں ملحد بن رہا ہوں۔
میں اس سوال سے مسلسل لڑتے لڑتے تھک چکا ہوں، میں اسلام چھوڑنا نہیں چاہتا، لیکن میں اپنے ذہن کو کسی ایسی چیز کو قبول کرنے پر مجبور بھی نہیں کرسکتا جسے میں سمجھ نہیں پا رہا۔
لہٰذا میرا سوال یہ ہے:اسلام اس اصل مسئلے کا کیا جواب دیتا ہے؟ اور اگر ہمیشہ رہنے والی جہنم ہی یقینی اسلامی موقف ہے تو میں اس بات کو کیسے سمجھوں کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا، جبکہ وہ پہلے ہی ان کے آخری اور ہمیشہ کے انجام کو جانتے تھے؟
جواب: (1) جمہور اور اجماع میں فرق: شریعت میں محض کثرتِ رائے، بذاتِ خود حق ہونے کی دلیل نہیں، حق کا معیار قرآن، سنت اور ان سے درست طریقے سے اخذ کردہ استدلال ہے، البتہ اجماع ایک الگ اور خاص اصطلاح ہے: امت کے اہلِ اجتہاد کا کسی مخصوص دور میں کسی شرعی حکم پر متفق ہو جانا، جہاں یہ اجماع ثابت ہو جائے، وہ حجتِ قطعی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ (النساء: 115) اور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:«إِنَّ أُمَّتِي لَا تَجْتَمِعُ عَلَى ضَلَالَةٍ» اس بنا پر "جمہور کا قول" اور "اجماعِ امت" کو ایک ہی چیز سمجھنا علمی غلطی ہے، اگر کسی مسئلے میں اکثریت ایک طرف اور معتبر اقلیت دوسری طرف ہو تو یہ اجماع نہیں بلکہ اختلافِ فقہی ہے، جمہور کا قول قوی اور راجح ضرور ہوتا ہے، مگر مخالف قول محض کم تعداد کی بنا پر باطل قرار نہیں پاتا، لہٰذا ہر مسئلے میں سب سے پہلے یہ متعین کرنا ضروری ہے کہ کیا واقعی اجماع ہے یا محض جمہور کا رجحان؟
(2): کیا جہنم ختم ہو جائے گی؟ اہلِ سنت والجماعت کا مستقر اور جمہور کا متفقہ عقیدہ یہ ہے کہ جنت اور جہنم دونوں باقی رہیں گی، فنا نہیں ہوں گی، اور کفر کی حالت میں مرنے والا ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ قرآن کریم میں یہ مضمون صرف "خالدین" تک محدود نہیں بلکہ متعدد مقامات پر تاکیدی الفاظ کے ساتھ آیا ہے:﴿إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ الْكَافِرِينَ وَأَعَدَّ لَهُمْ سَعِيرًا O خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا﴾ (الأحزاب: 64-65) ﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ O خَالِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ O﴾ (البقرة: 161-162) ﴿وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ﴾ (البقرة: 167)﴿كُلَّمَا أَرَادُوا أَن يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا﴾ (السجدة: 20)
سورۂ ہود کی آیت ﴿خالدين فيها ما دامت السماوات والأرض إلا ما شاء ربك﴾ کو بعض حضرات نے عذاب کے انتہاء پر محمول کیا ہے، لیکن یہ اہلِ سنت کے معتمد و راجح موقف کے مقابلے میں ایک شاذ قول ہے، اجماع نہیں، جمہور ان محتمل آیات کو دیگر صریح و قطعی نصوص کی روشنی میں سمجھتے ہیں، انہیں اُن کے مقابل مستقل بنیاد نہیں بناتے۔
رہی یہ حدیث کہ "میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے (،صحیح مسلم حدیث نمبر6969) تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ نے کافروں کے ابدی عذاب کے خاتمے کا وعدہ کر رکھا ہے، یہ حدیث اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمت کے وسعت و غلبے کو بیان کرتی ہے، نہ کہ قرآن کے قطعی الدلالہ نصوص کو منسوخ کرتی ہے، رحمت کا "غالب" ہونا اس کے دائرۂ اثر کی وسعت میں ہے، ہر وعید کے لازمی خاتمے میں نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ خود اپنی رحمت کے ساتھ عدل، حکمت اور جزا و سزا کو بھی قرآن میں بیان فرماتے ہیں۔
(3): جو شخص غیر مسلم گھرانے میں پیدا ہو، کیا وہ ماحول کی بنا پر ابدی عذاب کا مستحق ہوگا؟ یہاں ایک نہایت اہم اصول سمجھنا ضروری ہے: اسلام کسی انسان کا آخرت کا فیصلہ محض اس کے پیدائشی لیبل پر نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا O﴾ (الإسراء: 15) ﴿وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ O﴾ (فصلت: 46) لہٰذا جس شخص تک اسلام کی حقیقی دعوت نہ پہنچی یا اس تک اسلام کی اس قدر مسخ شدہ تصویر پہنچی کہ اسے حقیقی معرفت حاصل ہی نہ ہو سکی، اس کا حکم اس شخص سے مختلف ہے جس پر حجت پوری طرح قائم ہوگئی اور اس نے جان بوجھ کر حق کو رد کیا۔ اہلِ علم نے اہلِ فترت اور ان سے ملحق طبقات کے بارے میں تفصیلی بحث کی ہے، اور کئی معتبر علماء کے نزدیک ایسے افراد کا قیامت کے دن الگ امتحان لیا جائے گا، لیکن اس کے ساتھ ایک دوسری غلطی سے بھی بچنا ضروری ہے اوروہ یہ ہے کہ یہ کہنا کہ "چونکہ فلاں شخص یہودی یا عیسائی گھرانے میں پیدا ہوا، لہٰذا وہ لازماً معذور ہے" بھی درست نہیں۔ ماحول انسان پر اثر انداز ضرور ہوتا ہے، مگر انسان کو عقل، فطرت اور ایک درجے میں اختیار بھی دیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ ہر شخص کے حالات، علم، صلاحیت، حجت کے پہنچنے کی کیفیت، نیت اور حقیقی اختیار کو ہم سے کہیں زیادہ بہتر جانتے ہیں، اس لیے:ہم اسلام کی عمومی دعوت اور کفر کا عمومی حکم بیان کر سکتے ہیں، مگر کسی معین شخص کے انجام کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد ہے، یہی حقیقی عدل ہے، نہ ہر غیر مسلم کو یکساں مجرم ٹھہرانا، نہ محض پیدائش کی بنا پر ہر ایک کو معذور قرار دینا۔
رہایہ اعتراض کہ "اگر میں بھی اسی ماحول میں پیدا ہوتا تو شاید میں بھی وہی مذہب اختیار کرتا" — اس میں ایک حقیقت ضرور موجود ہے، ماحول کا عقائد پر گہرا اثر پڑتا ہے، اسلام اس حقیقت سے بے خبر نہیں، یہی وجہ ہے کہ اللہ کا فیصلہ ہمارے سطحی و ظاہری معیار پر نہیں بلکہ اس کے کامل علم اور مکمل عدل پر مبنی ہوتاہے۔ ہمیں کسی معین شخص کے بارے میں اللہ کے فیصلے کا علم نہیں، مگر یہ یقین ضرور ہے کہ اللہ کسی کو اس چیز پر عذاب نہیں دے گا جو اس کی استطاعت اور رسائیِ حجت سے باہر تھی۔
(4 اصل سوال1): اللہ نے ایسے انسانوں کو پیدا ہی کیوں کیا جن کا جہنمی ہونا پہلے سے معلوم تھا؟ یہ سوال پورے مسئلے کی جڑ ہے، جواجمالی جواب سے حل نہیں ہوگا اس لیے ذیل میں اسے کئی مرحلوں میں حل کیا گیا ہے۔
١) "پیدا نہ ہونا بہتر تھا" یہ ایک غیر ثابت شدہ مقدمہ ہے، ہم بالعموم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ چونکہ کسی شخص کا انجام جہنم ہے، لہٰذا اس کا عدم (نہ پیدا ہونا) اس کے وجود سے بہتر تھا، مگر یہ نتیجہ منطقی طور پر ثابت نہیں۔ عدم میں نہ خوشی ہے، نہ معرفت، نہ اختیار، نہ توبہ، نہ نیکی، نہ اللہ کی کسی نعمت کا تجربہ، وہاں سرے سے کوئی "شخص" ہی موجود نہیں کہ اس کا موازنہ کیا جا سکے۔ جبکہ وجود میں انسان کو عقل، شعور، اختیار، صحت، رشتے، محبت، خوشی، علم، توبہ، عبادت اور بے شمار مواقعِ خیر حاصل ہوتے ہیں، اگر وہ آخرکار اپنے اختیار سے کفر اختیار کرتا ہے تو یہ بعد کا انتخاب اس ابتدائی تخلیق کو "ظلم" نہیں بنا دیتا۔
ایک شخص کو زندگی کے کئی سال ملے، اس نے محبت کی، خوشیاں حاصل کیں اور دیں، اسے عقل و اختیار ملا، اس کے سامنے حق آیا، اس نے اسے رد کیا اور بالآخر عذاب کا مستحق ہوا، اس پورے وجود کو صرف اس کے آخری انجام کے عنوان سے دیکھنا زندگی کی مکمل حقیقت کو نظرانداز کرنا ہے۔
۲) تخلیق کا مقصد جہنم نہیں، بندگی ہے،اللہ تعالیٰ نے کسی کو جہنم میں ڈالنے کے لیے پیدا نہیں کیا، بلکہ عقل، فطرت، انبیاء، کتابیں اور توبہ کا دروازہ دے کر بندگی کی دعوت دی: ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ O﴾ (الذاریات: 56) جہنم تخلیق کا مقصد نہیں بلکہ اختیاری بغاوت کا نتیجہ ہے، یہ فرق بنیادی ہے، ایک چیز کا "مقصود بالذات" ہونا اور دوسری چیز کا کسی اور کے اختیاری فعل کا "لازمی نتیجہ" ہونا، دو الگ باتیں ہیں۔
۳) علمِ الٰہی اور جبر میں فرق: اللہ کا علم کسی کے کفر کا سبب نہیں، مثلاً: اگر استاد پہلے سے کسی طالب علم کے فیل ہونے کا اندازہ لگا لے اور وہ واقعتاً بعد میں فیل بھی ہوجائے تو اس کی وجہ استاذ کا سابقہ علم نہیں، اللہ تعالیٰ کسی انسان کے فعل کو اس لیے نہیں جانتے کہ وہ اسے مجبور کریں گے، بلکہ وہ اسے ازل سے اس لیے جانتے ہیں کہ وہ شخص اپنے اختیار سے حقیقتاً وہی فعل کرے گا۔ ہمارے تجربے میں ترتیب یوں ہے: انسان فیصلہ کرتا ہے، پھر نتیجہ سامنے آتا ہے۔ اللہ کے علم میں ماضی، حال، مستقبل سب یکساں طور پر معلوم ہیں، مگر یہ علم، فعل کی علت نہیں بلکہ فعل کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ مثال: اگر اللہ کو ازل سے معلوم ہے کہ زید فلاں دن اپنے اختیار سے کوئی گناہ کرے گا تو اللہ کا علم زید کو مجبور کرکے وہ گناہ نہیں کرواتا۔ اگر زید مجبور ہوتا تو وہ فعل سرے سے "اختیاری" ہی نہ رہتا، اور اللہ کا علم بہرحال حقیقت کے مطابق ہی رہتا۔
لہٰذا صحیح نسبت یہ ہے کہ زید کا اختیاری فعل اللہ کے علم کے مطابق ہے، اللہ کا علم زید کے فعل کا جابر سبب نہیں۔ عقلی اصول یہ ہے کہ کسی نتیجے کا پہلے سے معلوم ہونا اسے اخلاقی طور پر "پیدا" نہیں کرتا، اگر کوئی جانتا ہے کہ سورج کل طلوع ہوگا تو اس کا علم سورج کے طلوع ہونے کی علت نہیں بنتا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اللہ کا علم ازلی و یقینی ہے، مگر علم اور جبر بہرحال دو الگ چیزیں ہیں۔
۴) کیا "عدم" واقعی بہتر تھا؟ نہیں، یہ دعویٰ مطلقاً ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ "بہتر" ہونا ایک قدر (value) کا فیصلہ ہے، اور یہ فیصلہ کسی شخص کی پوری حقیقت، اس کی زندگی کے تمام مواقع، اس پر قائم ہونے والی حجت، اس کے اختیارات، اس کے اعمال اور اس کے انجام کو سامنے رکھ کر ہی کیا جا سکتا ہے، جسے مکمل طور پر صرف اللہ تعالیٰ جانتے ہیں۔ ہم صرف یہ دیکھتے ہیں کہ وہ جہنم میں گیا، ہم اس کی زندگی کی مکمل کتاب نہیں پڑھ سکتے۔
مزید یہ کہ "عدم" کوئی ایسی حالت نہیں جس میں کوئی شخص بیٹھ کر کہہ رہا ہو "میں پیدا نہیں ہونا چاہتا تھا" کیونکہ عدم میں کوئی شخص سرے سے موجود ہی نہیں ہوتا، لہٰذا "اس کے لیے عدم بہتر تھا" ایک بظاہر سادہ مگر فلسفیانہ طور پر نا قابلِ ثبوت موازنہ ہے: ایک طرف ایک موجود انسان کی مکمل زندگی، دوسری طرف کوئی موجود ہستی ہی نہیں۔
۵) اللہ نے سب کو مجبوراً مومن کیوں نہ بنا دیا؟ اللہ تعالیٰ یقیناً ایسا کرنے پر قادر ہیں، مگر پھر انسان کا اختیاری امتحان ہی باقی نہیں رہتا، اگر ہر انسان کو جبراً ایمان پر مجبور کر دیا جاتا تو اطاعت، معصیت، توبہ، صبر، شکر، تقویٰ، قربانی اور اخلاقی انتخاب کا سرے سے کوئی مفہوم ہی باقی نہ رہتا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو فرشتے کی طرح محض معصوم مخلوق نہیں بنایا، بلکہ اسے اختیار رکھنے والی مخلوق بنایا، اسی لیے اس کے اندر خیر و شر دونوں کے راستے رکھے گئے، عقل و فطرت دی گئی، اور پھر انبیاء بھیجے گئے۔
امتحان کا مقصد اللہ کو نتیجہ معلوم کرنا نہیں (وہ پہلے ہی معلوم ہے)، بلکہ یہ کہ انسان کا وہ اختیاری کردار جو اللہ کے علم میں پہلے سے موجود ہے، عالمِ واقعہ میں ظاہر ہو جائے اور اسی ظاہر شدہ اختیار کے مطابق جزا و سزا ہو۔ یوں کسی کو یہ عذر باقی نہیں رہتا کہ "اگر مجھے موقع ملتا تو میں الگ کرتا۔" قرآن کا اصول یہی ہے:﴿لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ﴾ (النساء: 165)
٦) کیا اللہ کو کسی کا جہنمی ہونا "پسند" بھی ہے؟ یہاں علم، ارادہ اور رضا کا فرق سمجھنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو واقع ہونے دے سکتے ہیں بغیر اس کے کہ وہ اسے محبوب و پسندیدہ بھی رکھتے ہوں۔ قرآن کہتا ہے:﴿وَلَا يَرْضَىٰ لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ﴾ "اور وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا۔" (الزمر: 7) کفر اللہ کی پسندیدہ چیز نہیں، مگر دنیوی امتحان میں اللہ نے انسان کو اختیار دیا ہے،وہ کسی کو جبراً مومن نہیں بناتے، بلکہ دعوت، عقل، فطرت اور اختیار کے ذریعے اس کے سامنے راستہ کھول دیتے ہیں۔
(5اصل سوال نمبردو): اگر خلودِ جہنم پر اجماع ہے تو اقلیتی اقوال کا کیا حکم ہے؟ جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا، کافروں کے ابدی خلود کا عقیدہ قرآن و سنت کے صریح نصوص اور امت کے جمہور حضرات کامسلمہ موقف ہے، کسی سے بھی کسی قول کا منقول ہونا اس کے درست ہونے کی دلیل نہیں ہوتی، اور کسی قول کا شاذ ہونا بھی بذاتِ خود اس کے غلط ہونے کی دلیل نہیں، فیصلہ دلائل کی بنیاد پر ہوتا ہے، اس مسئلے میں جمہور حضرات نے قرآن کے متعدد صریح و مؤکد نصوص کو بنیاد بنایا ہے، اور محتمل الدلالہ آیات کو اسی کی روشنی میں سمجھا ہے، لہذا اس کے بقابلے میں اقلیتی قول قابلِ قبول نہیں۔
خلاصہۛ:
آپ کے پورے سوال کو ایک جملے میں یوں سمیٹا جا سکتا ہے:"اگر اللہ تعالیٰ رحیم و عادل ہیں تو انہوں نے ایسے انسانوں کو پیدا ہی کیوں کیا جن کے بارے میں وہ پہلے سے جانتے تھے کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے؟ "اس کا جامع جواب یہ ہے:اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہنم کے لیے نہیں بلکہ بندگی، معرفت، اختیار اور امتحان کے لیے پیدا کیا، اسے عقل، فطرت، اختیار اور ہدایت دی، اس کے سامنے خیر کا راستہ کھولا، اس پر حجت قائم کی اور جہنم اس شخص کے لیے اس کے اپنے اختیاری کفر و عناد کا نتیجہ بنی، تخلیق کا مقصد نہیں۔ اللہ کا ازلی علم اس کے اختیار کا سبب نہیں بلکہ اس کے مستقبل کے اختیاری فعل کا ازلی احاطہ ہے اور یہ فرض کر لینا کہ "چونکہ انجام معلوم تھا، لہٰذا عدم بہتر تھا" ایک غیر ثابت شدہ مقدمہ ہے، کیونکہ عدم میں خیر و شر کا کوئی تصور ہی موجود نہیں، جبکہ دوسری جانب وجود میں بہت ساری خیریں ہیں اگرچہ اپنے اختیارسے کبھی وہ بالاخرشر پرمنتج ہوجاتا ہے، لیکن یہ اس کے اپنے اختیارسے ہوتا ہے،علم الہی اس کی علت نہیں۔
اس کے ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ ہمیں کسی معین شخص کے بارے میں یہ علم نہیں کہ وہ اللہ کے نزدیک کس درجے میں حجت یافتہ تھا، بس ہم اجمالاً اتنا کہیں گے کہ جس نے حق کو حقیقتاً پہچان کر جان بوجھ کر رد کیا، اس کا معاملہ اس سے مختلف ہے جس تک اسلام کی حقیقت پہنچی ہی نہیں یا انتہائی مسخ شدہ صورت میں پہنچی۔
لہٰذا ہر غیر مسلم مکمل حجت یافتہ شخص ایک غلط مساوات ہے اور سب سے اہم بات"میں اللہ کی ہر حکمت نہیں جانتا" اور "اللہ کے فیصلے میں حکمت نہیں" دو الگ باتیں ہیں۔ "اللہ کو معلوم تھا کہ میں کیا کروں گا" اور "اللہ نے مجھے مجبور کیا" دو الگ باتیں ہیں۔"میں کسی غیر مسلم کے انجام کو نہیں جانتا" اور "اسلام نے آخرت کے اصول بیان نہیں کیے"، دو الگ باتیں ہیں۔ اسلام نے اصول واضح کر دیا ہے: اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتے، حجت کے بغیر مؤاخذہ نہیں کرتے، کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ مکلف نہیں کرتے، اور جو شخص کفر کی حالت میں ( ایسی حجت کے بعد جسے اس نے جان بوجھ کر رد کیا ) مرتا ہے، اس کے لیے ابدی جہنم کا حکم ہے۔
آخر میں ہم آپ کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ یاد رکھیں، انسانی عقل محدود اور اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات، افعال، احکام اور معلومات لامحدود ہیں، اس محدود عقل کے ذریعے، محدود دنیا میں اس کے پورے اسرار کو سمجھنا انسانی عقل کے بس کی بات نہیں۔ اس حقیقت کو انسان جتنی جلدی تسلیم کرلے، اتنا ہی اپنا فائدہ کرے گا؛ کہیں ایسا نہ ہو کہ چند عقلی ڈھکوسلوں کی وجہ سے انسان گوہرِ ایمان کو گنوا دے اور ابدی ذلت اپنے لیے مقدر کرلے۔ اللہ تعالیٰ سب کو گمراہی سے بچائے اور اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القران الکریم: (النساء، الایة: 115)
وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ ... الخ
و قوله تعالی: (الاحزاب، الایة: 64، 65)
إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ الْكَافِرِينَ وَأَعَدَّ لَهُمْ سَعِيرًا O خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ... الخ
و قوله تعالی: (البقرة، الایة: 161، 162)
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ O خَالِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ O
و قوله تعالی: (البقرة، الایة: 167)
وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ ... الخ
و قوله تعالی: (السجدة، الایة: 20)
كُلَّمَا أَرَادُوا أَن يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا ... الخ
و قوله تعالی: (ھود، الایة: 107)
خالدين فيها ما دامت السماوات والأرض إلا ما شاء ربك ... الخ
و قوله تعالی: (الاسراء، الایة: 15)
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا O
و قوله تعالی: (فصلت، الایة: 46)
وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ O
و قوله تعالی: (الذاریات، الایة: 56)
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ O
و قوله تعالی: (النساء، الایة: 165)
لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةً بَعْدَ الرُّسُلِ ... الخ
و قوله تعالی: (الزمر، الایة: 7)
وَلَا يَرْضَىٰ لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ ... الخ
سنن ابن ماجه: (كتاب الفتن، باب افتراق الأمم، رقم الحدیث: 3950، 11/5، ط: دار الرسالة العالمية)
إِنَّ أُمَّتِي لَا تَجْتَمِعُ عَلَى ضَلَالَةٍ
صحيح البخاري: (كتاب التوحيد، باب قول الله تعالى: وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ، رقم الحدیث: 7453، 395/4، ط: مكتبة الرشد، رياض)
لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابِهِ - فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ -: إِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي».
و كذا في صحيح مسلم: (كتاب التوبة، باب في سعة رحمة الله تعالى وأنها سبقت غضبه، رقم الحدیث: 6969، ط: دار إحياء التراث العربي، بيروت)
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی