سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! تقلید شخصی کے موضوع پر ایک اصولی اشکال کی وضاحت مطلوب ہے:
یہ کہا جاتا ہے کہ چاروں مسالک میں سے کسی ایک کی پابندی (تقلید شخصی) پر امت کا اجماعِ سکوتی منعقد ہو چکا ہے، اور اس اجماع کی مخالفت کرنے والے کو کم از کم "گمراہ" قرار دیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا جاتا ہے کہ تقلید شخصی بذاتِ خود کوئی مستقل شرعی حکم نہیں بلکہ ایک انتظامی نوعیت کا فیصلہ تھا (جو نفس پرستی اور تلفیق کے فتنے سے بچاؤ کے لیے کیا گیا)۔
براہِ کرم یہ وضاحت فرما دیں کہ ان دونوں باتوں کو ملانے سے اصل مسئلہ کیا بنتا ہے، یعنی:
(الف) کیا کسی ایک مسلک کی پابندی نہ کرنے پر "گمراہی" کا حکم اس لیے لگتا ہے کہ اجماعِ سکوتی بذاتِ خود ایک مستقل شرعی دلیل ہے، جس کی مخالفت (چاہے شخص عملاً نفس پرستی میں مبتلا ہو یا نہ ہو) بذاتِ خود گمراہی شمار ہوتی ہے؟
(ب) کیا علتِ اصلی یہ ہے کہ کسی ایک متعین مسلک کی پابندی کے بغیر احکام اخذ کرنا عملاً نفس و خواہش کی پیروی بن جاتا ہے، اور امت کا اجماعِ سکوتی دراصل اسی "نفس پرستی کے گمراہی ہونے" پر ہے، یعنی اجماع کی خلاف ورزی خود علت نہیں بلکہ نفس پرستی کی علامت/ذریعہ ہے؟
نیز، ایک عام مسلمان (جو نہ عالم ہے نہ مفتی) کے لیے صراحت فرما دیں کہ اگر وہ کسی ایک مسلک کا پابند نہ رہے تو شرعاً اس کا حکم اور نتیجہ کیا ہوگا اور یہ حکم کس علت پر مبنی ہوگا؟
جواب: اس مسئلے میں راجح بات (ب) زیادہ درست ہے، یعنی کسی ایک فقہی مسلک کی پابندی کی اصل وجہ یہ ہے کہ عام مسلمان خود قرآن و حدیث سے مسائل نکالنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اگر وہ کسی ایک معتبر فقہی منہج کا پابند نہ رہے تو عموماً مختلف علماء کے ایسے فتوے اختیار کرنے لگتا ہے جو اس کی خواہش یا سہولت کے مطابق ہوں، اور یہی چیز خواہشِ نفس کی پیروی، تتبعِ رخص اور دین میں بے ترتیبی کا سبب بنتی ہے۔
انہی مفاسد سے بچانے کے لیے فقہائے امّت نے کسی ایک معتبر مسلک کی پابندی کو اختیار کیا اور اس پر امّت کا اجماعِ سکوتی بھی قائم ہوا، لہٰذا گمراہی کی اصل وجہ صرف اجماعِ سکوتی کی مخالفت نہیں، بلکہ وہ راستہ اختیار کرنا ہے جو عام طور پر انسان کو خواہشِ نفس کی پیروی اور دین میں بے قاعدگی تک پہنچا دیتا ہے، جبکہ اجماعِ سکوتی اس منہج کی تائید اور اس کی اہمیت کو ثابت کرتا ہے۔ اس لیے عام مسلمان کے لیے شرعاً یہی محفوظ اور درست طریقہ ہے کہ وہ کسی ایک معتبر فقہی مسلک یا اس کے مستند علماء کی رہنمائی میں اپنے دینی مسائل پر عمل کرے، کیونکہ یہی دین پر استقامت اور غلطیوں سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
*الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): (1/ 371، ط: دار الفكر بيروت)*
مذهب المعتزلة من أن العامي له الخيار من كل مذهب ما يهواه. والصحيح عندنا أن الحق واحد، وأن تتبع الرخص فسق. اه.
*البناية شرح الهداية: (4/ 110، دار الكتب العلمية - بيروت)*
على العامي الاقتداء بالفقهاء لعدم الاهتداء في حقه إلى معرفة الأحاديث.
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی