resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیے گئے رزق کے وعدہ کا ذکر

(58403-No)

سوال: اللہ تعالیٰ نے رزق کے بارے میں کن الفاظ میں فرمایا ہے؟ کیونکہ آج کل بعض مذہبی اسکالرز یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی واضح طور پر "رزق کا وعدہ" نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن میں یہ الفاظ نہیں ملتے کہ اللہ نے رزق کا وعدہ کیا ہے، بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ اللہ نے رزق کی ذمہ داری لی ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا واقعی قرآن یا حدیث میں رزق کے وعدے کے الفاظ موجود ہیں یا نہیں؟ بعض لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ یہ ایک خوبصورت مگر خود ساختہ بات ہے، اور "رزق کا وعدہ" جیسے الفاظ نہ قرآن میں ہیں اور نہ ہی حدیث میں۔ براہِ کرم اس مسئلے کی وضاحت فرما دیں۔

جواب: یہ ٹھیک ہے کہ قرآن کریم میں لفظی طور پر یہ جملہ موجود نہیں کہ "اللہ نے رزق کا وعدہ فرمایا ہے" ، لیکن قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے رزق کے بارے میں ایسے واضح ارشادات فرمائے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام مخلوقات کا رزق اللہ تعالیٰ کے علم، اختیار اور ذمہ داری کے تحت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا﴾ "اور زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں مگر اس کا رزق اللہ کے ذمہ ہے۔" (سورۃ ھود: 6)
اس آیت میں "عَلَى اللَّهِ" کے الفاظ بہت معنی خیز ہیں، عربی زبان میں جب کسی چیز کے بارے میں "کسی کے ذمہ" ہونے کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس میں ذمہ داری، کفالت اور التزام کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے مطابق تمام مخلوقات کے رزق کا انتظام اپنے اختیار میں رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جو اللہ کے علم سے باہر ہو یا جس کے رزق کا انتظام اللہ کے اختیار میں نہ ہو۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ سورۃ الذاریات میں فرماتے ہیں: ﴿وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ ۝ فَوَرَبِّ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَا أَنَّكُمْ تَنطِقُونَ﴾ "اور آسمان ہی میں تمہارا رزق ہے اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے، پس آسمان و زمین کے رب کی قسم! یہ بالکل حق ہے، جیسے تمہارا بولنا حق ہے۔" (سورۃ الذاریات: 22-23)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رزق کو "وما توعدون" (اور جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے) کے ساتھ ذکر فرمایا اور پھر اس کے یقینی ہونے پر اپنی ذات کی قسم کھائی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رزق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک یقینی حقیقت اور اس کے وعدۂ حکمت کے مطابق مقرر کردہ نظام کا حصہ ہے۔
اسی طرح قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَاللَّهُ يَعِدُكُم مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا﴾ "اور اللہ تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ فرماتا ہے۔" (سورۃ البقرۃ: 268) اللہ کا فضل صرف آخرت کی نعمتوں تک محدود نہیں، بلکہ دنیا کی عطائیں، رزق، آسانیاں اور برکتیں بھی اس کے فضل میں شامل ہیں۔
احادیث مبارکہ میں بھی رزق کے اس تصور کو واضح کیا گیا ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "کوئی جان اس وقت تک دنیا سے نہیں جاتی جب تک اپنا پورا رزق اور اپنی مقررہ عمر پوری نہ کرلے، پس اللہ سے ڈرو اور رزق حاصل کرنے میں اچھا طریقہ اختیار کرو۔" (سنن ابن ماجه، کتاب التجارات، حدیث: 2144)
اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ انسان رزق کے لیے کوشش چھوڑ دے، بلکہ یہ ہے کہ انسان رزق کے معاملے میں حرام راستے اختیار نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر یقین رکھے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے پرندوں کی مثال دے کر فرمایا کہ اگر تم اللہ پر صحیح توکل کرو تو اللہ تمہیں بھی اسی طرح رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے؛ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں۔ (جامع الترمذی، کتاب الزھد، حدیث: 2344)
یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ پرندے اپنے گھونسلوں میں بیٹھے نہیں رہتے، بلکہ صبح نکلتے ہیں، تلاش کرتے ہیں اور پھر اللہ کے فضل سے رزق پاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ توکل کا مطلب اسباب چھوڑ دینا نہیں، بلکہ اسباب اختیار کرکے نتیجہ اللہ کے حوالے کرنا ہے۔
قرآن کریم انسان کو محنت اور کوشش کا بھی حکم دیتا ہے: ﴿فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِن رِّزْقِهِ﴾ "پس تم اس کی راہوں میں چلو اور اللہ کا رزق کھاؤ۔" (سورۃ الملک: 15)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے زمین میں چلنے، کوشش کرنے اور رزق تلاش کرنے کا حکم دیا، یعنی اسلام کا تصور یہ ہے کہ انسان نہ تو صرف اپنی محنت پر بھروسہ کرے اور اللہ کو بھول جائے، اور نہ یہ سمجھے کہ چونکہ رزق اللہ کے ذمہ ہے اس لیے اسے کوئی کوشش نہیں کرنی، بلکہ صحیح عقیدہ یہ ہے کہ رزق دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے، رزق کی مقدار، وقت اور نوعیت اللہ کے علم میں پہلے سے ہے، انسان کا کام جائز اسباب اختیار کرنا، محنت کرنا اور دعا کرنا ہے، اور نتیجہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور حکمت کے مطابق ظاہر ہوتا ہے، لہٰذا مسلمان کا دل رزق کے معاملے میں اللہ پر مطمئن رہتا ہے، مگر ہاتھ کوشش سے رکے نہیں رہتے۔ وہ حلال ذرائع اختیار کرتا ہے، اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ جو کچھ اسے ملتا ہے وہ اللہ کے علم، حکمت اور رحمت کے مطابق ملتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (ھود، الآية: 6)
وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ o

أحكام القرآن للشافعي: (23/1، ط: دار الكتب العلمية - بيروت)
وقال تعالى وما من دابة في الأرض إلا على الله رزقها فهذا عام لا خاص فيه فكل شيء من سماء وأرض وذي روح وشجر وغير ذلك فالله خالقه وكل دابة فعلى الله رزقها ويعلم مستقرها ومستودعها

تفسير القرطبي: (6/9، ط: دار الكتب المصرية)
قوله تعالى: (وما من دابة في الأرض إلا على الله رزقها) " ما" نفي و" من" زائدة و" دابة" في موضع رفع، التقدير: وما دابة." إلا على الله رزقها" " على" بمعنى" من"، أي من الله رزقها، يدل عليه قول، مجاهد: كل ما جاءها من رزق فمن الله. وقيل:" على الله" أي فضلا لا وجوبا. وقيل: وعدا منه حقا.
{وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ } [الذاريات: 22]

أيسر التفاسير للجزائري: (140/4، بترقيم الشاملة آليا)
{ وفي السماء رزقكم وما توعدون } : أي الأمطار التي بها الزرع والنبات وسائر الأقوات وما توعدون من ثواب وعقاب إن كل ذلك عند الله في السماء مكتوب في اللوح المحفوظ .{ فورب السماء والأرض إنه لحق } : إنه لحق أي ما توعدون لحق ثابت .
{الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ وَاللَّهُ يَعِدُكُمْ مَغْفِرَةً مِنْهُ وَفَضْلًا وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ } [البقرة: 268]

الجامع لأحكام القرآن للقرطبي: (329/3، ط: دار عالم الكتب، الرياض)
والفضل هو الرزق في الدنيا والتوسعة والنعيم في الآخرة ، وبكل قد وعد الله تعالى.

مشكاة المصابيح للتبريزي: (149/3، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)
عن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " أيها الناس ليس من شيء يقربكم إلى الجنة ويباعدكم من النار إلا قد أمرتكم به وليس شيء يقربكم من النار ويباعدكم من الجنة إلا قد نهيتكم عنه وإن الروح الأمين - وفي رواية : وإن روح القدس - نفث في روعي أن نفسا لن تموت حتى تستكمل رزقها ألا فاتقوا الله وأجملوا في الطلب ولا يحملنكم استبطاء الرزق أن تطلبوه بمعاصي الله فإنه لا يدرك ما عند الله إلا بطاعته " .

سنن الترمذي: (4/4، ط: دار الفكر للطباعة والنشر)
عن عمر بن الخطاب قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لو أنكم كنتم توكلون على الله حق توكله لرزقتم كما ترزق الطير تغدو خماصا وتروح بطانا .

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs