resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: جائز چیزوں کے لیے دعا مانگنے اور اسے خلافِ تقدیر سمجھنے کا حکم، نیز فوری طور پر دعا کے قبول نہ ہونے کی وجہ

(63615-No)

سوال: السلام علیکم ،مفتی صاحب! میں ایک نوجوان ہوں اور مجھے دعا اور تقدیر کے بارے میں ایک الجھن ہوگئی ہے۔
میں نے ایک مولوی صاحب کا بیان سنا تھا، انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، لیکن ایسی دعا نہیں کرنی چاہیے جس میں اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی تقدیر کو بدلنے کی بات ہو۔ انہوں نے مثال دی کہ اگر کسی شخص کو کوئی کھانا پسند نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرنا کہ وہ کھانا اس کی پسند کی ڈش بن جائے یا شیطان کے مسلمان ہونے کی دعا کرنا، ایسی دعا نہیں کرنی چاہیے۔
یہ بات سننے کے بعد مجھے ڈر لگنے لگا کہ اگر میں کسی حلال یا جائز چیز کو اللہ تعالیٰ سے بہت دل سے مانگوں تو کہیں میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر بدلنے کی دعا تو نہیں کر رہا، اب کبھی کبھی چھوٹی سی دعا کرتے وقت بھی میرے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ "کہیں یہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہ ہو" یا "شاید میں اس چیز کے لائق نہیں ہوں۔"
میرا سوال یہ ہے کہ کیا کسی حلال یا جائز چیز کو اللہ تعالیٰ سے دل سے مانگنا بالکل جائز ہے؟ کیا دعا کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے اپنی پسند کی چیز مانگنا تقدیر کے خلاف سمجھا جائے گا؟ اور اگر کوئی دعا پوری نہ ہو تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز میرے نصیب میں نہیں تھی؟ براہِ کرم مجھے سادہ الفاظ میں سمجھا دیجیے، کیونکہ اس الجھن کی وجہ سے مجھے دعا کرنے میں بھی ڈر لگنے لگا ہے۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں دعا کے متعلق آپ کے ذہن میں پیدا ہونے والی یہ الجھن درست نہیں ہے، اس لیے بلا وجہ ڈرنے یا دعا کرنا چھوڑنے کی ضرورت نہیں۔ ہر حلال و جائز چیز اللہ تعالیٰ سے مانگنا جائز ہے، بلکہ اپنی تمام جائز حاجات اللہ تعالیٰ ہی سے مانگنا عبادت ہے، جیسا کہ جامع ترمذی میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تم میں سے ہر شخص اپنی تمام حاجتیں اپنے رب سے مانگے، یہاں تک کہ جوتے کا تسمہ بھی اگر ٹوٹ جائے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ سے مانگے"۔ (ترمذی شریف، حدیث نمبر: 3604)
لہٰذا صحت، رزق، اچھا رشتہ، کامیابی یا کوئی بھی دوسری حلال و جائز چیز اللہ تعالیٰ سے دل سے مانگنا بالکل جائز ہے، اس میں تقدیر کے خلاف ہونے کا کوئی مفہوم نہیں، بلکہ دعا بھی تقدیر ہی کا ایک حصہ اور اسباب میں سے ایک سبب ہے، جس طرح بیماری میں دوا استعمال کرنا، بھوک میں کھانا کھانا اور روزی کے لیے محنت کرنا تقدیر کے خلاف نہیں، اسی طرح دعا کرنا بھی تقدیر کے خلاف نہیں ہے، البتہ دعا میں ان چیزوں کا مانگنا درست نہیں جو شرعاً گناہ، قطع رحمی وغیرہ پر مشتمل ہوں، لیکن عام حلال و جائز چیز کی دعا کرنا اس ممانعت میں داخل نہیں۔
واضح رہے کہ اگر کوئی دعا پوری نہ ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ چیز نصیب میں نہیں تھی یا وہ دعا ضائع ہوگئی، بلکہ حدیث مبارکہ کے مطابق کوئی شخص جب دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اسے تین چیزوں میں سے ایک ضرور عطا فرماتے ہیں: یا تو اس کی دعا جلد قبول فرما لیتے ہیں یا اسے آخرت کے لیے ذخیرہ کر دیتے ہیں یا اس دعا کی برکت سے کوئی مصیبت دور فرما دیتے ہیں۔ (مسند أحمد، حدیث نمبر: 11133)
لہٰذا محض ان وسوسوں کی وجہ سے دعا کرنے سے نہ رکیں اور نہ ہی یہ سمجھیں کہ اپنی پسند کی جائز چیز مانگنا تقدیر کے خلاف ہے، بلکہ ہر حلال و جائز حاجت اللہ تعالیٰ سے بے تکلف مانگتے رہیں اور نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*جامع الترمذي: (583/5، رقم الحديث: 3604، ط: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي)*
عن أنس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليسأل أحدكم ربه حاجته كلها حتى يسأل شسع نعله إذا انقطع»: «هذا حديث غريب» وروى غير واحد هذا الحديث عن جعفر بن سليمان، عن ثابت البناني، عن النبي صلى الله عليه وسلم ولم يذكروا فيه عن أنس.

*مسند الأمام احمد بن حنبل: (213/17، رقم الحديث: 11133، ط: مؤسسة الرسالة)*
عن أبي سعيد، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " ما من مسلم يدعو بدعوة ليس فيها إثم، ولا قطيعة رحم، إلا أعطاه الله بها إحدى ثلاث: إما أن تعجل له دعوته، وإما أنيدخرها له في الآخرة، وإما أن يصرف عنه من السوء مثلها " قالوا: إذا نكثر، قال: " الله أكثر ".

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs