resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: مشیتِ الہی اور رضائے الٰہی میں فرق

(62565-No)

سوال: مجھے آپ سے گزارش کرنی ہے کہ میں نے قرآن مجید میں پڑھا کہ مشیت الٰہی اور رضائے الٰہی ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، مجھے یہ جاننا ہے کہ ان میں کیا فرق ہے؟ اگر آپ اس کا جواب دے دیں تو نوازش ہوگی۔ جزاک اللہ

جواب: واضح رہے کہ مشیتِ الٰہی اور رضائے الٰہی ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادہ اور اس کی رضا و پسند ایک ہی چیز نہیں۔ دنیا میں کوئی واقعہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت کے بغیر رُونما نہیں ہوتا، تاہم کسی چیز کا اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اجازت سے واقع ہونا اس بات کی دلیل نہیں اور اس کو مستلزم نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی بھی ہے یا اسے پسند بھی فرماتا ہے۔
مشیتِ الٰہی سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ تکوینی نظام اور فیصلہ ہے جس کے تحت دنیا میں ہر قسم کے واقعات، خواہ خیر ہوں یا شر، واقع ہوتے ہیں، چنانچہ کسی مومن کا ایمان و تقویٰ، کسی نیک شخص کی اطاعت، کسی چور کی چوری، کسی قاتل کا قتل، کسی ظالم کا ظلم اور کسی کافر کا کفر، سب اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی قدرت کے تحت ہی وجود میں آتے ہیں، تاہم اللہ تعالیٰ نے امتحان کے طور پر انسان کو بہت سی چیزوں میں ارادہ و اختیار عطا فرمایا ہے، تاکہ وہ خیر اور شر میں سے جس راستے کو چاہے اختیار کرے اور اپنے اختیار کے مطابق جزا یا سزا کا مستحق بنے۔
اس کے برعکس رضائے الٰہی سے مراد اللہ تعالیٰ کا تشریعی نظام، اس کی حقیقی رضا اور پسند ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ایمان، اطاعت، تقویٰ، نیکی اور خیر کا مطالبہ فرماتا ہے اور ان سے انہی اعمال کے صدور کو پسند کرتا ہے۔ کفر، شرک، ظلم، نافرمانی اور دیگر گناہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر واقع نہیں ہوتے، لیکن اللہ تعالیٰ ان سے راضی نہیں ہوتا۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿وَلَا يَرْضَىٰ لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ﴾ ترجمہ: "اور وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا۔"(القرآن الكريم: الزمر، الآية: ٧)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفر کا واقع ہونا اگرچہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت ہو، لیکن اللہ تعالیٰ کی رضا اور پسند کفر کے ساتھ نہیں، بلکہ اللہ تعالی کی رضا ایمان سے متعلق ہے، اسی طرح نیکی اور بدی دونوں کے وجود میں آنے کا تعلق مشیتِ الٰہی سے ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی رضا صرف نیکی اور خیر اختیار کرنے والوں کو حاصل ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے بندوں کو اختیار اس لیے دیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے خیر کا راستہ اختیار کریں، نہ کہ شر کا۔
خلاصہ یہ ہے کہ مشیتِ الٰہی اللہ تعالیٰ کے تکوینی فیصلے اور قدرت کا نام ہے، جس کے تحت دنیا میں خیر و شر دونوں واقع ہوتے ہیں، جبکہ رضائے الٰہی اللہ تعالیٰ کی پسند اور تشریعی حکم کا نام ہے، جس کا تعلق ایمان، اطاعت، نیکی اور خیر کے ساتھ ہے، لہٰذا ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے واقع ہو، ضروری نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور پسندیدہ بھی ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الكريم: (الزمر، الآية: ٧)
﴿إِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ ۖ وَلَا يَرْضَىٰ لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ ۖ وَإِنْ تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ ۖ....●﴾

التفسير المظهري: (5/ 338، ط: مكتبة الرشدية - الباكستان)
وقال الذين أشركوا لو شاء الله ما عبدنا من دونه من شيء نحن ولا آباؤنا ولا حرمنا من دونه من شيء إنما قالوا ذلك استهزاء ومنعا لبعثة الرسل والتكليف متمسكين بأن ما شاء الله كان وما لم يشأ لا يكون فما الفائدة فيهما أو إنكارا لقبح ما هم عليه من الشرك وتحريم البحائر والسوائب ونحو ذلك متمسكين بأنه لولا أن الله رضيها لنا لما شاء الله صدورها عنا، ومبنى الشبهتين أن الرضاء يلازم المشية وليس كذلك.

تفسیر معارف القرآن: سورۃ الزمر: آیت نمبر: 7

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs