سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مجھے اپنی بیوی سے گفتگو کے دوران کہے گئے بعض الفاظ کے بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔
میں نے اپنی بیوی سے کہا: "میں ملحد بن رہا ہوں۔" اسی گفتگو کے دوران میں نے اس سے یہ سوال بھی کیا: "لوگ کہتے ہیں کہ فرشتے بچوں کی حفاظت کرتے ہیں تو پھر جو بچے مر جاتے ہیں، فرشتے انہیں کیوں نہیں بچاتے؟"
اسی گفتگو کے دوران میں نے یہ بھی کہا: "میں اس اللہ کو نہیں مانتا جس اللہ کو تم مانتی ہو۔"
ان تمام باتوں سے میری مراد یہ تھی کہ میں اللہ تعالیٰ کے اس تصور کو نہیں مانتا جو میری رائے میں ثقافتی روایات کے ذریعے تشکیل دیا گیا ہے، میری نیت اللہ تعالیٰ کے وجود کا انکار کرنا نہیں تھی، بلکہ میں یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ میں ثقافتی طور پر رائج تصورِ خدا اور اسلام کے اس طریقے کو قبول نہیں کرتا جس پر میری بیوی عمل کرتی ہے، کیونکہ میری سمجھ کے مطابق اس کی بہت سی تعلیمات قرآنِ کریم سے ثابت نہیں ہیں۔
میرا مقصد ہرگز اللہ تعالیٰ کا انکار یا اسلام کے حقیقی دین کو رد کرنا نہیں تھا، اب صورتِ حال یہ ہے کہ میری بیوی گھر چھوڑ کر چلی گئی ہیں اور مجھے بتایا جا رہا ہے کہ میرے خلاف کفر کا فتویٰ جاری ہوگیا ہے، میں ایمان سے خارج ہوچکا ہوں اور میرا نکاح بھی ختم ہوگیا ہے۔
میری گزارش ہے کہ اس معاملے میں قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
1) کیا میرے بیان کردہ الفاظ، نیز میری بیان کردہ نیت اور گفتگو کے پس منظر کی روشنی میں مجھ پر کفر کا حکم لاگو ہوتا ہے؟
2) کیا ان الفاظ کی وجہ سے میں اسلام کے دائرے سے خارج ہوگیا ہوں؟
3) کیا شرعی اعتبار سے میرا نکاح ختم ہوگیا ہے؟
4) اگر کسی مفتی نے مجھے کافر قرار دے کر تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح کا حکم دیا ہے تو کیا میری وضاحت، نیت اور ان الفاظ کے اصل پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے اس فتویٰ پر دوبارہ غور کیا جاسکتا ہے؟
براہِ کرم میرے بیان کردہ تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے قرآن و سنت اور معتبر فقہی حوالہ جات کی روشنی میں واضح اور مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: پوچھی گئی صورت میں آپ نے جو کلمات ادا کیے ہیں، ان کے الفاظ اور ان کے پس منظر و نیت کا شرعی و فقہی جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی گفتگو میں تین باتیں سامنے آئی ہیں: "میں ملحد بن رہا ہوں"، یہ جملہ اگرچہ ارادے کی صورت میں بولا گیا ہے، لیکن کفر یا الحاد کی طرف میلان کا اظہاربھی نہایت سنگین اور قبیح ہے۔
"فرشتے بچوں کی حفاظت کرتے ہیں تو جو مر جاتے ہیں انہیں کیوں نہیں بچاتے؟" فرشتوں کی حفاظت اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر کے تابع ہوتی ہے، جب اجلِ مسمّٰی (مقررہ وقت) آجاتا ہے تو حفاظت اٹھا لی جاتی ہے، اس پر اعتراض یا اشکال اگر بطورِ استفسار ہو تو کفر نہیں، البتہ اعتراض و انکار کے لہجے میں ہو توصریح گمراہی ہے۔
"میں اس اللہ کو نہیں مانتا جس اللہ کو تم مانتی ہو" یہ جملہ ظاہری اعتبار سے صریح کفر کا شبہ پیدا کرتا ہے، لیکن آپ کی وضاحت کے مطابق آپ کی مراد اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار نہیں، بلکہ عوام الناس اور مروّجہ ثقافت میں موجود غیر مستند تصورات اور توہمات سے براءت کا اظہار تھا۔ فقہِ حنفی کا متفقہ اور مسلمہ اصول ہے کہ جب تک کسی مسلمان کے کلام میں ایمان پر محمول کرنے کی کوئی ادنیٰ سی گنجائش بھی موجود ہو، اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔
چونکہ آپ خود صراحت کر رہے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے وجود، وحدانیت اور قرآن پر ایمان رکھتے ہیں، اور آپ کی نیت قطعی طور پر اللہ کے انکار کی نہیں تھی، بلکہ عوامی بدعات و ثقافتی تصورات کی نفی مقصود تھی، لہٰذا آپ کی بیان کردہ نیت اور وضاحت کے پیشِ نظر آپ پر کفر کا حکم عائد نہیں کیاجارہا ہےاور شرعی اعتبار سے آپ کا نکاح بدستور قائم ہے، فسخ نہیں ہوا، اگرچہ اپنی جگہ یہ کلمات کہنا انتہائی قبیح اور خطرناک ہے، جس سے توبہ کرنا اور آئندہ کے لیے مکمل اجتناب لازم اور ضروری ہے۔
جس مفتی صاحب نے کفر اور تجدیدِ نکاح کا فتویٰ دیا ہے، ان کے سامنے غالباً صرف وہ ظاہری الفاظ ("میں ملحد بن رہا ہوں"، "میں اس اللہ کو نہیں مانتا...") رکھے گئے ہوں گے، اور آپ کی نیت، فکری پس منظر اور سیاق و سباق ان کے علم میں نہیں لایا گیا ہوگا۔
فتویٰ ظاہرِ حال پر دیا جاتا ہے، جبکہ قضاء اور تکفیر میں قائل کی نیت اور تاویل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص ایسے کلمات کہے جن کا ظاہر برا ہو لیکن اس کی باطنی نیت اور مراد صحیح ہو تو اس سے وضاحت لی جائے گی اور اس کے بیان کو تسلیم کیا جائے گا: "الْمُتَكَلِّمُ أَعْلَمُ بِمُرَادِهِ"، یعنی کلام کرنے والا اپنی مراد کو سب سے بہتر جانتا ہے، لہٰذا جن مفتی صاحب نے فتویٰ جاری کیا ہے، آپ بنفسِ نفیس ان کی خدمت میں حاضر ہو کر یا تحریری طور پر اپنی مکمل نیت، تاویل اور سیاق و سباق پیش کریں؛ امید ہے کہ وہ شریعت کے مسلّمہ قواعد کی روشنی میں اپنے فتوے پر نظرِ ثانی فرمالیں گے۔
اگرچہ آپ کافر نہیں ہوئے اور نکاح بھی نہیں ٹوٹا، لیکن چونکہ یہ الفاظ انتہائی قبیح، سخت نازیبا اور شریعت کے شعائر کے خلاف ہیں، جن سے عامۃ الناس اور گھریلو ماحول میں شدید فتنہ پیدا ہوا، اس لیے آپ کے ذمے صدقِ دل سے توبہ و استغفار اور تجدیدِ ایمان ہے؛ ایسے مبہم اور اشتعال انگیز کلمات بولنے پر اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر سچی توبہ کریں اور احتیاطاً زبان سے کلمۂ شہادت پڑھ کر تجدیدِ ایمان کر لیں۔ نیز اگرچہ دیانتاً آپ کا نکاح برقرار ہے، لیکن بیوی کے دل کے اطمینان، خاندانی شکوک و شبہات کے ازالے اور مفتیانِ کرام کے ظاہری حکم کے احترام میں اگر باہمی رضامندی سے دو گواہوں کی موجودگی میں بغیر کسی بڑے ہنگامے کے علامتی طور پر تجدیدِ نکاح (نئے مہر کے ساتھ یا معمولی رقم پر ایجاب و قبول) کر لیا جائے تو یہ اختلاف سے بچنے کے لیے نہایت مستحسن اور افضل عمل ہوگا۔ اس سے گھر کی فضا بھی پرسکون ہو جائے گی اور شرعی شبہات بھی ختم ہو جائیں گے، تاہم آئندہ اپنی اہلیہ یا کسی بھی شخص سے علمی یا فکری اختلاف کے وقت غصے یا طنز میں ایسے کلمات بولنے سے سخت پرہیز کریں جن سے کفر کا وہم پیدا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
البحر الرائق: (207/1، ط: دار الكتاب الإسلامي)
المسألة إذا كان فيها وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنع فعلى المفتي أن يميل إلى ذلك الوجه. اه.
و فیه ایضا: (135/5)
والذي تحرر أنه لا يفتى بتكفير مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره اختلاف ولو رواية ضعيفة فعلى هذا فأكثر ألفاظ التكفير المذكورة لا يفتى بالتكفير بها ولقد ألزمت نفسي أن لا أفتي بشيء منها وأما مسألة تكفير أهل البدع المذكورة في الفتاوى فقد تركتها عمدا لأن محلها أصول الدين وقد أوضحها المحقق في المسايرة.
رد المحتار: (224/4، ط: دار الفكر-بيروت)
لا يخرج الرجل من الإيمان إلا جحود ما أدخله فيه ثم ما تيقن أنه ردة يحكم بها وما يشك أنه ردة لا يحكم بها إذ الإسلام الثابت لا يزول بالشك مع أن الإسلام يعلو وينبغي للعالم إذا رفع إليه هذا أن لا يبادر بتكفير أهل الإسلام مع أنه يقضي بصحة إسلام المكره. أقول: قدمت هذا ليصير ميزانا فيما نقلته في هذا الفصل من المسائل، فإنه قد ذكر في بعضها إنه كفر مع أنه لا يكفر على قياس هذه المقدمة فليتأمل اه ما في جامع الفصولين وفي الفتاوى الصغرى: الكفر شيء عظيم فلا أجعل المؤمن كافرا متى وجدت رواية أنه لا يكفر اه وفي الخلاصة وغيرها: إذا كان في المسألة وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنعه فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم زاد في البزازية إلا إذا صرح بإرادة موجب الكفر فلا ينفعه التأويل ح وفي التتارخانية: لا يكفر بالمحتمل، لأن الكفر نهاية في العقوبة فيستدعي نهاية في الجناية ومع الاحتمال لا نهاية اه والذي تحرر أنه لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره اختلاف ولو رواية ضعيفة فعلى هذا فأكثر ألفاظ التكفير المذكورة لا يفتى بالتكفير فيها ولقد ألزمت نفسي أن لا أفتي بشيء منها اه كلام البحر باختصار.
و فیه ایضا: (42/1، ط: دار الفكر-بيروت)
لأنك تسمع كثيرا من العوام يتكلمون بما يكفر وهم عنها غافلون، والاحتياط أن يجدد الجاهل إيمانه كل يوم ويجدد نكاح امرأته عند شاهدين في كل شهر مرة أو مرتين، إذ الخطأ وإن لم يصدر من الرجل فهو من النساء كثير.
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی