سوال:
مفتی صاحب! قرآن و سنت میں مہاجرین اور انصار، دونوں حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بے شمار فضائل بیان ہوئے ہیں۔ مہاجرینِ کرام رضی اللہ عنہم نے دینِ اسلام کی خاطر اپنے وطن، اہل و عیال، مال و اسباب، کاروبار اور دیگر دنیاوی آسائشوں کو چھوڑ کر عظیم قربانیاں دیں، جبکہ انصارِ مدینہ رضی اللہ عنہم نے حضور نبی کریم ﷺ اور مہاجرین کی بے مثال نصرت، ایثار اور میزبانی کا حق ادا کیا۔
احادیثِ مبارکہ میں انصار کی فضیلت کے بارے میں بھی نہایت عظیم ارشادات وارد ہوئے ہیں، مثلاً نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار دوسری وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اختیار کروں گا۔
اس تناظر میں گزارش ہے کہ شریعت کی روشنی میں مہاجرین اور انصار میں فضیلت کی ترتیب کیا ہے؟ کیا مذکورہ حدیث سے انصارِ کرام رضی اللہ عنہم کو مہاجرینِ کرام رضی اللہ عنہم پر مطلق فضیلت حاصل ہوتی ہے یا اس کی کوئی دوسری توجیہ اور تشریح ہے؟ قرآن و حدیث اور ائمۂ امت کی توضیحات کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب: (1) اہل سنت والجماعت کے تمام ائمہ، محدّثین اور فقہاء کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں مجموعی اور کلی فضیلت کے اعتبار سے مہاجرینِ کرام کو انصارِ کرام پر قطعی فضیلت اور برتری حاصل ہے۔ قرآن و سنت اور علمائے امت کی توضیحات کی روشنی میں اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
*قرآن مجید سے استدلال*
قرآنِ کریم میں جہاں بھی ان دونوں مبارک جماعتوں کا تذکرہ ایک ساتھ آیا ہے، اللہ رب العزت نے مہاجرین کو انصار پر مقدم رکھا ہے۔ ترتیبِ قرآنی خود فضیلت کی ترتیب کی عکاس ہے:
• سورۃ التوبہ (آیت 100): ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ..." (اور جو لوگ قدیم ہیں، سب سے پہلے ہجرت کرنے والے اور مدد کرنے والے...)۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کا ذکر انصار سے پہلے فرمایا ہے۔
• سورۃ الحشر (آیات 8 تا 9): اللہ تعالیٰ نے پہلے مہاجرینِ مکہ کی بے مثال قربانیوں (وطن اور مال چھوڑنے) کا ذکر فرمایا اور اس کے بعد اگلی آیت میں انصارِ مدینہ کے ایثار اور محبت کی تعریف فرمائی۔
*عقلی اور تاریخی دلائل:*
• *ہجرت اور نصرت کا جمع ہونا:* مہاجرینِ کرام میں دو عظیم خوبیاں جمع تھیں؛ انہوں نے اللہ کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر کے 'ہجرت' بھی کی، اور بعد میں مدینہ منورہ اور دیگر غزوات میں دین کی 'نصرت' (مدد) بھی کی، جبکہ انصارِ کرام کو نصرت کا عظیم شرف حاصل ہوا۔
• *خلفائے راشدین اور عشرہ مبشرہ:* امّت کے سب سے افضل ترین افراد یعنی چاروں خلفائے راشدین (حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم) مہاجرین میں سے ہیں، اسی طرح وہ دس صحابہ جنہیں دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی گئی (عشرہ مبشرہ)، وہ سب کے سب بھی مہاجرین ہیں۔
(2) آپ نے جس مستند اور مشہور حدیث کا حوالہ دیا ہے (جس میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں تو میں انصار کی وادی اختیار کروں گا)، یہ صحیحین (بخاری و مسلم) کی روایت ہے، لیکن محدثین اور شارحینِ حدیث نے اس کی جو تشریح کی ہے، وہ درج ذیل ہے:
پس منظر (غزوۂ حنین): یہ ارشادِ گرامی نبی کریم ﷺ نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا تھا، جب آپ ﷺ نے مالِ غنیمت میں سے نو مسلموں (مؤلفۃ القلوب) کو زیادہ حصہ دیا تاکہ ان کی تالیفِ قلب ہو سکے تو بعض نوجوان انصار کو اس پر رنج ہوا کہ تلواریں ہم نے چلائیں اور مال دوسروں کو مل گیا، اس موقع پر حضور ﷺ نے انصار کو جمع کر کے ایک نہایت جذباتی اور رلا دینے والا خطبہ دیا اور ان کی دلجوئی فرمائی۔
اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے انصار کی دلجوئی، ان کے ساتھ اپنی غایت درجہ محبت، ان کے بے لوث ایثار کی قدردانی اور ان پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار فرمایا ہے۔ یہ انصار کی ایک مخصوص اور جزوی فضیلت ضرور ہے، لیکن کسی ایک موقع پر شدتِ محبت کے اظہار سے مطلق اور کلّی فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔
خلاصۂ کلام یہ ہےکہ مہاجرینِ کرام اور انصارِ کرام، دونوں ہی آسمانِ ہدایت کے روشن ستارے اور امّت کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ انصار کا ایثار بے مثال ہے جس کی بدولت اسلام کو مدینہ میں پناہ اور قوت ملی، لیکن شریعت کی نظر میں کلّی اور عمومی درجہ بندی کے لحاظ سے مہاجرینِ کرام کا مقام انصارِ کرام سے بلند تر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکریم: ( التوبة: الایة 100)*
"وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ..."
*روح البيان: (3/ 491)*
وانما مدح السابقين لان السابق امام للتالى والفضل للمتقدم.
{لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنْصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ (8) وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (9) } [الحشر: 8، 9]
*تفسير ابن كثير ت سلامة: (8/ 68 دار طيبة للنشر والتوزيع)*
يقول تعالى مبينا حال الفقراء المستحقين لمال الفيء أنهم {الذين أخرجوا من ديارهم وأموالهم يبتغون فضلا من الله ورضوانا} أي: خرجوا من ديارهم وخالفوا قومهم ابتغاء مرضاة الله ورضوانه {وينصرون الله ورسوله أولئك هم الصادقون} أي: هؤلاء الذين صدقوا قولهم بفعلهم، وهؤلاء هم سادات المهاجرين.
ثم قال تعالى مادحا للأنصار، ومبينا فضلهم وشرفهم وكرمهم وعدم حسدهم، وإيثارهم مع الحاجة، فقال: {والذين تبوءوا الدار والإيمان من قبلهم} أي: سكنوا دار الهجرة من قبل المهاجرين وآمنوا قبل كثير منهم.
قال عمر: وأوصي الخليفة [من] (1) بعدي بالمهاجرين الأولين أن يعرف لهم حقهم، ويحفظ لهم كرامتهم. وأوصيه بالأنصار خيرا الذين تبوءوا الدار والإيمان من قبل، أن يقبل من محسن
*مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (9/ 4008)*
لولا فضلي على الأنصار بسبب الهجرة لكنت واحدا منهم، وهذا تواضع منه - صلى الله عليه وسلم - وحث للناس على إكرامهم واحترامهم، لكن لا يبلغون درجة المهاجرين السابقين الذين أخرجوا من ديارهم، وقطعوا عن أقاربهم وأحبابهم، وحرموا أوطانهم وأموالهم – وهم رضي الله عنهم - ما نالوا ذلك بآلة - لأجل رضا الله ورسوله وإعلاء لدين الله وسنة رسوله، والأنصار وإن اتصفوا بصفة النصرة والإيثار والمحبة والإيواء، ولكنهم مقيمون في مواطنهم ساكنون مع أقاربهم وأحبابهم، وحسبك شاهدا في فضل المهاجرين قوله هذا، لأن فيه إشارة إلى جلالة رتبة الهجرة فلا يتركها نبي مهاجري لأنصاري
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی