resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: کئی سال بعد ترکہ تقسیم کرنے، وراثتی زمین کے حصوں اور بہنوں کو ان کا شرعی حق دینے کا حکم

(52345-No)

سوال: حضرت میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے والد صاحب 1999 میں وفات پا گئے تھے، وہ اپنے ترکے میں ایک گھر جس میں ہم رہتے تھے اور کچھ پہاڑی زمین (جو ناپ کے حساب سے نہیں ہو سکتی پہاڑی ایریا میں اوپر نیچے ہوتی ہے) جو کہ ابھی کچھ دن پہلے ہمارے حصہ میں آئی ہے، ہم 4 بھائی 2 بہنیں اور والدہ ہیں۔
آپ سے اس معاملے میں تین چیزوں کی بارے میں پوچھنا تھا
1) جو گھر ہے اس کی اگر قیمت لگائیں تو 1999 کے ٹائم کی لگائیں گے یا جب ہم نے اپنی دو بہنوں کا حصہ نکالنا ہے اس وقت کی لگائیں گے؟
2) جو تھوڑی بہت زمیںن ہمارے دادا کی طرف سے والد صاحب کے حصہ میں آئی ہے، اس میں سے ہم سب کو کتنا کتنا حصہ آئے گا؟
3) کیا ہم کو اپنی بہنوں کو حصہ دینا ضروری ہے یا ان کی جگہ کچھ پیسے ادا کر دیں یا اگر وہ زمین میں سے حصہ معاف کرنا چاہیں اور مکان میں سے لینا چاہیں تو ایسا بھی کر سکتی ہیں؟
جزاک اللہ

جواب: 1) کسی شخص کے انتقال کے کئی سال بعد اس کی جائیداد تقسیم کی جائے تو جائیداد کی قیمت لگاتے وقت تقسیم کے وقت کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کا اعتبار کیا جائے گا، لہٰذا جس وقت ورثاء میں جائیداد تقسیم کی جائے گی، اس وقت کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق جائیداد کی قیمت متعین کرکے ہر وارث کو اس کا شرعی حصہ دیا جائے گا۔
2) اگر آپ کے دادا نے اپنی زندگی میں مالکانہ تصرّف کے ساتھ وہ زمین آپ کے والد کو دے دی تھی یا آپ کے دادا کے انتقال کے بعد آپ کے والد کو ترکہ میں ملی تھی تو یہ زمین بھی آپ کے والد کے ترکہ میں شمار ہوگی اور ان کے انتقال کے بعد ان کے شرعی ورثاء میں شریعت کے قانونِ میراث کے مطابق تقسیم ہوگی۔
3) جی ہاں! بہنوں کو ان کا شرعی حصہ دینا ضروری ہے، ان کی رضامندی کے بغیر ان کا حصہ روکنا یا کم کرنا جائز نہیں، البتہ اگر بہنیں بالغ اور سمجھ دار ہوں اور اپنی خوشی و رضامندی سے اپنے شرعی حصے کے بدلے رقم لینا چاہیں یا زمین کے بجائے مکان میں اپنا حصہ لینا چاہیں تو باہمی رضامندی سے ایسا کیا جاسکتا ہے، لیکن اپنے حصہ پر قبضہ کیے بغیر کسی کے حق میں دستبردار یا اپنا حصہ معاف نہیں کرسکتی ہیں۔
واضح رہے کہ خاندانی یا معاشرتی دباؤ کی وجہ سے کسی وارث سے اس کا حصہ معاف کروا لینا، جیسا کہ ہمارے ہاں بعض علاقوں میں معاشرتی اور خاندانی دباؤ کی وجہ سے بہنیں اپنا حصہ بھائیوں کو معاف کر دیتی ہیں، ایسا کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، لہذا بہنوں کے جبری طور پر معاف کرنے کے باوجود وہ حصہ ان کی ملیکت میں برقرار رہے گا، بھائیوں کا اس پر قبضہ کرنا شرعاً حرام اور ظلم شمار ہوگا۔



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*عمدۃ القاری: (229/23، ط: دار احیاء التراث العربی)*
المواريث فرائض وفروضا لما أنها مقدرات لأصحابها ومبينات في كتاب الله تعالى ومقطوعات لا تجوز الزيادة عليها ولا النقصان منها.

*درر الحکام فی شرح مجلة الاحکام: (26/3، ط: دار الجیل)*
(المادة 1073) (تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح) تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما، انظر المادة (1308) وحاصلاتها أيضا يجب أن تكون على هذه النسبة؛ لأن الغنم بالغرم بموجب المادة (88)
الحاصلات: هي اللبن والنتاج والصوف وأثمار الكروم والجنائن وثمن المبيع وبدل الإيجار والربح وما أشبه ذلك.

*بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (كتاب الحدود، فصل في بيان صفات الحدود،57/7، ط: دار الكتب العلمية)*
لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال «عليه الصلاة والسلام - من ترك مالا أو حقا فهو لورثته» ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث ولا يجري فيه التداخل؛ لما ذكرنا، والله سبحانه وتعالى أعلم

*رد المحتار: (کتاب الفرائض، 769/6، ط: سعید)*
أن شرط الإرث وجود الوارث حيا عند موت المورث.

*اللباب في شرح الكتاب: (کتاب المفقود، 217/2، ط: المكتبة العلمية)*
ومن شرط الإرث تحقق موت الموروث وحياة الوارث.

*الفتاوى الهندية: (374/4، ط: دار الفکر)*
ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب..

*تکملة رد المحتار: (505/7، ط: سعید)*
"الإرث جبري لَا يسْقط بالإسقاط".

*الأشباہ و النظائر: (ما یقبل الاسقاط من الحقوق، ص: 309، ط: قدیمی)*
"لَوْ قَالَ الْوَارِثُ: تَرَكْتُ حَقِّي لَمْ يَبْطُلْ حَقُّهُ؛ إذْ الْمِلْكُ لَا يَبْطُلُ بِالتَّرْك".

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster