سوال:
جناب مشتاق احمد صاحب کا انتقال 2 دسمبر 2025ء کو ہوا۔ ان کے ایک ہی بیٹے ثاقب مشتاق تھے، جن کا انتقال اپنے والد سے پہلے 20 اگست 2025ء کو ہو چکا تھا۔ مرحوم مشتاق احمد کی تین بیٹیاں ہیں جو سب حیات اور شادی شدہ ہیں۔
ثاقب مشتاق کے انتقال کے بعد ان کی زرعی آلات کی ورکشاپ والی زمین کی وراثت تقسیم ہوئی، جس میں ان کے والد مشتاق احمد کو بھی شرعاً حصہ ملا۔ بعد ازاں مشتاق احمد نے اپنی ذاتی ملکیت اور اپنے مرحوم بیٹے سے ملنے والے حصے کو ملا کر اپنی وفات سے چند روز قبل شدید علالت میں جبکہ رجسٹری کے بیان کے دن وہ ہسپتال میں زیرِ علاج اور داخل تھے، ایک داماد کے ہاتھ فروخت کر دیا۔
داماد اور اس کے والد کے مطابق، مشتاق احمد نے فروخت کے وقت یہ کہا تھا کہ اس فروخت سے حاصل ہونے والی رقم ان کی تینوں بیٹیوں میں تقسیم کر دی جائے۔
اس دوران مشتاق احمد کا انتقال ہو گیا اور مذکورہ رقم جس بیٹی کے شوہر نے یہ زمین خریدی تھی، اس بیٹی نے اپنی دونوں بہنوں کے ساتھ آپس میں تقسیم کر لی۔
مزید یہ کہ مرحوم ثاقب مشتاق کے ورثاء میں ایک بیوہ، ایک بیٹا اور تین بیٹیاں موجود ہیں۔
سوال:
شرعی اعتبار سے مشتاق احمد کی مذکورہ رقم کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ رقم ان کی وفات کے بعد تمام شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگی یا صرف تینوں بیٹیوں کا اس پر حق بنتا ہے؟ خصوصاً مرحوم بیٹے ثاقب مشتاق کے بچوں (یعنی مشتاق احمد کے پوتے اور پوتیوں) کا اس رقم میں کوئی شرعی حق بنتا ہے یا نہیں؟
جواب: واضح رہے کہ اگر سسر نے واقعتاً داماد کو اپنی جائیداد فروخت کی ہو تو یہ بیع نافذ ہوگئی ہے، داماد کے ذمّہ لازم ہے کہ وہ مکمل قیمت شرعی ورثاء کے حوالے کرے اور شرعی ورثاء اپنے شرعی حصوں کے بقدر اس رقم کو آپس میں تقسیم کرلیں۔
مرحوم والد کا یہ کہنا کہ "یہ رقم تین بیٹیوں کو دینا" معتبر نہیں ہے، کیونکہ مرحوم کے پوتے اور پوتیاں بھی مرحوم کے شرعی وارث میں شامل ہیں، لہذا یہ مکمل رقم تینوں بیٹیوں، پوتے اور تینوں پوتیوں کے درمیان ان کے شرعی تناسب سے تقسیم ہوگی۔
مرحوم کی تجہیز وتکفین، قرض کی ادائیگی اور کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد مرحوم کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ پینتالیس (45) حصوں میں تقسیم کی جائے گی، جس میں سے تینوں بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو دس (10) حصے، پوتے کو چھ (6) حصے اور تینوں پوتیوں میں سے ہر ایک پوتی کو تین (3) حصے ملیں گے۔
فیصد کے اعتبار سے تینوں بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو %22.22 فیصد، پوتے کو %13.33 فیصد اور تینوں پوتیوں میں سے ہر ایک پوتی کو %6.66 فیصد حصہ ملے گا۔
چونکہ مشتاق احمد کی بیوی اور بیٹے کا انتقال ان کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا، لہذا ان دونوں (مرحومہ بیوی اور مرحوم بیٹے) کو مشتاق احمد کی میراث میں سے کچھ حصہ نہیں ملے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکریم: (النساء، الایة:11)*
فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۚ
*صحیح البخاري: (باب میراث ابن الابن، رقم الحدیث: 6735، ط: دار طوق النجاة)*
وقال زيد: «ولد الأبناء بمنزلة الولد، إذا لم يكن دونهم ولد ذكرهم كذكرهم، وأنثاهم كأنثاهم، يرثون كما يرثون، ويحجبون كما يحجبون، ولا يرث ولد الابن مع الابن»".
*الشریفیۃ: (ص:۶۱، ط: مکتبۃ الباز مکۃ المکرمۃ)*
فإن بنات الابن إذا کان بحذائہن غلامٌ، سوائٌ کان أخاہن أو ابن عمہن، فإنہ یعصِّبہن، کما أن الابن الصلبي یعصب البنات الصلبیۃ الخ، فکذا یعصِّبہا في استحقاق الباقي من الثلثین مع الصلبیتین، وإلیہ ذہب عامۃ الصحابۃ وعلیہ جمہور العلماء رحمہم اللّٰہ تعالیٰ۔
*حاشية ابن عابدين رد المحتار: (مطلب في بيع المرهون المستأجر، 5/ 112، ط: الحلبي)*
(و) *وقف* (بيع الغاصب) على إجازة المالك؛ يعني إذا باعه لمالكه لا لنفسه على ما مر عن البدائع. ووقف أيضا بيع المالك المغصوب على البينة، أو إقرار الغاصب، وبيع ما في تسلمه ضرر على تسليمه في المجلس، *وبيع المريض لوارثه على إجازة الباقي*، وبيع الورثة التركة المستغرقة على إجازة الغرماء،.
(قوله: *وبيع المريض لوارثه) أي ولو بمثل القيمة وهذا عنده، وعندهما يجوز ويخير المشتري بين فسخ وإتمام لو فيه باتا أو محاباة قلت أو كثرت*، وكذا وصي الميت لو باعه من الوارث فهو على هذا الخلاف كذا وارث صحيح باع من مورثه المريض فهو على هذا الخلاف عنده لم يجز ولو بقيمته، وعندهما يجوز جامع الفصولين. (قوله: على إجازة الباقي) أو على صحة المريض، فإن صح من مرضه نفذ، وإن مات منه ولم تجز الورثة بطل فتح.
*الموسوعة الفقهية الكويتية: (الأحكام المتعلقة بالمحاباة، 36/ 157، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية - الكويت)*
*المحاباة من الصحيح:*
2 - المحاباة من الصحيح غير المريض مرض الموت يترتب عليها استحقاق المتبرع له بها من جميع مال المحابي، إن كان صحيحا عند الحنفية والشافعية والحنابلة لأن المحاباة توجب الملك في الحال فيعتبر حال التعاقد فإذا كان المحابي صحيحا حينئذ فلا حق لأحد في ماله، فتؤخذ من جميع ماله لا من الثلث.
*المحاباة من المريض مرض الموت لغير وارثه*
3 - نص الحنفية على أنه لا يجوز المحاباة ولو يسيرة من المريض المدين بدين يحيط بكل ماله لو باع شيئا من ماله لأجنبي - أي غير وارث له - سواء أجازت الورثة المحاباة أم لا، ويكون على المشتري حينئذ أن يزيل المحاباة زيادة الثمن إلى ثمن المثل أو يفسخ البيع.
وإن لم يكن على المريض دين تجوز المحاباة ولو فاحشة لكن تكون في ثلث ماله تؤخذ منه إن وسعها بأن كانت المحاباة مساوية للثلث أو أقل منه، أما إن كانت المحاباة أكثر من الثلث فلا تجوز الزيادة إلا إذا أجازها الورثة باتفاق المذاهب. وإن لم يجز الورثة ذلك كان للمشتري - عند الحنفية - أن يكمل بقية الثمن أو يفسخ البيع.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی