resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ہبہ کی گئی رقم سے خریدے گئے مکان کی شرعی ملکیت اور وراثت کا حکم

(47232-No)

سوال: والد صاحب حیات ہیں اور وہ اسی گھر میں رہتے ہوئے اپنی جائیداد اپنی بیوی، ایک بیٹے اور ایک بیٹی میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں، بعد میں بیوی اور بیٹے اپنے حصے یا اس کے بدلے ملی ہوئی رقم والد کو واپس کر دیں گے۔ والد اس رقم کو استعمال کرتے ہوئے ایک نئی جائیداد خریدیں گے اور اسے اپنے، اپنی بیوی اور اپنے بیٹے کے نام پر کریں گے۔ بیٹی کو رقم دینے کے بعد نئی جائیداد میں شامل نہیں کریں گے۔
سوال: کیا شرعاً یا قانونی طور پر والد پر لازم ہے کہ وہ نئی خریدی گئی جائیداد میں بھی بیٹی کو دوبارہ حصہ دیں، جبکہ وہ اپنا سابقہ حصہ وصول کر چکی ہے؟

جواب: واضح رہے کہ جس مکان میں ہبہ کرنے والا (Donor) خود رہائش پذیر ہو، اس مکان کا ہبہ (Gift) اس وقت تک شرعاً مکمل (ہبہ تام) نہیں ہوتا جب تک وہ اس مکان کو مکمل طور پر خالی کرکے اپنا تمام سامان وہاں سے منتقل نہ کر دے اور موہوب لہ (جس کے حق میں ہبہ کیا جا رہا ہے "Donee") کو اس پر مکمل قبضہ اور تصرّف نہ دے دے۔ محض زبانی طور پر کہنے سے وہ مکان بدستور ہبہ کرنے والے ہی کی ملکیت میں رہتا ہے۔
البتہ اگر ہبہ کرنے والا اس مکان کو فروخت کر دے اور اس سے حاصل ہونے والی رقم اپنے ورثاء کو بطورِ ہبہ اس طرح دے کہ انہیں اس رقم پر مکمل قبضہ اور مالکانہ تصرّف بھی حاصل ہو جائے تو اس صورت میں ہبہ شرعاً مکمل اور معتبر ہوگا، اور جس شخص کو وہ رقم قبضہ کے ساتھ دی جائے گی، وہ اس کا شرعی مالک بن جائے گا۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر والد اپنے زیرِ رہائش مکان کو اسی میں رہتے ہوئے ہبہ کریں گے تو یہ ہبہ شرعاً معتبر نہیں ہوگا اور وہ مکان بدستور والد ہی کی ملکیت شمار ہوگا، البتہ اگر والد اس مکان کو فروخت کرکے اس کی قیمت کسی وارث کو قبضہ اور مکمل مالکانہ تصرف کے ساتھ دے دے تو وہ شخص اس رقم کا شرعی مالک بن جائے گا اور اس رقم کا ہبہ صحیح اور مکمل ہوگا۔
نیز رقم دینے کی صورت میں اگر بیوی اور بیٹا اپنی رقم شوہر/والد کو مالکانہ تصرّف کے ساتھ واپس کر دیں اور شوہر/والد اس رقم سے کوئی مکان اپنے لیے خریدے تو اس کے انتقال ہونے پر اس پورے مکان میں بیٹی کا بھی میراث میں حصہ ہوگا، اور اگر بیوی اور بیٹا مکان خریدنے کے لیے رقم شراکت کے طور دیں تو اس مکان میں بیوی اور بیٹا اپنی رقم کے بقدر شریک حصہ دار ہوں گے اور اس صورت میں والد کے انتقال ہونے پر بیٹی کو پورے مکان میں نہیں بلکہ صرف اپنے والد کے حصہ میں سے میراث ملے گی۔
نوٹ: یہ جواب صرف اس صورت کا ہے جبکہ صرف والد کا انتقال ہو اور اگر والدہ یا بھائی کا انتقال ہو تو اس وقت سوال کی تفصیل بتاکر دوبارہ سوال پوچھا جاسکتا ہے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: (کتاب الھبة، الباب السادس في الهبة للصغير، 4/ 392، ط:المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)*
«الحسن بن زياد عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - في رجل تصدق بداره على ابنه الصغير وله فيها متاع أو كان فيها ساكن بغير أجر جازت الصدقة، وإن كانت في يدي رجل بإجارة لم تجز الصدقة، وقيل: جوابه في الصدقة فيما إذا كان فيها ساكن بأجر أو بغير أجر يوافق جوابه في الهبة وجوابه في الصدقة فيما إذا كان هو الساكن أو كان فيها متاعه يخالف جوابه في الهبة *فالمروي عنه في الهبة إذا كان الواهب في الدار أو كان فيها متاع الواهب أنه لا يجوز* وكما أن الهبة تفتقر إلى القبض فالصدقة تفتقر إلى القبض فيكون في المسألتين روايتان عنه، كذا في المحيط والذخيرة.»

*الفتاوى التاتارخانیة: (فیما یجوز من الھبة وما لا یجوز، نوع منه، 431/14، ط: رشیدیه کوئته)*
"و في المنتقى عن أبي يوسف: لايجوز للرجل أن يهب لامرأته و أن تهب لزوجها أو لأجنبي دارًا وهما فيها ساكنان، و كذلك الهبة للولد الكبير؛ لأن يد الواهب ثابتة علي الدار".

*الدر المختار: (689/5، ط: سعید)*
"بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة"

*الھندیة: (378/4، ط: دار الفکر)*
لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار،هكذا في الفصول العمادية.

الهندية: (301/2، ط: دار الفكر)
الشركة نوعان شركة ملك وهي أن يتملك رجلان شيئا من غير عقد الشركة بينهما، كذا في التهذيب.. وشركة الملك نوعان: شركة جبر، وشركة اختيار ... وشركة الاختيار أن يوهب لهما مال أو يملكا مالا باستيلاء أو يخلطا مالهما، كذا في الذخيرة أو يملكا مالا بالشراء أو بالصدقة، كذا في فتاوى قاضي خان أو يوصى لهما فيقبلان، كذا في الاختيار شرح المختار، وركنها اجتماع النصيبين، وحكمها وقوع الزيادة على الشركة بقدر الملك..الخ

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster