سوال:
1) ایک شخص سڑک کے حادثے میں انتقال کر گیا، اس کے پسماندگان میں ایک بیٹا، ایک بیٹی، والد، بیوی اور دو چھوٹے بھائی ہیں۔
مرحوم کے ترکہ میں ایک موٹر سائیکل، جس کی مالیت تقریباً 100,000 روپے ہے۔ ایک گائے، جس کی مالیت تقریباً 100,000 روپے ہے۔ ایک پلاٹ، جس کی مالیت تقریباً 300,000 روپے ہے۔ ایک موبائل فون، جس کی مالیت تقریباً 20,000 روپے ہے، یعنی ٹوٹل پانچ لاکھ بیس ہزار (520000) روپے ہیں۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ مرحوم کی میراث کس کس کو اور کس تناسب سے ملے گی؟ نیز کیا مرحوم کے دو بھائی بھی اس میراث میں کسی حصے کے مستحق ہوں گے؟
2) مزید اس بارے میں بھی وضاحت مطلوب ہے کہ اگر مرحوم کی بیوہ اپنے دیور سے نکاح نہ کرے تو نابالغ بچوں کی پرورش اور رہائش کا حق کس کو حاصل ہوگا؟ کیا بچے اپنی والدہ کے ساتھ رہیں گے یا اپنے دادا کے ساتھ رہیں گے؟
3) نیز اگر بیوہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لے تو ایسی صورت میں بچوں کی حضانت (پرورش و رہائش) کا شرعی حکم کیا ہوگا؟ کیا بچے اپنی والدہ کے ساتھ رہیں گے یا ان کی حضانت کسی اور کو منتقل ہو جائے گی؟
جواب: 1) واضح رہے کہ پوچھی گئی صورت میں مرحوم کا کل ترکہ بیوی، بیٹے، بیٹی اور والد کے درمیان ان کے شرعی حصوں کےمطابق تقسیم ہوگی، جبکہ مرحوم کے بھائیوں کو مرحوم کی میراث میں سے کچھ حصہ نہیں ملے گا۔
لہذا مرحوم کی تجہیز و تکفین کے جائز اور متوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل ترکہ پانچ لاکھ بیس ہزار (520000) روپے کو بہتر (72) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سےبیوی کو نو (9)، بیٹےکو چونتیس (34)، بیٹی کو سترہ (17) اور والد کو بارہ (12) حصے ملیں گے۔
اس تقسیم کی رو سے پانچ لاکھ بیس ہزار (520000) روپے میں سے بیوی کو پینسٹھ ہزار (65000) روپے، بیٹے کو دو لاکھ پینتالیس ہزار پان سو پچپن روپے اور پچپن پیسے (2,45,555.55)، بیٹی کو ایک لاکھ بائیس ہزار سات سو ستتر روپے اور ستتر پیسے (1,22,777.77) اور والد کو چھیاسی ہزار چھ سو چھیاسٹھ روپے اور چھیاسٹھ پیسے (86,666.66) ملیں گے۔
2) یتیم بچوں (لڑکے کی عمر سات سال ہونے تک اور لڑکی کی عمر نو سال ہونے تک) کی پرورش کی ذمّہ داری والدہ پر ہوگی، البتہ نان ونفقہ اور دیگر ضروری اخراجات دادا پر لازم ہیں، بشرطیکہ بچوں کی اپنی ملکیت میں کوئی مال نہ ہو، اگر بچوں کی اپنی ملکیت میں مال ہو تو دادا پر ان کا نان و نفقہ لازم نہیں ہوگا۔
3) بچوں کے غیر محرم سے شادی کرنے کی صورت میں پرورش کی ذمّہ داری نانی پر ہوگی اور اگر نانی زندہ نہ ہوں تو دادی پر ہوگی، جبکہ نان و نفقہ کی تفصیل جزء نمبر 2 کے مطابق ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکریم: (النساء، الایة: 11)*
يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِىٓ أَوْلَٰدِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ ٱثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَٰحِدَةً فَلَهَا ٱلنِّصْفُ ۚ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَٰحِدٍۢ مِّنْهُمَا ٱلسُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُۥ وَلَدٌ ۚ... الخ
*و قوله تعالیٰ: (النساء، الایة: 12)*
وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ... الخ
*الفتاوی الھندیة: (450/6، ط: دار الفکر)*
ويسقط الإخوة والأخوات بالابن وابن الابن وإن سفل وبالأب بالاتفاق.
*الدر المختار: (566/3، ط: دار الفکر)*
"(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية(وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى (وعن محمد أن الحكم في الأم والجدة كذلك) وبه يفتى لكثرة الفساد، زيلعي."
*الفتاوی الهندیة: (561/1، ط: دار الفکر)*
نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة....وبعد الفطام يفرض القاضي نفقة الصغار على قدر طاقة الأب وتدفع إلى الأم حتى تنفق على الأولاد، فإن لم تكن الأم ثقة تدفع إلى غيرها لينفق على الولد.
*الهداية: (488/2، ط: دار الکتب العلمیة)*
إنما تجب النفقة على الأب إذا لم يكن للصغير مال أما إذا كان فالأصل أن نفقة الإنسان في مال نفسه صغيرا كان أو کبیرا.
*الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: (کتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانة، 1/ 541، المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)*
*أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم* إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي. سواء لحقت المرتدة بدار الحرب أم لا، فإن تابت فهي أحق به كذا في البحر الرائق. وكذا لو كانت سارقة أو مغنية أو نائحة فلا حق لها هكذا في النهر الفائق. ولا تجبر عليها في الصحيح لاحتمال عجزها إلا أن يكون له ذو رحم محرم غيرها فحينئذ تجبر على حضانته كي لا يضيع بخلاف الأب حيث يجبر على أخذه إذا امتنع بعد الاستغناء عن الأم كذا في العيني شرح الكنز، *وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة*، وإن علت، *فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها* ، وإن علت كذا في فتح القدير. ذكر الخصاف في النفقات إن كانت للصغيرة جدة من قبل أبيها وهي أم أبي أمها فهذه ليست بمنزلة من كانت من قرابة الأم من جهة أمها كذا في البحر الرائق.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی