سوال:
محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک وراثت اور ہبہ سے متعلق مسئلہ دریافت کرنا ہے۔ براہِ کرم درج ذیل تفصیل کی روشنی میں شرعی رہنمائی فرمائیں:
ایک شخص تھا جس کے والدین کی میراث میں کچھ جائیداد اور کچھ نقد رقم آئی تھی، اس کے ساتھ اس کی سات بہنیں تھیں، یعنی کل ایک بھائی اور سات بہنیں وارث تھے۔ کچھ عرصہ بعد وراثت کی تقسیم کا ذکر ہوا تو اُس وقت اندازے کے مطابق ہر بہن کے حصے کی مالیت تقریباً دس ہزار روپے بنتی تھی۔
بھائی نے بہنوں کو ان کا حصہ دینے کی کوشش کی، لیکن چونکہ وہ ان کا اکلوتا بھائی تھا، اس لیے بہنوں نے باہمی رضامندی سے یہ طے کیا کہ وہ اپنا حصہ نہیں لیں گی۔ ساتوں بہنوں نے اپنی بڑی بہن کو اختیار دیا کہ وہ جو فیصلہ کرے گی سب کو منظور ہوگا۔ چنانچہ بڑی بہن نے بھائی سے کہا کہ ہم اپنا حصہ آپ کو معاف کرتے ہیں، آپ ہی اپنے پاس رکھیں۔ تمام بہنوں نے اُس وقت اس فیصلے کو قبول بھی کیا اور بعد میں بھی ہمیشہ یہی کہا کہ ہم نے خوشی سے اپنا حصہ چھوڑ دیا تھا۔
اس کے بعد کافی طویل عرصہ گزر گیا، بھائی کا بھی انتقال ہوگیا اور سات بہنوں میں سے پانچ بہنوں کا بھی انتقال ہوچکا ہے، جبکہ دو بہنیں حیات ہیں، اب ان دو بہنوں میں سے ایک بہن یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ اگرچہ انہوں نے پہلے اپنا حصہ معاف کردیا تھا، لیکن اب ان کے خیال میں شرعاً ان کا حصہ بنتا ہے، اس لیے وہ اپنا حصہ لینا چاہتی ہیں۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ اگر وہ حصہ نہ لیں تو ان کا مرحوم بھائی گناہگار ہوگا۔ اس مطالبے کا رخ وہ اپنی بھابی (مرحوم بھائی کی بیوہ) کی طرف کر رہی ہیں۔
مزید تفصیل یہ ہے کہ مرحوم بھائی کے پاس بعد میں صرف ایک مکان تھا، اس مکان کی خریداری میں مرحوم بھائی کی رقم کے ساتھ ان کی اہلیہ (بھابی) کا سونا وغیرہ بیچ کر لگایا گیا تھا، یعنی مکان میں اہلیہ کا بھی حصہ شامل تھا۔ بعد میں مرحوم بھائی نے اپنی زندگی ہی میں وہ مکان اپنی اہلیہ کو ہبہ (گفٹ) کردیا تھا، یہ ہبہ اولاد اور گواہوں کی موجودگی میں ہوا تھا اور مکان اہلیہ کے قبضے میں بھی تھا۔ اب درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:
کیا بہنوں کی طرف سے اپنی رضامندی سے حصہ معاف کردینا شرعاً معتبر تھا؟
کیا اب اتنے سال گزرنے کے بعد وہ بہن دوبارہ اپنے حصے کا مطالبہ کرسکتی ہے؟ (اور مطالبہ بھی اپنی بھابھی سے کررہی ہیں جبکہ وہ اب بیوہ ہیں اور اسی حالت میں اپنے بچوں کی پرورش اور شادیاں سب انتظامات کیے ہیں)
کیا واقعی مرحوم بھائی اس صورت میں گناہگار ہوگا جبکہ اس نے حصہ دینے کی پیشکش کی تھی اور بہنوں نے خود معاف کردیا تھا؟
اگر بہن کا حق بنتا بھی ہو تو کیا وہ پورے مکان میں ہوگا یا صرف اُس حصے میں جو حقیقتاً مرحوم بھائی کی ملکیت تھا؟ جبکہ مکان کا کچھ حصہ اہلیہ کی رقم سے خریدا گیا تھا اور بعد میں مرحوم بھائی اپنی زندگی میں مکان اہلیہ کو ہبہ بھی کرچکے تھے تو کیا اب وہ مکان مکمل طور پر اہلیہ کی ملکیت شمار ہوگا؟
اگر کسی درجے میں بہن کا مالی حق باقی مانا جائے تو کیا صرف اُس وقت کی متعین رقم (تقریباً دس ہزار روپے) واجب ہوگی یا موجودہ مالیت/تناسب کے حساب سے رقم دیکھی جائے گی؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً
تنقیح: محترم اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ بھائی کی اہلیہ نے جو گھر خریدنے کے لیے زیور وغیرہ فروخت کرکے رقم دی تھی تو وہ رقم انہوں نے اپنے شوہر کو قرض دی تھی یا ہبہ (Gift) کی تھی؟ اس وضاحت کے بعد ان شاءاللہ آپ کے سوال کا جواب دیا جائے گا ۔
جواب تنقیح: قرض کے طور پر دی تھی۔
تنقیح ثانی: محترم یہ وضاحت فرمائیں کہ بھائی کی اہلیہ نے مکان کی خریداری کے لیے اپنے شوہر کو قرض زیور کی صورت میں دیا تھا یا رقم کی شکل میں دیا تھا؟
جوابِ تنقیح ثانی: بیوی نے شوہر کو قرض زیور کی شکل میں دیا تھا۔
جواب: واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں وراثت ایک ایسا لازمی حق ہے، جو محض معاف کردینے یا زبانی طور پر دستبردار ہوجانے سے ساقط نہیں ہوتا، لہٰذا تقسیمِ میراث سے پہلے کسی وارث کا بغیر کسی عوض کے اپنے حصے سے دستبردار ہونا، یا یہ کہنا کہ “ہم اپنا حصہ معاف کرتے ہیں” شرعاً معتبر نہیں۔
چنانچہ سوال میں ذکر کردہ صورت کے مطابق بہنوں نے جو زبانی طور پر اپنا حق اپنے بھائی کو معاف کردیا تھا، وہ شرعاً معتبر نہیں تھا، اس لیے جو بہنیں اِس وقت حیات ہیں انہیں ان کا شرعی حصہ دینا لازم ہے، اور جن بہنوں کا انتقال ہوچکا ہے، ان کے حصے ان کے شرعی ورثاء کو دیے جائیں گے، لہٰذا اب اگر کوئی بہن اپنے حقِ میراث کا مطالبہ کررہی ہے تو اس کا یہ مطالبہ کرنا شرعاً درست ہے، البتہ زندہ بہن بھائیوں اور مرحوم بہن بھائیوں کے ورثاء میں میراث صرف اس مال میں جاری ہوگی جو حقیقتاً مرحوم والدین کی ملکیت تھا۔
لہذا بھائی کی اہلیہ نے جو اپنا زیور بطور قرض اپنے شوہر کو دیا تھا، سب سے پہلے اتنا زیور یا اس کی موجودہ قیمت ان کی اہلیہ کو واپس کی جائے گی، اور اس کے بعد باقی مکان کو ورثاء میں شرعی حصص کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
مزید یہ کہ اگر ترکہ میں نقد رقم موجود تھی تو اتنی مقدار کی رقم ہی تقسیم کی جائے گی جو حقیقتاً موجود تھی، جبکہ جائیداد وغیرہ کی صورت میں موجود ترکہ کی تقسیم موجودہ مالیت کے اعتبار سے ہوگی۔
نیز چونکہ بھائی بہنوں کو ان کا شرعی حصہ دینے پر آمادہ تھے، لیکن بہنوں نے خود اپنا حصہ وصول نہیں کیا تھا، اس لیے ان شاء اللہ اس معاملے میں ان کو کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الدر المختار:(کتاب الھبة،690/5،ط:سعید)*
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه، أو دابةً عليها سرجه وسلمها كذلك لاتصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن وصدقة؛ لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية.
*تکملة رد المحتار: (505/7، ط: سعید)*
"الإرث جبري لَا يسْقط بالإسقاط".
*الأشباہ و النظائر: (ما یقبل الاسقاط من الحقوق، ص: 309، ط: قدیمی)*
"لَوْ قَالَ الْوَارِثُ: تَرَكْتُ حَقِّي لَمْ يَبْطُلْ حَقُّهُ؛ إذْ الْمِلْكُ لَا يَبْطُلُ بِالتَّرْك".
*العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (2/ 84)*
(سئل) فيما إذا دفعت هند لزيد مبلغا معلوما من الدراهم على سبيل القرض فطالبته بالمبلغ المزبور فقال إنك دفعته لي هبة وقالت بل قرضا فهل يكون القول قولها بيمينها في ذلك وعليه رد مثل القرض المزبور؟
(الجواب) : نعم دفع لآخر عينا ثم اختلفا فقال الدافع قرض وقال الآخر هدية فالقول قول الدافع كذا في القول لمن عن البزازية ومثله في الخانية دفع إليه دراهم فقال أنفقها ففعل فهو قرض كما لو قال اصرفها إلى حوائجك
*رد المحتار: (کتاب البیوع ، فصل فی القرض، 162/5، ط: دارالفکر)*
(فيصح استقراض الدراهم والدنانير وكذا) كل (ما يكال أو يوزن أو يعد متقاربا.
*وفیه ایضاً: (كتاب البيوع، 177/5، ط:دار الفكر)*
فإذا استقرض مائة دينار من نوع فلا بد أن يوفي بدلها مائة من نوعها الموافق لها في الوزن أو يوفي بدلها وزنا لا عددا.
*وفیه ایضاً: (کتاب الرهن، فصل فی مسائل متفرقة، 525/6، ط: دارالفکر)*
مطلب في قولهم الديون تقضى بأمثالها...قد قالوا إن الديون تقضى بأمثالها...الخ.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی