resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: اولاد کی موجودگی میں دیگر رشتہ داروں کی وراثت کا حکم

(42024-No)

سوال: میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایک عورت کی جائیداد میں اس کی اولاد کے علاوہ بھی دوسرے رشتہ دار وارث ہوتے ہیں؟ اسی طرح اگر ایک مرد کی اولاد موجود ہو تو کیا اس کی جائیداد میں بھی دوسرے رشتہ دار وارث بن سکتے ہیں؟

جواب: واضح رہے کہ کسی بھی مرد یا عورت کے انتقال کے بعد اس کی جائیداد شریعت کے مقرر کردہ وارثوں میں تقسیم کی جاتی ہے۔ اسلامی قانون وراثت میں صرف اولاد ہی وارث نہیں ہوتی، بلکہ بعض اوقات اولاد کے ہوتے ہوئے بھی دیگر رشتہ دار بھی وارث بن رہے ہوتے ہیں۔
لہٰذا اگر کسی عورت کا انتقال ہو جائے تو اس کی اولاد کے ساتھ ساتھ اس کا شوہر، والدین یا دیگر قریبی رشتہ دار بھی اپنے اپنے شرعی حصے کے مطابق وارث ہوتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی مرد کا انتقال ہو اور اس کی اولاد موجود ہو، تب بھی بعض دیگر رشتہ دار جیسے: بیوی یا والدین وغیرہ وراثت میں حصہ دار بن سکتے ہیں۔
البتہ کون سا رشتہ دار کس صورت میں وارث ہوگا اور اسے کتنا حصہ ملے گا، یہ میت کے تمام ورثاء کی تفصیل کے بعد بتایا جاسکتا ہے، لہذا آپ کو اگر میراث کی تقسیم میں کوئی خاص صورت در پیش ہو تو اس کو تحریر کرکے دوبارہ سوال ارسال کرسکتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*القرآن الکریم: (النساء، الایة:11-12)*
یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْۗ-لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ-فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۚ-وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُؕ-وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌۚ-فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُۚ-فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ-اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًاؕ-فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا(11) وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌۚ-فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ-وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌۚ-فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ-وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُۚ-فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍۙ-غَیْرَ مُضَآرٍّۚ-وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌﭤ(12)

*رد المحتار: (759/6، ط: دار الفكر)*
التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.

*الفتاوى الهندية: (6/ 447، ط: دار الفکر)*
*التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث* . فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف، كذا في المحيط ويستثنى من ذلك حق تعلق بعين كالرهن والعبد الجاني فإن المرتهن وولي الجناية أولى به من تجهيزه، كذا في خزانة المفتين ويكفن في مثل ما كان يلبس من الثياب الحلال حال حياته على قدر التركة من غير تقتير ولا تبذير ، كذا في الاختيار شرح المختار ثم بالدين وأنه لا يخلو إما أن يكون الكل ديون الصحة أو ديون المرض، أو كان البعض دين الصحة والبعض دين المرض، فإن كان الكل ديون الصحة أو ديون المرض فالكل سواء لا يقدم البعض على البعض، وإن كان البعض دين الصحة والبعض دين المرض يقدم دين الصحة إذا كان دين المرض ثبت بإقرار المريض، وأما ما ثبت بالبينة أو بالمعاينة فهو ودين الصحة سواء، كذا في المحيط ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدي ن إلا أن تجيز الورثة أكثر من الثلث *ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث.*

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster