سوال:
میرا سوال یہ ہے کہ میری والدہ نے اپنی زندگی میں اپنے ایک ذاتی مکان (جو انہوں نے عمر بھر ملازمت کرکے بنایا تھا)کے بارے میں وصیت کی تھی کہ وہ ہم تین بہنوں کے نام ہوگا۔ اس کے متعلق ہماری خالاؤں کو بھی بتایا گیا اور انہوں نے اپنی رضا مندی سے ایک تحریری کاغذ پر دستخط کیے کہ وہ اس وصیت پر راضی ہیں۔ اس میں گواہ (میں، میری بہن اور میرے شوہر)بھی موجود ہیں۔
ابتداء میں وہ اس پر راضی تھیں لیکن کچھ عرصہ بعد انہوں نے اپنے گھر والوں (داماد وغیرہ) کے کہنے پر دوبارہ اس مکان کا حصہ مانگنا شروع کر دیا ہے اور یہ کہہ رہی ہیں کہ اس وقت انہیں پوری سمجھ نہیں تھی یا پراپرٹی کی ویلیو کا اندازہ نہیں تھا۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ شریعت کی رو سے اس صورت میں ان کا دوبارہ مطالبہ کرنا جائز ہے یا نہیں اور کیا ان کا پہلے دستخط کرنا شرعاً معتبر ہوگا یا نہیں؟
جزاکم اللہ خیراً
جواب: واضح رہے کہ شرعاً وارث کے حق میں کی گئی وصیت معتبر نہیں ہوتی، لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ کی والدہ کا اپنی بیٹیوں کے لیے مکان کی وصیت کرنا غیر معتبر تھا، ان کا اس سے رجوع کرنا درست ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*سنن الترمذی: (باب ما جاء لا وصية لوارث، رقم الحدیث: 2121، ط: دارالغرب الاسلامي)*
عن عمرو بن خارجة، ان النبي صلى الله عليه وسلم خطب على ناقته، وانا تحت جرانها، وهي تقصع بجرتها، وإن لعابها يسيل بين كتفي فسمعته يقول: " إن الله اعطى كل ذي حق حقه، ولا وصية لوارث
*مشکاۃ المصابیح: (رقم الحدیث: 3074)*
عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہما عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: "لا وصیة لوارث إلا أن یشاء الورثة".
*عمدۃ القاری: (باب لا وصیة للوارث، 55/14، ط: دار الکتب العلمیة)*
وقال المنذري: "إنما یبطل الوصیة للوارث في قول أکثر أہل العلم من أجل حقوق سائر الورثة، فإذا أجازوہا جازت، کما إذا أجازوا الزیادۃ علی الثلث".
*حاشية ابن عابدين = (رد المحتار): (کتاب الوصایا، 658/6، ط: الحلبی)*
(وَلَهُ) أَيْ لِلْمُوصَى (الرُّجُوعُ عَنْهَا بِقَوْلٍ صَرِيحٍ) أَوْ فِعْلٍ يَقْطَعُ حَقَّ الْمَالِكِ عَنْ الْغَصْبِ (بِأَنْ يُزِيلَ اسْمَهُ)
(قَوْلُهُ وَلَهُ الرُّجُوعُ عَنْهَا) لِأَنَّ تَمَامَهَا بِمَوْتِ الْمُوصِي، وَلِأَنَّ الْقَبُولَ يَتَوَقَّفُ عَلَى الْمَوْتِ وَالْإِيجَابُ الْمُفْرَدُ يَجُوزُ إبْطَالُهُ فِي الْمُعَاوَضَاتِ كَالْبَيْعِ، فَفِي التَّبَرُّعِ أَوْلَى عِنَايَةٌ
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی