resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: والد کا بیٹے کی جائیداد کو اس کی رضامندی کے بغیر دیگر اولاد میں تقسیم کرنا

(41992-No)

سوال: مفتی صاحب! کیا والد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی ذاتی زمین کو اس کے بھائیوں کے درمیان میں تقسیم کردے؟ نیز کیا والد کو بیٹے کی ملکیت میں تصرف کرنے کا حق حاصل ہے؟

جواب: واضح رہے کہ اسلامی شریعت میں ملکیت (Ownership) کا اصول نہایت واضح اور منصفانہ ہے اور وہ اصول یہ ہے کہ ہر شخص اپنی محنت اور کمائی کا خود مالک ہوتا ہے، اس کی ملکیت میں کسی دوسرے کو اس کی اجازت کے بغیر تصرّف کا اختیار حاصل نہیں ہوتا، لہذا شریعت میں کسی کے مال کو اس کی اجازت کے بغیر دوسرے کو دینا یا تقسیم کرنا جائز نہیں ہے۔ قرآنِ کریم میں بھی واضح ہدایت ہے کہ ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ۔ (البقرة، الآية: ١٨٨)
اسی اصول کی روشنی میں اگر کوئی بیٹا اپنی ذاتی محنت، کاروبار یا ملازمت کی کمائی سے کوئی جائیداد خریدتا ہے تو وہ جائیداد مکمل طور پر اسی کی ملکیت شمار ہوگی اور ایسی صورت میں والد کو یہ حق حاصل نہیں ہوتا کہ وہ اس جائیداد کو اپنی دیگر اولاد میں تقسیم کرے، کیونکہ یہ مال نہ تو والد کی ملکیت ہے اور نہ ہی خاندانی وراثت کا حصہ ہے۔
البتہ والد کا مقام اور احترام اپنی جگہ انتہائی اہم ہے، اور اولاد پر لازم ہے کہ وہ والد کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، ان کی ضروریات کا خیال رکھے، اور اپنی حیثیت کے مطابق ان کی خدمت کرے۔ اگر بیٹا اپنی خوشی سے اپنی جائیداد میں سے کچھ حصہ والد کو دینا چاہے یا دیگر بہن بھائیوں کے ساتھ تعاون کرے تو یہ اس کا احسان اور نیکی ہوگی، لیکن اسے زبردستی اس پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
خلاصہ یہ ہے کہ بیٹے کی ذاتی کمائی سے خریدی گئی جائیداد صرف اسی کی ملکیت ہے، والد کو اس میں بیٹے کی مرضی اور اجازت کے بغیر تصرّف یا اسے دیگر اولاد میں تقسیم کرنے کا شرعی حق حاصل نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*القرآن المجید: (البقرة، الآية: 188)*
وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ

*حاشية السندي على سنن ابن ماجه:(2/ 43)*
"وظاهر الحديث أن للأب أن يفعل في مال ابنه ما شاء، كيف وقد جعل نفس الابن بمنزلة العبد مبالغةً، لكن الفقهاء جوّزوا ذلك للضرورة. وفي الخطابي يشبه أن يكون ذلك في النفقة عليه بأن يكون معذورًا يحتاج إليه للنفقة كثيرًا، وإلّا يسعه فضل المال، والصرف من رأس المال يجتاح أصله ويأتي عليه فلم يعذره النبي صلى الله عليه وسلم ولم يرخص له في ترك النفقة، وقال له: أنت ومالك لوالدك، على معنى أنه إذا احتاج إلى مالك أخذ منه قدر الحاجة، كما يأخذ من مال نفسه، فأما إذا أردنا به إباحة ماله حتى يجتاح ويأتي عليه لا على هذا الوجه، فلاأعلم أحدًا ذهب إليه من الفقهاء".

*التيسير بشرح الجامع الصغير :(2/ 210)*
" عَن أبي هُرَيْرَة ......... كل أحد أَحَق بِمَالِه من وَالِده وَولده وَالنَّاس أَجْمَعِينَ) لَايناقضه "أَنْت وَمَالك

لأَبِيك"؛ لِأَن مَعْنَاهُ إِذا احْتَاجَ لمَاله أَخذه، لَا أَنه يُبَاح لَهُ مَاله مُطلقًا".

*شرح سنن الترمذي: (20/ 262)*
"وفي حديث جابر: أنت ومالك لأبيك. قال ابن رسلان: اللام للإباحة لا للتمليك، لأنّ مال الولد له وزكاته عليه وهو موروث عنه، انتهى".


*مجلة الأحكام العدلية: (ص: 27)*
(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster