resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: والدین (میاں بیوی) کا ٹریفک حادثہ میں ایک ساتھ انتقال ہو جانے پر میراث کی تقسیم

(41941-No)

سوال: سوال یہ ہے کہ ہمارے والدین ایک کار حادثہ میں ڈرائیور سمیت جاں بحق ہوگئے تھے یہ معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ والدین میں سے کس کی روح پہلے پرواز کرگئی تھی، والدین کے انتقال کے انیس (19) سال بعد ان کے بیٹے کا بھی انتقال ہوگیا، اب جائیداد تقسیم ہورہی ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ مرحوم والدین کے دو بیٹے اور چھ بیٹیاں ہیں جن میں سے ایک بیٹے کا انتقال ہوگیا ہے، جس نے ایک بیٹی اور بیوہ کو چھوڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان کے درمیان تقسیم کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں جبکہ یہ معلوم نہ ہو کہ والدین میں سے کس کا انتقال پہلے اور کس کا بعد میں ہوا ہے تو یہ دونوں (میاں بیوی) ایک دوسرے کی میراث کے حق دار نہیں ہوں گے، یعنی آپ کے والد (شوہر) کے متروکہ مال میں سے آپ کی والدہ (بیوی) کو حصہ نہیں ملے گا اور آپ کی والدہ (بیوی) کے متروکہ مال سے آپ کے والد (شوہر) کو حصہ نہیں ملے گا۔ مذکورہ تفصیل کے مطابق ورثاء کے درمیان وراثت کی تقسیم درج ذیل طریقہ سے ہوگی:
والد/شوہر کی میراث کی تقسیم:
مرحوم والد کی تجہیز و تکفین کے جائز اور متوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل میراث کو تین سو بیس (320) حصوں میں تقسیم کی جائے گی، جس میں سے زندہ بیٹے کو ستّر (70) حصے، چھ بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو پینتیس (35) حصے، مرحوم بیٹے کی بیوہ کو آٹھ (8) حصے اور مرحوم بیٹےکی بیٹی کو بتیس (32) حصے ملیں گے۔
فیصد کے اعتبار سے زندہ بیٹے کو % 21.875 فیصد حصہ، چھ بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو %10.937 فیصد حصہ، مرحوم بیٹے کی بیوہ کو %2.5 فیصد حصہ اور مرحوم بیٹےکی بیٹی کو %10 فیصد حصہ ملے گا۔
والدہ/بیوی کی میراث کی تقسیم:
اگر مرحومہ کا اپنا مال ہو تو مرحومہ کی قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد مرحومہ کی کل میراث کل کو تین سو بیس (320) حصوں میں تقسیم کی جائے گی، جس میں سے زندہ بیٹے کو ستّر (70) حصے، چھ بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو پینتیس (35) حصے، مرحوم بیٹے کی بیوہ کو آٹھ (8) حصے اور مرحوم بیٹےکی بیٹی کو بتیس (32) حصے ملیں گے۔
فیصد کے اعتبار سے زندہ بیٹے کو % 21.875 فیصد حصہ، چھ بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو %10.937 فیصد حصہ، مرحوم بیٹے کی بیوہ کو %2.5 فیصد حصہ اور مرحوم بیٹےکی بیٹی کو %10 فیصد حصہ ملے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (النساء، الایة: 11)
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ ... الخ

السراجي فى الميراث:(فصل في الغرقى والحرقى، ص:59، ط:رحمانية)
"إذا ماتت جماعة ولا يدرى مات اولا جعلوا كأنهم ماتوا معا فمال كل واحد منهم لورثته الأحياء ولا يرث بعض الأموات من بعض هذا هو المختار."

حاشية ابن عابدين = رد المحتار: ( 206/2، - ط: الحلبي)
(واختلف في الزوج والفتوى على وجوب كفنها عليه) عند الثاني (وإن تركت مالا) خانية ورجحه في البحر بأنه الظاهر لأنه ككسوتها
مطلب في كفن الزوجة على الزوج
(قوله: واختلف في الزوج) أي في وجوب كفن زوجته عليه (قوله عند الثاني) أي أبي يوسف وأما عند محمد فلا يلزمه لانقطاع الزوجية بالموت، وفي البحر عن المجتبى أنه لا رواية عن أبي حنيفة لكن ذكر في شرح المنية عن شرح السراجية لمصنفها أن قول أبي حنيفة كقول أبي يوسف (قوله: وإن تركت مالا إلخ) اعلم أنه اختلفت العبارات في تحرير قول أبي يوسف ففي الخانية والخلاصة والظهيرية: أنه يلزمه كفنها، وإن تركت مالا وعليه الفتوى وفي المحيط والتجنيس والواقعات وشرح المجمع لمصنفه إذا لم يكن لها مال فكفنها على الزوج وعليه الفتوى وفي شرح المجمع لمصنفه إذا ماتت ولا مال لها فعلى الزوج الموسر اه ومثله في الأحكام عن المبتغى بزيادة وعليه الفتوى ومقتضاه أنه لو معسرا لا يلزمه اتفاقا وفي الأحكام أيضا عن العيون كفنها في مالها إن كان وإلا فعلى الزوج ولو معسرا ففي بيت المال. اه. والذي اختاره في البحر لزومه عليه موسرا أو لا لها مال أو لا لأنه ككسوتها وهي واجبة عليه مطلقا قال: وصححه في نفقات الولوالجية. اه.

الفتاوى الهندية: (1/ 161، ط: دارالفکر)
ومن لم يكن له مال فالكفن على من تجب عليه النفقة إلا الزوج في قول محمد - رحمه الله تعالى - وعلى قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - يجب الكفن على الزوج وإن تركت مالا وعليه الفتوى، هكذا في فتاوى قاضي خان.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster