سوال:
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته! ہمارا گھر ڈھائی کروڑ میں سیل ہو رہا ہے، ورثاء میں پانچ بیٹے اور سات بیٹیاں ہیں، جس میں چار بیٹیوں کا انتقال ماں باپ کے انتقال کے بعد ہوا ہے، پہلے ماں باپ کا انتقال ہوا ہے اُس کے بعد بیٹیوں کا انتقال ہوا ہے۔ ابھی فی الحال تین بیٹیاں اور پانچ بیٹے حیات ہیں، معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا فوت ہوئی بیٹیوں کو بھی حصہ ملے گا ؟ باقی بیٹیوں کے حصے میں کیا آئے گا اور بیٹوں کے حصے میں کیا آئے گا؟ آپ اس بارے میں ہمیں تفصیل سے بتادیں، آپ کی مہربانی ہوگی۔ شکریہ
جواب: مرحوم والدین کی تجہیز وتکفین کے جائز اورمتوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل رقم ڈھائی کروڑ (25000000) کو سترہ (17) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے پانچوں لڑکوں میں سے ہر ایک لڑکے کو دو (2) حصے اور ساتوں لڑکیوں میں سے ہر ایک لڑکی کو ایک (1) حصہ ملے گا۔
اس تقسیم کی رو سے ڈھائی کروڑ (25000000) روپوں میں سے پانچوں لڑکوں میں سے ہر ایک لڑکے کو انتیس لاکھ اکتالیس ہزارایک سو چہتر روپے اور چار سو ستر پیسے (29,41,176.470) ملیں گے، جبکہ ساتوں لڑکیوں میں سے ہر ایک لڑکی کو چودہ لاکھ ستر ہزار پانچ سو اٹھاسی روپے اور دو سو پینتیس پیسے (14,70,588.235) ملیں گے۔
*نوٹ:* جن چار بیٹیوں کا انتقال والدین کے انتقال کے بعد ہوا ہے، ان کو والدین کی میراث میں سے ملنے والا حصہ ان کے شرعی ورثاء (شوہر اولاد) میں شریعت کے میراث کے قانون کے مطابق تقسیم ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکریم: (النساء، الایة: 11)*
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی